پاکستانتازہ ترین

علاقائی و داخلی سکیورٹی صورتحال: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس، ایران اور افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی غور

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور ملک کے اندر پیدا ہونے والی کشیدہ فضا کے پیش نظر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں علاقائی و داخلی سکیورٹی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایران میں حالیہ پیش رفت، افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے تناظر میں سکیورٹی انتظامات پر غور کیا گیا۔

سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اجلاس کے دوران خطے کی مجموعی صورتحال، پاکستان کے امن و استحکام کے لیے اقدامات اور سفارتی حکمت عملی پر جامع بریفنگ دی گئی۔

ایران کی صورتحال اور اس کے اثرات

اجلاس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی پر خصوصی غور کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس واقعے کے بعد خطے میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے جس کے پاکستان پر براہِ راست اور بالواسطہ اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ایران میں موجود پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر دفتر خارجہ نے انخلا کے عمل پر تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ آذربائیجان کے راستے پاکستانی شہریوں کو ایران سے نکالنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ سفارتی مشنز اور مقامی حکام سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ انخلا کا عمل محفوظ اور منظم طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔

ملک میں پرتشدد مظاہرے اور سکیورٹی اقدامات

ایران میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے، جن میں بعض مقامات پر صورتحال پرتشدد رخ اختیار کر گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 23 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

اجلاس میں وفاقی اور صوبائی سطح پر سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حساس تنصیبات، سرکاری عمارات اور اہم شاہراہوں کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے شرپسند عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ امن و امان کی بحالی کے لیے مربوط اور فوری اقدامات جاری رکھے جائیں۔

پاک۔افغان سرحد پر کشیدگی

اجلاس میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں جاری جھڑپوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سکیورٹی حکام نے بتایا کہ بعض سرحدی مقامات پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان شدید فائرنگ، گولہ باری اور ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان حکام اور مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جھڑپوں میں دونوں جانب جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ اجلاس میں سرحدی صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے سفارتی اور عسکری سطح پر رابطوں کو فعال رکھنے پر زور دیا گیا۔

اعلیٰ سول و عسکری قیادت کی شرکت

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر، وفاقی وزرا احسن اقبال، محسن نقوی، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔

شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں قومی یکجہتی، مؤثر سفارت کاری اور مضبوط سکیورٹی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا جبکہ داخلی سطح پر امن و امان کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جائے اور کسی بھی ہنگامی پیش رفت کی صورت میں فوری ردعمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button