
رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز
ان عوامل کے اقتصادی اثرات اب عام پاکستانیوں اور ان کے گھروں کے باورچی خانوں تک پہنچ چکے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ فوڈ سپلائی چین کی کارکردگی کا پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل پر براہ راست انحصار ہے۔ اسی لیے ایندھن کی سپلائی میں ذرا سا تعطل بھی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔
پاکستان میں عام شہری پہلے ہی کمر توڑ مہنگائی کے باعث ‘زندہ رہنے کی جنگ‘ لڑ رہے ہیں۔ اس لیے تہران اور واشنگٹن کے مابین بہت گرم ہو چکی فضا کی تپش ایران کے ہمسایہ ملک پاکستان کے لیے اقتصادی حوالے سے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہو رہی ہے۔ معاشی اور دفاعی ماہرین دونوں ہی اسرائیل اور امریکہ کے ایران کے ساتھ عسکری تصادم کی موجودہ صورت حال کو پاکستان کے لیے براہ راست خطرناک سمجھتے ہیں۔ ان ماہرین کے مطابق اس جنگ سے بالواسطہ متاثر ہونے والا پاکستانی غریب طبقہ تو پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار تھا۔

تصادم کے تسلسل کی صورت میں ایندھن کی ترسیل میں تعطل
توانائی کے امور کی ماہر عافیہ ملک نےکہا کہ پاکستان کے پاس تیل کے محفوظ ذخائر بہت بڑے نہیں اور یہ ملک اپنی تیل کی ضروریات کے لیے آبنائے ہرمز جیسے راستے پر بھی انحصار کرتا ہے۔ اگر یہ بحری تجارتی راستہ زیادہ عرصے تک جنگ کی زد میں رہا، تو اس سے پاکستان کی آئل سپلائی چین متاثر ہو گی، جس کے نتیجے میں فوڈ سپلائی چین پر پڑنے والے مزید اثرات ملک میں مہنگائی کی بڑی اور نئی لہر کو جنم دے سکتے ہیں۔
ایران یہ اعلان کر چکا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے اور اس بندش کی اس نے پہلے کئی مرتبہ باقاعدہ دھمکی بھی دی تھی۔ یہ ایسا عالمی تجارتی راستہ ہے، جہاں سے دنیا بھر کو پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کا تقریباً 25 فیصد حصہ گزرتا ہے، اور خود پاکستان کو بھی اس کی ضروریات کا زیادہ تر ایندھن اسی راستے سے موصول ہوتا ہے۔

پاکستانی تیل کمپنیوں کی قانونی ذمے داری
پاکستان میں مروجہ قانون کے تحت ملک میں کام کرنے والی تیل کمپنیاں اپنے پاس کم از کم 20 دن تک کے لیے کافی ذخائر محفوظ رکھنے کی پابند ہیں۔ تاہم زمینی حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ کئی کمپنیاں اکثر اس امر کی پابندی نہیں کرتیں۔ عافیہ ملک کے مطابق ریگولیٹرز کی طرف سے بار بار کی تنبیہات کے باوجود تیل کے ذخائر کی کمی برقرار رہتی ہے اور یہ بھی بڑی وجہ ہے کہ آئل سپلائی سسٹم میں معمولی سا خلل بھی پاکستان کو فوراً بحران کا شکار بنا دیتا ہے۔
پاکستانی وزارت خزانہ کے سابق مشیر ڈاکٹر خاقان نجیب اس صورتحال کو ملکی اقتصادی استحکام کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی قیمتوں میں کوئی بھی مستقل اضافہ تیل درآمد کرنے والے ملک کے طور پر پاکستان کے درآمدی اخراجات، بیرونی مالیاتی دباؤ اور مہنگائی سبھی میں اضافے کا سبب بنے گا۔
ڈاکٹر خاقان نجیب نے بتایا، ”پاکستان اس تنازعے کا براہ راست حصہ نہ ہونے کے باوجود اپنی معیشت پر اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا اور یہ بات ہمارے مالیاتی نظم و ضبط اور کرنسی کی شرح تبادلہ کے استحکام کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔‘‘

خطے کی تازہ صورت حال
مشرق وسطیٰ میں اس وقت عسکری تناؤ اپنے عروج پر ہے، جہاں امریکہ اور اسرائیل ایران پر اور جواباﹰ ایران خطے میں اسرائیل اور امریکی فوجی اہداف پر میزائلوں سے مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ ایران اسرائیل پر براہ راست حملے کرنے کے علاوہ خطے کی عرب ریاستوں میں قائم امریکی فوجی اور سفارتی مراکز کو بھی مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔
ایسے میں تنازعے کے کسی مذاکراتی حل کی کوئی فوری عملی امید نہیں اور اب تو بظاہر کوئی مذاکرات ہو بھی نہیں رہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایک بڑے اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد تہران کا غم و غصہ واضح ہے اور وہ کہہ چکا ہے کہ اب امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔
بین الاقوامی سیاسی سطح پر یہ خدشہ بھی ہے کہ یہ فوجی تصادم ایک طویل جنگ کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے مطابق یہ جنگ چار یا پانچ ہفتوں سے زیادہ طویل بھی ہو سکتی ہے، جبکہ ایران بھی یہ اشارے دے چکا ہے کہ وہ طویل المدتی ٹکراؤ کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔

اس سنگین منظر نامے کے بارے میں ماہر اقتصادیات ڈاکٹر خاقان نجیب کہتے ہیں کہ یہ صورت حال ’’عالمی برادری کے لیے ایک بھیانک امتحان‘‘ ہے۔
دفاعی محاذ پر پاکستان کے لیے چیلنج
ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ کے باعث پاکستان کو درپیش چیلنج دو طرح کے ہیں، اقتصادی اور دفاعی نوعیت کے۔ پاکستان کے سابق وزیر دفاع اور دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعیم خالد لودھی اس صورتحال کو محض اتفاقیہ تصادم کے طور پر نہیں بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے نتیجے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
جنرل لودھی ایسے عناصر کو کڑی تنبیہ کرتے ہیں، جو اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ پاکستان اس تصادم کے اثرات سے محفوظ رہے گا۔ ان کے نزدیک یہ ”باریاں لے لے کر کھیلا جانے والا ایک ایسا کھیل ہے، جس کی لپیٹ میں خطے کے کئی ممالک آ چکے ہیں۔‘‘

انہوں نے واضح طور پر کہا، ”جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دیا جائے گا، انہیں اپنے اس وہم سے باہر نکلنا چاہیے۔ سلامتی کے عالمی تناظر میں دیکھیں، تو یہ ایک باقاعدہ سلسلہ ہے۔ آج اگر ایران پر حملہ ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگلا نمبر پاکستان کا بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ ہمارے پڑوسی پر حملہ دراصل ہمارے گھیراؤ کی ابتدا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعیم خالد لودھی کی رائے میں ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ کا جاری رہنا پاکستان کے لیے اس کے اپنے حوالے سے دوہری آزمائش کا وقت ہے، ”اس لیے کہ ایک طرف تو پاکستان کے حریف ہمسایہ ملک بھارت میں کسی نئی مہم جوئی کی خواہش پیدا ہو سکتی ہے، جس کے لیے اسلام آباد کو تیار رہنا ہے، اور دوسری جانب افغانستان سے ملحقہ سرحد پر بھی سلامتی کے بڑے مسائل کا واضح خطرہ تو ہے ہی۔‘‘



