پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

پنجاب میں بیواؤں اور یتیم بچوں کے لیے “رحمت کارڈ” پروگرام کی منظوری، فلاحی نظام میں نئی پیش رفت

حکام کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد نہ صرف فوری مالی معاونت فراہم کرنا ہے بلکہ مستحق خاندانوں کو معاشی طور پر خودمختار بنانے میں بھی مدد دینا ہے۔

ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

صوبہ پنجاب میں سماجی فلاح و بہبود کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں بیواؤں اور یتیم بچوں کی مالی معاونت کے لیے ایک نئے ڈیجیٹل نظام کی منظوری دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد مستحق خاندانوں کو باعزت طریقے سے مالی مدد فراہم کرنا اور امدادی نظام کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔

صوبے کی وزیر اعلیٰ  مریم نواز نے بیواؤں اور والدین کی شفقت سے محروم بچوں کے لیے “رحمت کارڈ” پروگرام کی منظوری دے دی ہے۔ حکام کے مطابق اس پروگرام کے ذریعے مستحق بیواؤں اور یتیم بچوں کو مالی امداد فراہم کی جائے گی۔


رحمت کارڈ پروگرام کی تفصیلات

سرکاری حکام کے مطابق “رحمت کارڈ” ایک جدید ڈیجیٹل فلاحی نظام ہوگا جس کے تحت مستحق افراد کی رجسٹریشن، تصدیق اور مالی معاونت کا عمل شفاف طریقے سے انجام دیا جائے گا۔

اس اسکیم کے تحت:

  • مستحق بیوہ خواتین کو ایک لاکھ روپے تک مالی امداد دی جائے گی۔

  • یتیم بچوں کو 25 ہزار روپے فی بچہ کی مدد فراہم کی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد نہ صرف فوری مالی معاونت فراہم کرنا ہے بلکہ مستحق خاندانوں کو معاشی طور پر خودمختار بنانے میں بھی مدد دینا ہے۔


رجسٹریشن کا ڈیجیٹل نظام

حکومت پنجاب کے مطابق اس پروگرام کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ شفاف اور قابلِ رسائی بنانے کے لیے کئی ذرائع فراہم کیے گئے ہیں۔

مستحق افراد درج ذیل طریقوں سے درخواست دے سکیں گے:

  • موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے

  • خصوصی ویب پورٹل کے ذریعے

  • کال سینٹر کے ذریعے

  • مقامی زکوٰۃ دفاتر کے ذریعے براہ راست رجوع کر کے

حکام کے مطابق یہ نظام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ امداد صرف حقیقی مستحق افراد تک پہنچے اور کسی قسم کی بدعنوانی یا سفارش کے امکانات کم ہوں۔


وزیراعلیٰ پنجاب کا مؤقف

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ Maryam Nawaz نے کہا کہ حکومت کا مقصد بیواؤں کو خیرات نہیں بلکہ ان کا باوقار حق فراہم کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ:

“پنجاب میں بیوہ اب محتاج نہیں رہے گی۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ بیوہ کو خیرات نہیں بلکہ اس کا باعزت حق دیا جائے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مستحق افراد تک ان کا حق پہنچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔


خود کفالت کی جانب قدم

حکومت کے مطابق رحمت کارڈ پروگرام صرف مالی امداد تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس کے ذریعے بیواؤں کو معاشی طور پر خود مختار بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

پروگرام کے آئندہ مراحل میں ممکنہ طور پر:

  • چھوٹے کاروبار کے لیے مالی معاونت

  • ہنر سکھانے کے پروگرام

  • روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے منصوبے

شامل کیے جا سکتے ہیں تاکہ بیوہ خواتین اپنی اور اپنے بچوں کی کفالت خود کر سکیں۔


سماجی ماہرین کی رائے

سماجی شعبے کے ماہرین کے مطابق اگر اس پروگرام کو شفاف طریقے سے نافذ کیا جائے تو یہ صوبے میں سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان میں بیواؤں اور یتیم بچوں کی بڑی تعداد معاشی مشکلات کا سامنا کرتی ہے، اس لیے ایسے پروگرام معاشرتی استحکام کے لیے ضروری ہیں۔


نتیجہ

حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ رحمت کارڈ پروگرام صوبے میں سماجی تحفظ کے نظام کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیابی سے نافذ ہوتا ہے تو اس سے ہزاروں مستحق خاندانوں کو مالی سہارا مل سکتا ہے اور انہیں معاشی خود مختاری کی طرف بڑھنے کا موقع ملے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button