پاکستانتازہ ترین

سینئر پاکستانی سکیورٹی عہدیدار کی میڈیا بریفنگ: “آپریشن غضبُ للحق” جاری رہے گا

پاکستان کسی جلد بازی میں نہیں اور آپریشن کا دورانیہ زمینی حقائق اور افغان عبوری حکومت کے عملی اقدامات پر منحصر ہوگا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

اسلام آباد میں 2 مارچ کو ایک تفصیلی میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سینئر پاکستانی سکیورٹی عہدیدار نے اعلان کیا کہ “آپریشن غضبُ للحق” اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات نہیں کیے جاتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی جلد بازی میں نہیں اور آپریشن کا دورانیہ زمینی حقائق اور افغان عبوری حکومت کے عملی اقدامات پر منحصر ہوگا۔


افغان طالبان کو دو ٹوک پیغام

عہدیدار نے کہا کہ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا اپنی سرزمین کو پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال ہونے دیتے رہیں گے۔ ان کے مطابق افغانستان میں جاری کارروائیاں اُس وقت تک ختم نہیں ہوں گی جب تک افغان حکام فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسے گروہوں کی سہولت کاری ترک کرنے کے حوالے سے پاکستان کو قابلِ تصدیق یقین دہانی فراہم نہیں کرتے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان عبوری حکومت بطور “پراکسی ماسٹر” خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے والے متعدد دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے اور مسخ شدہ مذہبی نظریے کی آڑ میں ایک “جنگی معیشت” کو فروغ دیا جا رہا ہے جس کا اصل مقصد مالی مفادات کا حصول ہے۔


آپریشن کے اہداف اور پیش رفت

عہدیدار کے مطابق:

  • اب تک 180 سے زائد چوکیوں کو تباہ کیا جا چکا ہے۔

  • 30 سے زائد اہم مقامات کا کنٹرول حاصل کیا گیا ہے۔

  • یہ وہ مقامات تھے جنہیں دہشت گرد “لانچ پیڈ” کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اندھا دھند کارروائیاں نہیں کر رہا بلکہ صرف اُن مخصوص انفراسٹرکچر اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو دہشت گردی کی معاونت میں استعمال ہو رہی ہیں۔ ان کے بقول یہ کارروائیاں پاکستانی شہریوں، مساجد اور معصوم بچوں پر مسلط کی گئی دہشت گردی کے تناظر میں دفاعِ ذات (self-defense) کے زمرے میں آتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات آپریشن کی پیش رفت سے متعلق مسلسل تفصیلات جاری کر رہی ہے اور حکومت اس معاملے میں مکمل شفافیت اختیار کیے ہوئے ہے۔


پروپیگنڈا اور اطلاعاتی جنگ

سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ افغان طالبان حکومت اور ان کے “بھارتی سرپرست” سرکاری اکاؤنٹس کے ذریعے من گھڑت پروپیگنڈا اور جھوٹی معلومات پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرکاری ذرائع قابلِ اعتبار نہیں اور تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو وہاں کی مظلوم برادریوں اور اقلیتوں کی جانب سے مثبت ردِعمل ملا ہے، جبکہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی اختلاف نہیں۔ کارروائیاں صرف ان عناصر کے خلاف ہیں جو پاکستان کے اندر دہشت گردی میں ملوث یا معاون ہیں۔


داخلی سکیورٹی اور نیشنل ایکشن پلان

بریفنگ میں اندرونی سکیورٹی کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ عہدیدار نے کہا کہ پاک فوج کی داخلی سکیورٹی میں شمولیت گورننس کے خلا کے باعث ہے۔ پاک فوج کا سیاست یا دیگر امور سے کوئی مفاد وابستہ نہیں۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا اور متعلقہ اداروں کا سیاست زدہ ہونا صورتحال کو پیچیدہ بناتا رہا، جس کے باعث فوج کو کردار ادا کرنا پڑا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور حکومتوں سے بہتر حکمرانی اور نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد کی اپیل کی۔


ایران سے متعلق پالیسی

ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عہدیدار نے کہا کہ ایران کے بارے میں پاکستان متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے پاکستان کے ردِعمل کو سراہا ہے، جس کی تائید چین اور روس نے بھی کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے ایران کی جانب سے برادر عرب ممالک کو نشانہ بنانے پر اپنے تحفظات بیان کیے ہیں اور پاکستان ایک مستحکم اور پُرامن ایران کا خواہاں ہے۔ یہ تاثر کہ پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے، ان کے مطابق بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور ایران کو عسکری، خارجہ پالیسی اور داخلی حالات کے اعتبار سے یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان متعدد عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعمیری روابط کو اہمیت دیتا ہے اور اس کی خارجہ پالیسی عوامی استحکام اور خوشحالی پر مبنی ہے۔


سعودی عرب سے تعلقات

عہدیدار نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دہائیوں پر محیط برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات انتہائی اہم ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں۔


انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF)

انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں اور پاکستان کی شرکت کا فیصلہ حکومت مکمل جانچ پڑتال کے بعد کرے گی۔


ملک گیر احتجاج اور داخلی صورتحال

ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم احتجاج کی آڑ میں تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ملک میں افراتفری پھیلانے کی کسی بھی کوشش سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا اور شرپسند عناصر کو پُرامن مظاہرین کی ساکھ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔


حتمی پیغام

بریفنگ کے اختتام پر عہدیدار نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جس کا مظاہرہ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج قوم کی حمایت سے دشمن کے ہر مذموم عزائم کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے انتشار پھیلانے والے عناصر کی جانب سے پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں اور پروپیگنڈے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کے اصولوں پر کاربند رہے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button