
بھارت نے بالآخر خامنہ ای کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا
اپوزیشن نے اس سے پہلے ایران کے ساتھ بھارت کے طویل مدتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے مودی حکومت کے رویے پر تنقید کی تھی۔
جاوید اختر ، نئی دہلی
ان کی موت پر وزیر اعظم نریندر مودی یا بھارتی حکومت کی طرف سے باضابطہ بیان جاری نہ کرنے پر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی سخت تنقید کی تھی۔
بھارتی خارجہ سیکریٹری وکرم مسری نے آج دہلی میں ایران کے سفیر سے ملاقات کی اور خامنہ ای کی وفات پر تعزیتی کتاب میں دستخط کیے۔
یہ پیش رفت اس اعلان کے کچھ ہی عرصے بعد سامنے آئی ہے جس میں ایران نے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو تمام جہازوں کے لیے کھول دے گا، سوائے امریکہ، اسرائیل اور یورپی یونین کے جہازوں کے۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ انہوں نے آج دوپہر ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات کی۔
نئی دہلی کے مؤقف میں محتاط تبدیلی
یہ قدم نئی دہلی کے مؤقف میں ایک محتاط تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ اس سے قبل بھارت نے ان فضائی حملوں کی مذمت نہیں کی تھی، جن میں خامنہ ای کی موت ہوئی اور اپوزیشن کی شدید مطالبات کے باوجود باضابطہ بیان دینے سے گریز کیا تھا۔
بعد ازاں وزیر اعظم نریندر مودی نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ”بھارت ہمیشہ ایسے تنازعات کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی حمایت کرتا آیا ہے۔‘‘
اپوزیشن نے اس سے پہلے ایران کے ساتھ بھارت کے طویل مدتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے مودی حکومت کے رویے پر تنقید کی تھی۔
ماضی میں بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 13 فیصد ایران سے خریدتا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان نمایاں تجارتی روابط تھے۔ تاہم 2018 میں امریکہ کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد لگائی گئی پابندیوں کے باعث یہ تجارت نمایاں طور پر کم ہو گئی۔

مزید یہ کہ ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کیا ہے اور اب تل ابیب کے ساتھ اس کی ایک مضبوط اسٹریٹجک، معاشی اور فوجی شراکت داری موجود ہے۔ 2017 میں وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم بنے۔
اس ہفتے کے آغاز میں کانگریس پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی نے بھی حکومت کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا، ”جب کسی غیر ملکی رہنما کے ہدف بنا کر قتل کیے جانے پر ہمارا ملک خودمختاری یا بین الاقوامی قانون کے دفاع میں واضح موقف اختیار نہیں کرتا اور غیر جانبداری کو ترک کر دیا جاتا ہے، تو اس سے ہماری خارجہ پالیسی کی سمت اور ساکھ پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔‘‘



