پاکستاناہم خبریں

آپریشن “غضب للحق” میں افغان طالبان کو بھاری نقصان، 583 ہلاک، 795 سے زائد زخمی: عطا اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور یہ آپریشن اپنے اہداف کے حصول تک جاری رکھا جائے گا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے آپریشن “غضب للحق” سے متعلق تازہ ترین صورتحال جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

وفاقی وزیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ X (Twitter) پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ 8 مارچ شام 4 بجے تک کے اعداد و شمار کے مطابق کارروائیوں کے دوران افغان طالبان کے سینکڑوں جنگجو ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ان کی بڑی تعداد میں عسکری تنصیبات اور فوجی سازوسامان بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

ہلاکتیں اور زخمیوں کی تعداد

عطا تارڑ کے مطابق آپریشن کے دوران اب تک افغان طالبان کے 583 جنگجو ہلاک جبکہ 795 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں انتہائی مؤثر انداز میں جاری ہیں اور دشمن کو مسلسل نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

چیک پوسٹوں کی تباہی

وزیرِ اطلاعات کے مطابق کارروائیوں کے دوران طالبان کی 242 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سیکیورٹی فورسز نے 38 چیک پوسٹوں پر قبضہ کرنے کے بعد انہیں بھی تباہ کر دیا تاکہ مستقبل میں ان کا دوبارہ استعمال نہ ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ ان پوسٹوں کی تباہی سے طالبان کے سرحدی علاقوں میں دفاعی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

بھاری فوجی سازوسامان تباہ

بیان میں مزید بتایا گیا کہ کارروائیوں کے دوران طالبان کے 213 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی تباہ کر دی گئی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان عسکری وسائل کی تباہی سے طالبان کی جنگی صلاحیت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔

فضائی کارروائیاں

عطا تارڑ کے مطابق آپریشن کے دوران افغانستان کے مختلف علاقوں میں 64 مقامات کو فضائی کارروائیوں کے ذریعے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ ان فضائی حملوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے، اسلحہ ڈپو اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع کے مطابق فضائی کارروائیوں اور زمینی آپریشنز کے مشترکہ استعمال سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

آپریشن کے مقاصد

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن “غضب للحق” کا مقصد سرحدی علاقوں میں موجود دہشت گرد عناصر کا خاتمہ اور پاکستان کی سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ان عناصر کے خلاف کی جا رہی ہیں جو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

کارروائیاں جاری رہیں گی

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور یہ آپریشن اپنے اہداف کے حصول تک جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کے دفاع اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھیں گی اور کسی بھی دشمن کو پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button