بین الاقوامیاہم خبریں

نیویارک میں مبینہ قتل کی سازش کا مقدمہ: پاکستانی نژاد کاروباری شخصیت آصف مرچنٹ کی عدالت میں غیر معمولی گواہی

آصف مرچنٹ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں واضح طور پر ہدف کا تعین نہیں بتایا گیا تھا، تاہم ان کے مبینہ ہینڈلر نے ان تین شخصیات کے نام ضرور لیے تھے۔

مدثر احمد-امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

نیویارک: امریکہ کی وفاقی عدالت میں ایک سنسنی خیز مقدمے کی سماعت جاری ہے جس میں پاکستانی نژاد کاروباری شخصیت آصف مرچنٹ پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کی طاقتور نیم فوجی فورس اسلامی ریوولیشنری گارڈ کارپس کے کہنے پر ایک امریکی سیاست دان کو قتل کرانے کی سازش کی کوشش کی۔

بدھ کے روز بروکلن فیڈرل کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران آصف مرچنٹ نے جیوری کے سامنے بیان دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر امریکہ آکر ایسے افراد کو تلاش کرنے کی کوشش کی جو کسی سیاست دان کے قتل کے لیے تیار ہوں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ سب اپنی مرضی سے نہیں بلکہ ایران میں موجود اپنے خاندان کو لاحق خطرات کے باعث کرنے پر مجبور ہوئے۔


مبینہ سازش کے ممکنہ اہداف

عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے بتایا کہ 2024 میں ہونے والی اس مبینہ سازش کے ممکنہ اہداف میں کئی نمایاں امریکی سیاسی شخصیات شامل تھیں۔

ان میں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اس وقت کے صدر جو بائیڈن اور سابق صدارتی امیدوار و اقوام متحدہ میں امریکی سفیر رہنے والی نکئی ہیلی کے نام شامل بتائے گئے۔

آصف مرچنٹ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں واضح طور پر ہدف کا تعین نہیں بتایا گیا تھا، تاہم ان کے مبینہ ہینڈلر نے ان تین شخصیات کے نام ضرور لیے تھے۔


ایف بی آئی کے خفیہ اہلکاروں سے رابطہ

امریکی حکام کے مطابق آصف مرچنٹ نے جن افراد کو مبینہ طور پر رقم دی وہ دراصل Federal Bureau of Investigation کے خفیہ اہلکار تھے۔

استغاثہ کے مطابق ملزم نے ان افراد کو پانچ ہزار ڈالر بطور پیشگی ادائیگی دی تھی تاکہ وہ قتل کی منصوبہ بندی میں مدد کریں۔ بعد ازاں انہیں 12 جولائی 2024 کو گرفتار کر لیا گیا۔

یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں ہوئی جب اگلے ہی روز ریاست Pennsylvania کے شہر بٹلر میں صدر ٹرمپ پر ایک الگ اور غیر متعلقہ حملے کی کوشش پیش آئی تھی۔


عدالت میں ملزم کا مؤقف

عدالت میں اردو مترجم کے ذریعے بیان دیتے ہوئے آصف مرچنٹ نے کہا:

“میرے خاندان کو دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور مجھے یہ سب کرنا پڑا۔ میں یہ اپنی مرضی سے نہیں کرنا چاہتا تھا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یقین تھا کہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی وہ گرفتار ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق وہ دراصل امریکی حکام کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے تھے اور امید رکھتے تھے کہ اس کے بدلے انہیں امریکہ میں مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ مل سکتا ہے۔


ایران سے مبینہ رابطہ

آصف مرچنٹ نے عدالت کو بتایا کہ 2022 کے آخر میں ایران میں ان کی ملاقات پاسدارانِ انقلاب کے ایک انٹیلی جنس اہلکار سے ہوئی تھی۔ ابتدا میں ان کے درمیان بات چیت غیر رسمی مالیاتی نظام حوالہ کے ذریعے رقوم کی منتقلی سے متعلق تھی۔

بعد ازاں اس اہلکار نے مبینہ طور پر انہیں ہدایت دی کہ وہ امریکہ میں ایسے افراد تلاش کریں جو ایران کے لیے مختلف کام انجام دے سکیں۔ ان کاموں میں احتجاج منظم کرنا، چوری، منی لانڈرنگ اور ممکنہ طور پر قتل کی کارروائی شامل تھی۔

امریکہ پہلے ہی Islamic Revolutionary Guard Corps کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔


امریکہ میں سرگرمیاں اور نگرانی

ملزم کے مطابق وہ ماضی میں اپنے گارمنٹس کے کاروبار کے سلسلے میں کئی مرتبہ امریکہ کا سفر کر چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی دوروں کی وجہ سے ان کے ایرانی رابطے کی دلچسپی بڑھی۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اپریل 2024 میں George Bush Intercontinental Airport پر امریکی امیگریشن حکام نے انہیں روک کر ایران کے سفر سے متعلق سوالات کیے۔ اس واقعے کے بعد انہیں یقین ہو گیا کہ وہ امریکی حکام کی نگرانی میں ہیں۔

اس کے باوجود انہوں نے مبینہ طور پر انتخابی ریلیوں کے مقامات سے متعلق معلومات اکٹھی کیں اور ایک سیاسی جلسے میں فائرنگ کے ممکنہ منصوبے کا خاکہ بھی تیار کیا۔


استغاثہ کے اعتراضات

امریکی استغاثہ کے مطابق آصف مرچنٹ کا یہ دعویٰ قابلِ اعتبار نہیں کہ وہ دباؤ کے تحت کام کر رہے تھے۔ استغاثہ نے عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں کہا کہ:

  • ملزم نے گرفتاری سے قبل کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے سے رابطہ نہیں کیا۔

  • ایف بی آئی کو دیے گئے انٹرویوز میں بھی انہوں نے جبر کے واضح شواہد پیش نہیں کیے۔


دفاعی مؤقف

دفاعی وکیل اوراہم موسکووٹز نے عدالت میں سوال کیا کہ آیا آصف مرچنٹ واقعی کسی خفیہ ایجنسی کے تربیت یافتہ ایجنٹ یا “سپر سپائی” ہیں۔

اس پر آصف مرچنٹ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:

“نہیں، بالکل نہیں۔”


مقدمے کا وسیع پس منظر

یہ مقدمہ ایسے وقت میں چل رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر سکیورٹی خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

عدالت نے جیوری کو ہدایت کی ہے کہ وہ میڈیا رپورٹس یا سیاسی بیانات کو نظر انداز کریں اور صرف عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کریں۔


نتیجہ

ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ نہ صرف ایک مبینہ بین الاقوامی سازش کی تحقیقات سے متعلق ہے بلکہ اس کے سفارتی اور سیاسی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

اگر آصف مرچنٹ پر عائد الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ مقدمہ امریکہ میں غیر ملکی اثر و رسوخ اور سیاسی شخصیات کے خلاف مبینہ سازشوں کے حوالے سے ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button