انٹرٹینمینٹتازہ ترین

اسلام آباد کے نواح میں کباڑ سے تخلیق تک: مجسمہ ساز احتشام جدون کے دیوہیکل شاہکار

جب میں کباڑ میں دھات دیکھتا ہوں تو فوراً اس کی ایک نئی شکل میرے ذہن میں ابھر آتی ہے

ناصر خان خٹک-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

اسلام آباد کے مضافاتی علاقے میں قائم ایک بڑی ورکشاپ سے اُڑتی چنگاریاں اور دھاتوں کے ٹکرانے کی گونج دار آوازیں دور سے ہی توجہ کھینچ لیتی ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں 35 سالہ پاکستانی آرٹسٹ احتشام جدون پرانی گاڑیوں کے ناکارہ پرزوں کو دیوہیکل مجسموں میں ڈھال رہے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ان کا سٹوڈیو گیئرز، زنجیروں، ہب کیپس، انجن کے پرزوں اور بھاری دھات سے بھرا ہوا ہے۔ اسی بے ترتیب دکھائی دینے والے کباڑ کے درمیان ان کے بنائے گئے شاندار اور طاقتور مجسمے ایستادہ نظر آتے ہیں، جو دیکھنے والوں کو حیران کر دیتے ہیں۔


’کباڑ میں بھی زندگی نظر آتی ہے‘

احتشام جدون کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے دھات کی اشیاء سے متاثر رہے ہیں۔
“جب میں کباڑ میں دھات دیکھتا ہوں تو فوراً اس کی ایک نئی شکل میرے ذہن میں ابھر آتی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ اسے کس طرح دوبارہ زندگی دی جا سکتی ہے،” وہ مسکراتے ہوئے بتاتے ہیں۔

ہر ہفتے وہ اسلام آباد کے مختلف کباڑخانوں کا رخ کرتے ہیں، جہاں ٹنوں کے حساب سے پڑی ضائع شدہ دھات میں سے ایسے پرزے تلاش کرتے ہیں جو ان کے تخیل میں کسی نئے وجود کا حصہ بن سکیں۔

مقامی کباڑ خانے کے مالک بوسطان خان کے مطابق، “جو چیز ہمارے لیے بے کار ہوتی ہے، احتشام اسے اپنے ہاتھوں سے قیمتی بنا دیتے ہیں۔”


’ٹرانسفارمرز‘ سے متاثر شاہکار

احتشام جدون کی اب تک کی سب سے بڑی تخلیق ہالی وڈ فلم Transformers سے متاثر ایک دیوہیکل مجسمہ ہے۔ یہ شاہکار فلم کے مرکزی کردار Optimus Prime پر مبنی ہے، جسے مکمل کرنے میں کئی مہینے لگے۔

اس مجسمے کے 90 فیصد سے زائد پرزے ناکارہ گاڑیوں سے حاصل کیے گئے ہیں۔

  • بازو موٹر سائیکل کے سپرنگز سے تیار کیے گئے۔

  • کندھے کار کے رمز سے تراشے گئے۔

  • ریڑھ کی ہڈی فیول ٹینک سے بنائی گئی۔

  • گھٹنے زنجیروں اور سسپنشن کے پرزوں سے جوڑے گئے۔

  • حتیٰ کہ آنکھیں بھی گاڑی کے بیرنگز سے تخلیق کی گئیں۔

یہ باریک بینی اور تخلیقی مہارت اس مجسمے کو نہایت پیچیدہ اور حقیقت سے قریب تر بنا دیتی ہے۔


بغیر باقاعدہ تعلیم، مگر غیر معمولی مہارت

دلچسپ بات یہ ہے کہ احتشام جدون نے آرٹ کی کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی۔ وہ ماضی میں مارشل آرٹسٹ رہ چکے ہیں اور اپنے ماڈلز کو کام کے دوران ہی ڈیزائن کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے، “میں کسی دھاتی بلاک کو دیکھ کر اس کی ممکنہ شکل کا تصور کر لیتا ہوں۔ پھر بس وہ ایک پزل بن جاتا ہے جسے میں حل کر کے حقیقت کا روپ دے دیتا ہوں۔”

وہ زیادہ تر دیوقامت، طاقتور اور کسی حد تک وحشی انداز کے مجسمے بناتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تخلیقات طاقت اور جارحیت کی علامت ہیں، اور شاید ان کی اپنی فائٹر شخصیت کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔


خطرات اور عزم

دھات کو کاٹنے اور ویلڈنگ کے دوران اُڑنے والی چنگاریاں ان کی آنکھوں کو متاثر کرتی ہیں، جبکہ ہاتھوں اور بازوؤں پر اکثر زخم بھی لگ جاتے ہیں۔ احتشام کو ہر ہفتے ڈاکٹر سے معائنہ کروانا پڑتا ہے۔

اس کے باوجود وہ اپنے کام سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ان کے بقول، “یہی وہ کام ہے جس کے ذریعے میں اپنی توانائی کو مثبت انداز میں استعمال کر سکتا ہوں۔”


کباڑ سے فن تک کا سفر

احتشام جدون کا فن نہ صرف ری سائیکلنگ کی عملی مثال ہے بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ تخلیقی ذہن کے لیے بے کار شے بھی امکانات سے بھرپور ہو سکتی ہے۔ ان کی ورکشاپ میں پڑا ہر زنگ آلود پرزہ ایک نئی کہانی کا آغاز بن سکتا ہے۔

اسلام آباد کے نواح میں قائم یہ سٹوڈیو آج محض ایک ورکشاپ نہیں بلکہ دھات، تخیل اور عزم کے امتزاج سے جنم لینے والی ایک تخلیقی دنیا بن چکا ہے، جہاں کباڑ دیوہیکل شاہکاروں میں ڈھل کر نئی زندگی پاتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button