
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز، اے ایف پی کے ساتھ
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اتوار کے روز شدید ہنگامہ آرائی اس وقت دیکھنے میں آئی جب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت کے خلاف اور ایران کے حق میں ہونے والے مظاہروں نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔ پولیس کے مطابق سینکڑوں مظاہرین نے شہر میں واقع امریکی قونصلیٹ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں فائرنگ اور جھڑپوں میں کم از کم نو افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔
قونصلیٹ کے باہر کشیدگی کیسے بڑھی؟
عینی شاہدین اور مقامی حکام کے مطابق احتجاجی مظاہرہ ابتدا میں پرامن تھا، تاہم دوپہر کے بعد مظاہرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا اور کچھ نوجوان مرکزی دروازے کی جانب بڑھ گئے۔ صورتحال اس وقت بگڑی جب ایک ہجوم قونصلیٹ کے گیٹ پر چڑھ گیا اور احاطے کے ڈرائیو وے تک رسائی حاصل کر لی۔
اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق مشتعل مظاہرین نے عمارت کی کچھ کھڑکیاں توڑ دیں جبکہ کمپاؤنڈ کے اوپر امریکی پرچم لہرا رہا تھا اور دیواروں پر خاردار تار نصب تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو عمارت کے اندر داخل ہونے سے روکنے کے لیے پہلے آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے، تاہم حالات قابو سے باہر ہونے پر فائرنگ بھی کی گئی۔
ہلاکتیں اور زخمی
ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان محمد امین نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ کم از کم آٹھ لاشیں سرکاری اسپتالوں میں منتقل کی جا چکی ہیں، جبکہ بعد ازاں ہلاکتوں کی تعداد نو بتائی گئی۔ ان کے مطابق 20 سے زائد زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے اور زیادہ تر افراد کو گولیاں لگی ہیں۔
اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں نوجوانوں کو قونصلیٹ کی عمارت کی کھڑکیاں توڑتے اور نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ویڈیو میں ایک مظاہرہ کرنے والا کہہ رہا ہے، “ہمیں متحد رہنا ہوگا، کوئی طاقت ہمیں نہیں روک سکتی۔”
ایک اور شخص ویڈیو بناتے ہوئے دعویٰ کرتا دکھائی دیتا ہے، “ہم اپنے رہنما کے قتل کا بدلہ لے رہے ہیں۔”
حکام نے ان ویڈیوز کی تصدیق یا تردید نہیں کی، تاہم کہا ہے کہ صورتحال کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔
دیگر شہروں میں بھی احتجاج
کشیدگی صرف کراچی تک محدود نہیں رہی۔ مشرقی شہر لاہور میں بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جہاں ریلیاں نکالی گئیں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ شمالی علاقے اسکردو میں بھی بڑے مظاہرے رپورٹ ہوئے۔
دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے ریڈ زون جانے والی تمام سڑکیں بند کر دیں اور امریکی سفارت خانہ اسلام آباد کی طرف جانے والے راستوں پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔ حکام کے مطابق کسی بھی غیر متعلقہ ٹریفک کو اس علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
حکومتی ردعمل
وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ سفارتی تنصیبات کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ سرکاری یا سفارتی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات پاکستان سمیت کئی ممالک میں داخلی ردعمل کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں، اور ایسے مظاہروں کا پھیلاؤ علاقائی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
علاقائی کشیدگی کا پس منظر
ایران پر حالیہ اسرائیلی حملوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے دنیا بھر میں احتجاج اور ردعمل کو جنم دیا ہے۔ پاکستان میں ایران کے ساتھ مذہبی و سماجی ہمدردی کے عناصر موجود ہیں، جس کے باعث جذباتی ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
موجودہ حالات میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ احتجاجی مظاہروں کو پرامن رکھا جائے اور سفارتی مشنز کی حفاظت یقینی بنائی جائے، تاکہ مقامی سطح پر مزید خونریزی سے بچا جا سکے۔
صورتحال بدستور کشیدہ
کراچی میں قونصلیٹ کے اطراف اضافی پولیس اور رینجرز تعینات کر دی گئی ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں جزوی ٹریفک بندش اور سکیورٹی الرٹ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالات کو قابو میں کر لیا گیا ہے، تاہم کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا احتجاج محدود رہتا ہے یا ملک کے دیگر حصوں میں بھی شدت اختیار کرتا ہے۔ فی الحال، کراچی کے اس واقعے نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی اور عالمی تنازع کے مقامی اثرات کو نمایاں کر دیا ہے۔




