
ناصف اعوان.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کےساتھ
رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی حکومتِ پنجاب نے اوورچارجنگ، ناجائز منافع خوری اور ملاوٹ کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔ صوبے بھر میں چھاپے، جرمانے اور گرفتاریاں جاری ہیں۔ بظاہر یہ اقدامات بازاروں میں وقتی نظم و ضبط قائم کرتے دکھائی دیتے ہیں، مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا مسئلہ صرف رمضان اور بازار تک محدود ہے، یا اس کی جڑیں ہمارے سماجی و معاشی ڈھانچے میں کہیں زیادہ گہری ہیں؟
ہر سال رمضان کے دوران اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ ایک حالیہ تجزیے کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں رمضان کے مہینے میں بنیادی خوراک کی قیمتیں اوسطاً 27 فیصد تک بڑھتی رہی ہیں۔ یہ اضافہ صرف موسمی یا وقتی نہیں بلکہ ایک مسلسل رجحان بن چکا ہے، جو معاشرے میں بداعتمادی اور بے چینی کو مزید گہرا کرتا ہے۔
طلب و رسد یا نظام کی خرابی؟
معروف سماجی دانشور ڈاکٹر جعفر احمد کے مطابق رمضان کی مہنگائی کو محض اخلاقی زوال سے جوڑنا درست نہیں، بلکہ یہ بنیادی طور پر طلب و رسد کا مسئلہ ہے۔ ان کے بقول رمضان میں پھلوں، سبزیوں اور دیگر اشیائے خورونوش کی طلب اچانک بڑھ جاتی ہے، جبکہ رسد اسی رفتار سے نہیں بڑھ پاتی۔ نتیجتاً سپلائی چین پر دباؤ بڑھتا ہے اور قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔
وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں ٹرانسپورٹ مہنگی اور سست ہے، کولڈ اسٹوریج اور محفوظ ذخیرہ کرنے کا نظام کمزور ہے، جبکہ مارکیٹ مانیٹرنگ شفاف نہیں۔ اس طرح صارف صرف اشیاء کی قیمت نہیں بلکہ ایک ناقص سپلائی چین کا بوجھ بھی برداشت کر رہا ہوتا ہے۔
ان کے مطابق مسئلے کا حل عارضی چھاپوں اور سبسڈیز میں نہیں بلکہ سپلائی چین کی اصلاح، شفافیت اور پیشگی منصوبہ بندی میں ہے۔
کیا بددیانتی ہمارا عمومی سماجی رویہ بن چکی ہے؟
سماجی دانشور احمد اعجاز اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ طلب و رسد کا عنصر اہم ہے، مگر ان کے نزدیک مسئلہ اس سے کہیں وسیع تر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رمضان میں قیمتوں کا بڑھنا دراصل اس عمومی ماحول کی عکاسی ہے جو سارا سال بازاروں میں موجود رہتا ہے۔
ان کے مطابق، کھانے پینے کی اشیاء سے لے کر دواؤں تک، عام شہری کو اکثر یہ خدشہ رہتا ہے کہ کہیں اس سے دھوکہ نہ ہو جائے، چیز غیر معیاری نہ نکلے یا قیمت زیادہ نہ وصول کی جا رہی ہو۔ گویا بدگمانی ایک معمول بن چکی ہے۔
وہ اس رجحان کو فرد کی فطری بددیانتی کے بجائے نظام کی خرابی قرار دیتے ہیں۔ ان کے بقول جن معاشروں میں فلاحی ریاست کا تصور مضبوط ہو، جیسے کئی یورپی ممالک میں، وہاں صحت، تعلیم، سوشل سکیورٹی اور بے روزگاری الاؤنس جیسی سہولیات دستیاب ہوتی ہیں۔ ایسے ماحول میں لوگ معمولی مالی فائدے کے لیے ملاوٹ یا ذخیرہ اندوزی جیسے اقدامات کی طرف کم مائل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ترقی پذیر ممالک میں کم آمدنی، مہنگائی اور غیر یقینی مستقبل افراد کو “شارٹ کٹ” تلاش کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
سماجی اعتماد کی کمی اور ادارہ جاتی کمزوری
Quaid-i-Azam University کے سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سابق ڈین ڈاکٹر محمد زمان کے مطابق ہر معاشرے کی کچھ بنیادی قدریں اور اجتماعی رویے ہوتے ہیں جو روزمرہ فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ ریاستی اداروں پر سماجی اعتماد کمزور ہے اور قوانین پر یکساں عمل درآمد کا نظام مضبوط نہیں۔
جب لوگوں کو یقین ہو جائے کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں نہیں ہوتا اور طاقتور احتساب سے بچ نکلتے ہیں، تو عام آدمی بھی قواعد کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ یوں ٹیکس چوری، رشوت یا ذخیرہ اندوزی کو “عام سی بات” سمجھ لیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر جعفر احمد بھی اسی نکتے پر زور دیتے ہیں کہ جب فرد یہ محسوس کرے کہ نظام مجموعی طور پر غیر دیانت دار ہے تو وہ اپنے اخلاقی معیار خود کم کر لیتا ہے۔ سوچ یہ بن جاتی ہے کہ “جب سب ہی ایسا کر رہے ہیں تو میں کیوں پیچھے رہوں؟” اس طرح بددیانتی فرد کا ذاتی انتخاب نہیں بلکہ بقا کی حکمت عملی بن جاتی ہے۔
نسل در نسل منتقل ہونے والا رویہ
Pakistan Institute of Development Economics سے وابستہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حنا احسن کے مطابق جب کوئی غلط رویہ معاشرے میں عمومی قبولیت حاصل کر لے تو وہ آہستہ آہستہ معمول بن جاتا ہے۔ نئی نسل اپنے اردگرد یہی طرزِ عمل دیکھ کر سیکھتی ہے اور اسے نظام کی خرابیوں کا “فطری جواب” سمجھنے لگتی ہے۔
یوں بے ایمانی محض ایک وقتی عمل نہیں رہتی بلکہ ایک سیکھا ہوا، سماجی طور پر تقویت یافتہ رویہ بن جاتی ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔
حل کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق مسئلے کا حل صرف وقتی کریک ڈاؤن میں نہیں بلکہ وسیع تر ادارہ جاتی اصلاحات میں ہے۔
قانون کا یکساں اور فوری نفاذ
اگر ٹیکس چوری، ذخیرہ اندوزی، رشوت اور ملاوٹ پر یقینی اور بلاامتیاز سزا ملے تو بددیانتی کا رجحان خود بخود کم ہو سکتا ہے۔سپلائی چین کی اصلاح اور شفافیت
بہتر ٹرانسپورٹ، جدید اسٹوریج سسٹم اور مؤثر مارکیٹ مانیٹرنگ قیمتوں میں استحکام لا سکتی ہے۔معاشی انصاف اور فلاحی اقدامات
مہنگائی، بے روزگاری اور عدم تحفظ افراد کو شارٹ کٹ کی طرف دھکیلتے ہیں۔ اگر ریاست بنیادی سہولیات فراہم کرے اور طاقتور افراد کا بھی احتساب یقینی ہو تو سماجی رویے بدل سکتے ہیں۔تعلیم اور سماجی شعور
دیانت داری کو محض اخلاقی نصیحت کے بجائے عملی قدر بنایا جائے۔ اسکولوں، میڈیا اور گھریلو تربیت کے ذریعے یہ شعور پیدا کیا جائے کہ معمولی دھوکہ بھی اجتماعی نقصان کا سبب بنتا ہے۔
نتیجہ: مسئلہ رمضان نہیں، نظام ہے
رمضان میں ہونے والا کریک ڈاؤن وقتی ریلیف ضرور دے سکتا ہے، مگر اگر نظام کی خامیاں برقرار رہیں تو یہ اقدامات مستقل تبدیلی نہیں لا سکتے۔ مسئلہ صرف بازاروں میں قیمتوں کا نہیں بلکہ سماجی اعتماد، معاشی انصاف اور ادارہ جاتی شفافیت کا ہے۔
جب ریاست اپنے شہریوں کو انصاف اور بنیادی تحفظ فراہم کرے گی اور قانون سب پر یکساں لاگو ہوگا، تب ہی دیانت داری بوجھ نہیں بلکہ ایک فطری اور قابلِ فخر انتخاب بن سکے گی۔



