
تہران پر میزائلوں اور دھماکوں کی بارش: پاکستانیوں کی آنکھوں دیکھی داستان، شہر ویران اور ہر طرف تباہی
پاکستان واپس پہنچنے والے افراد نے بتایا کہ حملوں کے دوران لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا اور شہری بڑی تعداد میں شہر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
تہران: ایران میں جاری شدید فوجی کشیدگی اور میزائل حملوں کے بعد وہاں سے واپس آنے والے پاکستانی شہریوں اور طلبہ نے تہران میں ہونے والی تباہی کی ہولناک تفصیلات بیان کی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق شہر میں مسلسل دھماکوں سے زمین لرز رہی تھی، کئی عمارتیں آگ اور دھویں کی لپیٹ میں تھیں اور خوف کے باعث شہر بڑی حد تک خالی ہو چکا تھا۔
پاکستان واپس پہنچنے والے افراد نے بتایا کہ حملوں کے دوران لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا اور شہری بڑی تعداد میں شہر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
کلاس روم میں دھماکہ، عمارتیں لرز اٹھیں
تہران یونیورسٹی آف انجینیئرنگ میں زیرِ تعلیم 23 سالہ پاکستانی طالبہ حریم زہرہ نے ایران سے پاکستان پہنچنے کے بعد خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کلاس روم میں موجود تھیں جب اچانک ایک زوردار دھماکے نے پوری عمارت کو ہلا کر رکھ دیا۔
ان کے مطابق
“ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ شہر کے مختلف حصوں سے گہرا سیاہ دھواں اٹھ رہا تھا۔ کئی عمارتیں جل رہی تھیں اور فضا میں خوف اور افراتفری کا ماحول تھا۔ جب میں واپسی کے لیے روانہ ہوئی تو تہران پر حملے اب بھی جاری تھے۔”
شہر ویران، لوگ گھروں میں محصور
ایران میں موجود پاکستانی طلبہ کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد تہران کا منظر بالکل بدل گیا ہے۔ ایک اور پاکستانی طالب علم نادر عباس نے بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے شہر غیر معمولی طور پر سنسان ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ
“میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک ڈرون نے باسکٹ بال کورٹ کو نشانہ بنایا جہاں کھیل میں مصروف خواتین موجود تھیں۔ اس حملے میں چھ خواتین کھلاڑی ہلاک ہو گئیں۔”
تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس واقعے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔
پاکستانی شہریوں کا انخلا جاری
پاکستان کے ایران میں سفیر مدثر ٹیپو کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک تقریباً ایک ہزار پاکستانی طالب علم، زائرین اور تاجر ایران چھوڑ چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ
“ایران میں اس وقت تقریباً 35 ہزار پاکستانی شہری موجود ہیں اور حکومت انہیں محفوظ طریقے سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں کئی بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے جس کے باعث رابطے اور معلومات کا تبادلہ مشکل ہو گیا ہے۔
ہسپتال کے قریب حملہ
تہران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں زیرِ تعلیم پاکستانی طالب علم سخی عون محمد نے بتایا کہ پہلا حملہ ان کے ہسپتال کے بالکل قریب ہوا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ
“جب میں پاکستان ایران سرحد پر پہنچا تو میرے ایک ایرانی دوست نے فون کر کے پوچھا کہ کیا میں محفوظ ہوں۔ اس نے بتایا کہ الحمدللہ تم پاکستان پہنچ گئے ہو، لیکن تمہارے ہاسٹل پر حملہ ہوا ہے۔”
ہر چند گھنٹوں بعد حملے
تہران میں موجود ایک پاکستانی سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شہر میں ہر چار سے پانچ گھنٹے بعد میزائل حملے ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا
“ایک میزائل ہمارے دفتر کے قریب ایک عمارت پر آ کر لگا۔ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میزائل آپ کے پیروں کے بالکل قریب پھٹا ہو۔”
ان کے مطابق
“آخری بار جب میں رات کو باہر نکلا تو بہت سی عمارتیں زمین بوس ہو چکی تھیں جبکہ کئی عمارتوں میں آگ لگی ہوئی تھی۔ پورا شہر تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا۔”
خطے میں کشیدگی میں اضافہ
اس تنازع نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز ایک امریکی آبدوز نے سری لنکا کے قریب ایک ایرانی جنگی جہاز کو تباہ کر دیا جبکہ نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے ترکی کی جانب داغا گیا ایرانی میزائل بھی مار گرایا۔
دوسری جانب ایران نے ہفتے کے روز امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں اسرائیل اور خلیجی ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے بیلسٹک میزائلوں سے بھرپور جوابی کارروائی کی۔
فضائی حدود بند، انخلا میں مشکلات
جنگی صورتحال کے باعث خطے کے بیشتر ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں کیونکہ مسافر طیاروں پر میزائل حملوں کا خطرہ موجود ہے۔ اس صورتحال نے غیر ملکی شہریوں کے انخلا کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
پاکستان کے لیے سفارتی آزمائش
موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے سفارتی طور پر بھی ایک بڑا امتحان بن گئی ہے۔ ایک طرف اسلام آباد کے امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ برادرانہ روابط بھی برقرار ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو اس نازک صورتحال میں انتہائی محتاط سفارتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
خوف، تباہی اور غیر یقینی مستقبل
عینی شاہدین کے مطابق تہران اس وقت ایک خوفناک منظر پیش کر رہا ہے۔ جگہ جگہ تباہ شدہ عمارتیں، جلتے ہوئے ملبے اور سنسان سڑکیں شہر کو کسی جنگ زدہ منظرنامے میں بدل چکی ہیں۔
ایک پاکستانی سفارت کار کے الفاظ میں
“پورا شہر ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی آفت نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہو۔ ہر طرف تباہی ہی تباہی ہے اور مستقبل غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔”




