مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران پر مشترکہ امریکی۔اسرائیلی حملہ: خطے میں نئی جنگ، حکومت کی تبدیلی کے اشارے اور غیر یقینی مستقبل

ایران نے فوری طور پر خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے ہیں۔

رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز

28 فروری کی صبح مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے جغرافیائی اور سیاسی زلزلے سے دوچار ہوا جب امریکہ اور اسرائیل کی افواج نے ایران کے خلاف ایک وسیع پیمانے پر مشترکہ فوجی کارروائی کا آغاز کیا۔ واشنگٹن اور تل ابیب کی جانب سے کی گئی اس کارروائی کو بعض امریکی حکام نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا ہے، جس کا دائرہ کار اور شدت مبینہ طور پر جون 2025 کی محدود جھڑپوں سے کہیں زیادہ وسیع بتائی جا رہی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی نے ایک ڈرامائی موڑ اس وقت اختیار کیا جب ایران نے تصدیق کی کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ اعلان سرکاری ٹیلی وژن پر ایک مختصر مگر غیر معمولی خطاب کے ذریعے کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ “قومی مزاحمت جاری رہے گی” اور “دشمن کو اس کے اقدامات کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔”

یہ پیش رفت خطے کو ایک غیر یقینی اور ممکنہ طور پر طویل تنازع کی طرف دھکیل سکتی ہے، جب کہ ایران نے فوری طور پر خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے ہیں۔

حملے کی تفصیلات: تہران پر فیصلہ کن وار

ایرانی حکام کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے تہران اور اس کے مضافات میں متعدد حساس اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فوجی کمانڈ مراکز اور اعلیٰ قیادت سے وابستہ مقامات شامل تھے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ایک میزائل حملے نے سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ کو براہِ راست نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خامنہ ای شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک بیان میں اس کارروائی کو “ایران کے خطرناک عزائم کے خلاف دفاعی قدم” قرار دیا، تاہم انہوں نے براہِ راست خامنہ ای کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

ایران کا فوری ردعمل: امریکی تنصیبات پر میزائلوں کی بارش

خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کے چند گھنٹوں بعد ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ انہوں نے “آپریشن انتقام” کے تحت خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے فوجیوں کے تحفظ کے لیے “ہر ضروری اقدام” کرے گا۔ انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر حملے جاری رہے تو اس کے نتائج “سنگین اور فیصلہ کن” ہوں گے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق عراق، قطر اور بحرین میں واقع امریکی تنصیبات پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے گئے۔ بعض اڈوں پر فضائی دفاعی نظام نے کئی میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے، تاہم نقصانات اور ہلاکتوں کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

حملوں کا دائرہ: فوجی تنصیبات سے رہائشی کمپاؤنڈ تک

ابتدائی اطلاعات کے مطابق امریکی اور اسرائیلی طیاروں اور میزائل نظاموں نے ایران کے مختلف فوجی اہداف، حساس تنصیبات، داخلی سلامتی کے مراکز اور جوہری پروگرام سے منسلک مقامات کو نشانہ بنایا۔ سیٹلائٹ تصاویر اور مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب بھی دھماکوں اور دھوئیں کے مناظر دیکھے گئے۔

غیر مصدقہ رپورٹس میں خامنہ ای کی ممکنہ موت کی قیاس آرائیاں کی گئیں، تاہم ایرانی سرکاری میڈیا اور حکام نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں “نفسیاتی جنگ” قرار دیا۔

تہران کی سڑکوں پر متضاد مناظر

ایران کے مختلف شہروں سے موصول ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں متضاد کیفیت دیکھنے کو ملی۔ بعض علاقوں میں شہریوں کو بالکونیوں سے نعرے لگاتے اور حکومت مخالف جذبات کا اظہار کرتے دیکھا گیا، جب کہ دیگر مقامات پر شدید خوف و ہراس، دھماکوں کی آوازیں اور ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

مقامی ذرائع نے ایک لڑکیوں کے اسکول پر حملے کی خبر دی جس میں درجنوں طالبات کے جاں بحق ہونے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ تنازع مزید انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

واشنگٹن اور تل ابیب کا مؤقف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نشری خطاب میں ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ “بمباری کے خاتمے کے بعد سڑکوں پر نکلیں اور اپنا ملک واپس لیں”، اور اسے “ایک نسل میں واحد موقع” قرار دیا۔ ان کے بیانات سے یہ تاثر ملا کہ اس مہم کا ایک واضح مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے درپیش “مستقبل کے خطرات” کو ختم کرنے کے لیے ضروری تھی۔ اسرائیلی قیادت طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ قرار دیتی آئی ہے۔

ایران کا جوابی وار

ایرانی حکام نے اعلان کیا کہ انہوں نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ کچھ اطلاعات کے مطابق عراق اور خلیجی ریاستوں میں امریکی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس دو بڑے آپشن ہیں:

  1. مکمل اور بھرپور عسکری ردعمل، جس سے جنگ خطے بھر میں پھیل سکتی ہے۔

  2. محدود جوابی کارروائی کے ذریعے کشیدگی کو قابو میں رکھنے کی کوشش، تاکہ حکومت اپنی بقا کو یقینی بنا سکے۔

“انتخاب کی جنگ” یا “ضرورت کی جنگ”؟

کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے سینئر فیلو کریم سجاد پور نے ایک گفتگو میں کہا کہ مستقبل کے مورخین اس تنازع کو ممکنہ طور پر “ضرورت کی جنگ” نہیں بلکہ “انتخاب کی جنگ” قرار دیں گے۔ ان کے مطابق، فوری طور پر ایران کی جانب سے جوہری حملے یا براہِ راست امریکی سرزمین پر خطرے کے شواہد موجود نہیں تھے، لیکن ایران کی حالیہ کمزوری کو ایک موقع کے طور پر دیکھا گیا۔

سجاد پور کے مطابق، ایران جون 2025 کی جھڑپوں کے بعد اپنی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول کھو چکا تھا، اس کے علاقائی اتحادی کمزور ہو چکے تھے، اور اندرون ملک حکومت مخالف مظاہروں نے ریاست کو دباؤ میں ڈال رکھا تھا۔

اندرونی بغاوت کا امکان؟

ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے واضح ہے کہ وہ ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ایرانی شہری، جنہوں نے حالیہ مہینوں میں سخت سکیورٹی کریک ڈاؤن کا سامنا کیا، دوبارہ بڑے پیمانے پر سڑکوں پر نکلنے کا حوصلہ کریں گے؟

ایرانی سکیورٹی فورسز ماضی میں احتجاجی تحریکوں کو سختی سے کچل چکی ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس پس منظر میں عوامی ردعمل غیر یقینی ہے۔

خطے کے لیے ممکنہ اثرات

یہ تنازع صرف ایران، امریکہ اور اسرائیل تک محدود نہیں رہ سکتا۔ اگر ایرانی ردعمل میں خلیجی ریاستوں یا خطے میں امریکی اڈوں کو وسیع پیمانے پر نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں تیل کی عالمی منڈی، بحری راستوں اور بین الاقوامی تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

عالمی برادری، بشمول یورپی طاقتیں اور اقوام متحدہ، فوری جنگ بندی اور سفارتی راستے کی اپیل کر رہی ہیں، تاہم زمینی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔

نتیجہ: ایک فیصلہ کن موڑ

یہ لمحہ ایران کی موجودہ حکومت کے لیے وجودی حیثیت رکھتا ہے۔ تاریخی طور پر ایرانی قیادت نے براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے مرحلہ وار اور محتاط ردعمل اختیار کیا ہے۔ لیکن اس بار حملوں کی نوعیت اور شدت نے حالات کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔

آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ کارروائی ایک محدود فوجی مہم ثابت ہوگی، یا مشرقِ وسطیٰ کو ایک طویل اور تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل دے گی — اور کیا واقعی ایران میں سیاسی تبدیلی کی کوئی بڑی لہر جنم لے گی یا نہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button