پاکستاناہم خبریں

آپریشن “غضب للحق” — اپ ڈیٹ 1600 گھنٹے، افغان طالبان کے نقصانات کا تفصیلی خلاصہ جاری

بتایا گیا ہے کہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے جاری کردہ تازہ آپریشنل اپ ڈیٹ کے مطابق آپریشن “غضب للحق” کے تحت 4 مارچ کو 1600 گھنٹے تک کی کارروائیوں میں افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں سرحدی علاقوں سمیت افغانستان کے مختلف حصوں میں کی گئیں۔

جانی نقصانات کی تفصیلات

سرکاری بریفنگ کے مطابق تازہ کارروائیوں میں اب تک مجموعی طور پر:

  • 481 جنگجو ہلاک

  • 696 سے زائد زخمی

بتایا گیا ہے کہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عسکری تنصیبات اور چیک پوسٹس

آپریشن کے دوران عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں:

  • 226 چیک پوسٹیں تباہ

  • 35 چیک پوسٹس پر کنٹرول حاصل کیا گیا

سیکیورٹی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد عسکری نیٹ ورکس کی نقل و حرکت محدود کرنا اور اسلحہ و رسد کی ترسیل کو روکنا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اہم سپلائی روٹس کو بھی مؤثر طور پر منقطع کیا گیا ہے۔

بھاری اسلحے اور عسکری سازوسامان کا نقصان

بریفنگ میں بتایا گیا کہ دشمن کے زیر استعمال بھاری ہتھیاروں اور گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں:

  • 198 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے کے یونٹس تباہ کیے گئے۔

فوجی ذرائع کے مطابق ان اہداف کو فضائی نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا، جس سے آپریشن کی مؤثریت میں اضافہ ہوا۔

فضائی کارروائیاں

حکام کے مطابق افغانستان بھر میں 56 مختلف مقامات کو فضائی ذریعے مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں میں مبینہ طور پر اسلحہ ڈپو، تربیتی مراکز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول تنصیبات شامل تھیں۔ فضائی حملوں کے بعد زمینی فورسز نے مخصوص علاقوں میں کلیئرنس آپریشن بھی کیے۔

علاقائی سیکیورٹی صورتحال

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں خطے میں سیکیورٹی حرکیات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ سرحدی علاقوں میں نگرانی سخت کر دی گئی ہے جبکہ ممکنہ ردعمل کے پیش نظر ہائی الرٹ برقرار رکھا گیا ہے۔

سرکاری مؤقف

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن “غضب للحق” کا مقصد سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا اور دہشت گرد عناصر کی عسکری صلاحیت کو غیر مؤثر بنانا ہے۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

دوسری جانب آزاد مبصرین کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اور نقصانات کی حتمی تصدیق کے لیے مزید شواہد اور غیر جانبدار ذرائع کی رپورٹس درکار ہوں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button