پاکستاناہم خبریں

ارندو سیکٹر میں پاک فوج کا کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، افغان طالبان کے ٹھکانے تباہ

ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران افغان طالبان سے منسلک جنگجوؤں کا ایک اہم مرکز بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ اس مرکز کو مبینہ طور پر سرحدی علاقوں میں سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور تربیت کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستانی افواج نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے ارندو سیکٹر میں کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان سے منسلک ایک مسلح تنظیم کے خلاف کامیاب آپریشن کیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کا اہم مرکز مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا جس میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی اور سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ اطلاعات ملنے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کا محاصرہ کیا اور شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔

شدت پسند ہتھیار چھوڑ کر فرار
ذرائع کے مطابق پاک فوج کے بھرپور اور منظم آپریشن کے نتیجے میں شدت پسند شدید دباؤ کا شکار ہو گئے اور وہ اپنے مورچوں اور پوسٹوں پر موجود ہتھیار چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی جانب سے محدود مزاحمت کی گئی تاہم پاک فوج کی مؤثر حکمت عملی اور بروقت کارروائی کے باعث شدت پسند زیادہ دیر تک مقابلہ نہ کر سکے۔
اہم مرکز تباہ
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران افغان طالبان سے منسلک جنگجوؤں کا ایک اہم مرکز بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ اس مرکز کو مبینہ طور پر سرحدی علاقوں میں سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور تربیت کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تباہ کیے گئے مرکز سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور دیگر جنگی سامان بھی برآمد ہوا ہے جسے قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی سخت
حکام کے مطابق آپریشن کے بعد چترال ڈسٹرک کے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کے داخلی اور خارجی راستوں کی کڑی نگرانی بھی شروع کر دی ہے تاکہ فرار ہونے والے شدت پسندوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہ مل سکے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز دہشت گردی کے خلاف جاری مہم کا اہم حصہ ہیں۔ اس طرح کی کارروائیاں شدت پسندوں کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے اور سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
افواج پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور کسی بھی گروہ کو پاکستان کی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
عوام کا اعتماد
مقامی آبادی نے سیکیورٹی فورسز کی اس کارروائی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر ہوگی۔ عوام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں ایسے بروقت آپریشنز سے دہشت گرد عناصر کے عزائم کو ناکام بنانے میں مدد ملتی ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق علاقے میں صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور فورسز ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے چوکس ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button