پاکستانتازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ کے پاکستان کی معیشت اور دفاع پر اثرات

معاشی اور دفاعی ماہرین دونوں ہی اسرائیل اور امریکہ کے ایران کے ساتھ عسکری تصادم کی موجودہ صورت حال کو پاکستان کے لیے براہ راست خطرناک سمجھتے ہیں

رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز

ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ کے سبب پاکستانی عوام کی اکثریت ہمسایہ ملک ایران کے سیاسی مستقبل سے متعلق تشویش کا شکار ہے جبکہ خلیج فارس کے خطے میں جاری عسکری تصادم پاکستانی معیشت اور دفاع دونوں کو متاثر کر رہا ہے۔

ان عوامل کے اقتصادی اثرات اب عام پاکستانیوں اور ان کے گھروں کے باورچی خانوں تک پہنچ چکے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ فوڈ سپلائی چین کی کارکردگی کا پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل پر براہ راست انحصار ہے۔ اسی لیے ایندھن کی سپلائی میں ذرا سا تعطل بھی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔

پاکستان میں عام شہری پہلے ہی کمر توڑ مہنگائی کے باعث ‘زندہ رہنے کی جنگ‘ لڑ رہے ہیں۔ اس لیے تہران اور واشنگٹن کے مابین بہت گرم ہو چکی فضا کی تپش ایران کے ہمسایہ ملک پاکستان کے لیے اقتصادی حوالے سے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہو رہی ہے۔ معاشی اور دفاعی ماہرین دونوں ہی اسرائیل اور امریکہ کے ایران کے ساتھ عسکری تصادم کی موجودہ صورت حال کو پاکستان کے لیے براہ راست خطرناک سمجھتے ہیں۔ ان ماہرین کے مطابق اس جنگ سے بالواسطہ متاثر ہونے والا پاکستانی غریب طبقہ تو پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار تھا۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای (جو ایک حالیہ اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے) اور امریکی صدر ڈونلڈ ترمپ کی تصاویر
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای (جو ایک حالیہ اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے) اور امریکی صدر ڈونلڈ ترمپ کی تصاویرتصویر: Andrew Caballero-Reynolds/AFP

تصادم کے تسلسل کی صورت میں ایندھن کی ترسیل میں تعطل

توانائی کے امور کی ماہر عافیہ ملک نےکہا کہ پاکستان کے پاس تیل کے محفوظ ذخائر بہت بڑے نہیں اور یہ ملک اپنی تیل کی ضروریات کے لیے آبنائے ہرمز جیسے راستے پر بھی انحصار کرتا ہے۔ اگر یہ بحری تجارتی راستہ زیادہ عرصے تک جنگ کی زد میں رہا، تو اس سے پاکستان کی آئل سپلائی چین متاثر ہو گی، جس کے نتیجے میں فوڈ سپلائی چین پر پڑنے والے مزید اثرات ملک میں مہنگائی کی بڑی اور نئی لہر کو جنم دے سکتے ہیں۔

ایران یہ اعلان کر چکا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے اور اس بندش کی اس نے پہلے کئی مرتبہ باقاعدہ دھمکی بھی دی تھی۔ یہ ایسا عالمی تجارتی راستہ ہے، جہاں سے دنیا بھر کو پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کا تقریباً 25 فیصد حصہ گزرتا ہے، اور خود پاکستان کو بھی اس کی ضروریات کا زیادہ تر ایندھن اسی راستے سے موصول ہوتا ہے۔

پاکستانی شہر کراچی کی بندرگاہ میں تیل لے کر آنے والا ایک غیر ملکی بحری جہاز اور تصویر میں پیش منظر میں کھڑا ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکار
پاکستانی شہر کراچی کی بندرگاہ میں تیل لے کر آنے والا ایک غیر ملکی بحری جہاز اور تصویر میں پیش منظر میں کھڑا ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکارتصویر: RIZWAN TABASSUM/AFP/Getty Images

پاکستانی تیل کمپنیوں کی قانونی ذمے داری

پاکستان میں مروجہ قانون کے تحت ملک میں کام کرنے والی تیل کمپنیاں اپنے پاس کم از کم 20 دن تک کے لیے کافی ذخائر محفوظ رکھنے کی پابند ہیں۔ تاہم زمینی حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ کئی کمپنیاں اکثر اس امر کی پابندی نہیں کرتیں۔ عافیہ ملک کے مطابق ریگولیٹرز کی طرف سے بار بار کی تنبیہات کے باوجود تیل کے ذخائر کی کمی برقرار رہتی ہے اور یہ بھی بڑی وجہ ہے کہ آئل سپلائی سسٹم میں معمولی سا خلل بھی پاکستان کو فوراً بحران کا شکار بنا دیتا ہے۔

پاکستانی وزارت خزانہ کے سابق مشیر ڈاکٹر خاقان نجیب اس صورتحال کو ملکی اقتصادی استحکام کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی قیمتوں میں کوئی بھی مستقل اضافہ تیل درآمد کرنے والے ملک کے طور پر پاکستان کے درآمدی اخراجات، بیرونی مالیاتی دباؤ اور مہنگائی سبھی میں اضافے کا سبب بنے گا۔

ڈاکٹر خاقان نجیب نے بتایا، ”پاکستان اس تنازعے کا براہ راست حصہ نہ ہونے کے باوجود اپنی معیشت پر اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا اور یہ بات ہمارے مالیاتی نظم و ضبط اور کرنسی کی شرح تبادلہ کے استحکام کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔‘‘

پاکستانی صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف: اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر فضائی حملوں سے پاکستانی حکمرانوں کے لیے علاقائی سطح کی سیاسی مشکلات پیدا ہو چکی ہیں
پاکستانی صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف: اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر فضائی حملوں سے پاکستانی حکمرانوں کے لیے علاقائی سطح کی سیاسی مشکلات پیدا ہو چکی ہیںتصویر: picture alliance / Xinhua News Agency

خطے کی تازہ صورت حال

مشرق وسطیٰ میں اس وقت عسکری تناؤ اپنے عروج پر ہے، جہاں امریکہ اور اسرائیل ایران پر اور جواباﹰ ایران خطے میں اسرائیل اور امریکی فوجی اہداف پر میزائلوں سے مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ ایران اسرائیل پر براہ راست حملے کرنے کے علاوہ خطے کی عرب ریاستوں میں قائم امریکی فوجی اور سفارتی مراکز کو بھی مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔

ایسے میں تنازعے کے کسی مذاکراتی حل کی کوئی فوری عملی امید نہیں اور اب تو بظاہر کوئی مذاکرات ہو بھی نہیں رہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایک بڑے اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد تہران کا غم و غصہ واضح ہے اور وہ کہہ چکا ہے کہ اب امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔

بین الاقوامی سیاسی سطح پر یہ خدشہ بھی ہے کہ یہ فوجی تصادم ایک طویل جنگ کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے مطابق یہ جنگ چار یا پانچ ہفتوں سے زیادہ طویل بھی ہو سکتی ہے، جبکہ ایران بھی یہ اشارے دے چکا ہے کہ وہ طویل المدتی ٹکراؤ کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔

ایران میں بادشاہت کی بحالی کے حامی حلقے (جرمنی میں لی گئی بالائی تصویر) اپنے ملک پر اسرائیل اور امریکہ کے فوجی حملوں کی واضح طور ہر تائید کرتے ہیں
ایران میں بادشاہت کی بحالی کے حامی حلقے (جرمنی میں لی گئی بالائی تصویر) اپنے ملک پر اسرائیل اور امریکہ کے فوجی حملوں کی واضح طور ہر تائید کرتے ہیںتصویر: Michael Kuenne/PRESSCOV/ZUMA/picture alliance

اس سنگین منظر نامے کے بارے میں ماہر اقتصادیات ڈاکٹر خاقان نجیب کہتے ہیں کہ یہ صورت حال ’’عالمی برادری کے لیے ایک بھیانک امتحان‘‘ ہے۔

دفاعی محاذ پر پاکستان کے لیے چیلنج

ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ کے باعث پاکستان کو درپیش چیلنج دو طرح کے ہیں، اقتصادی اور دفاعی نوعیت کے۔ پاکستان کے سابق وزیر دفاع اور دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعیم خالد لودھی اس صورتحال کو محض اتفاقیہ تصادم کے طور پر نہیں بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے نتیجے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

جنرل لودھی ایسے عناصر کو کڑی تنبیہ کرتے ہیں، جو اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ پاکستان اس تصادم کے اثرات سے محفوظ رہے گا۔ ان کے نزدیک یہ ”باریاں لے لے کر کھیلا جانے والا ایک ایسا کھیل ہے، جس کی لپیٹ میں خطے کے کئی ممالک آ چکے ہیں۔‘‘

پاکستان میں پٹرول کی قلت کے دنوں میں ایک پٹرول پمپ سے بوتلوں میں پٹرول خریدتے صارفین، فائل فوٹو
پاکستان میں پٹرول کی قلت کے دنوں میں ایک پٹرول پمپ سے بوتلوں میں پٹرول خریدتے صارفین، فائل فوٹوتصویر: PPI/ZUMA Press Wire/picture alliance

انہوں نے واضح طور پر کہا، ”جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دیا جائے گا، انہیں اپنے اس وہم سے باہر نکلنا چاہیے۔ سلامتی کے عالمی تناظر میں دیکھیں، تو یہ ایک باقاعدہ سلسلہ ہے۔ آج اگر ایران پر حملہ  ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگلا نمبر پاکستان کا بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ ہمارے پڑوسی پر حملہ دراصل ہمارے گھیراؤ کی ابتدا ہے۔‘‘

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعیم خالد لودھی کی رائے میں ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ کا جاری رہنا پاکستان کے لیے اس کے اپنے حوالے سے دوہری آزمائش کا وقت ہے، ”اس لیے کہ ایک طرف تو پاکستان کے حریف ہمسایہ ملک بھارت میں کسی نئی مہم جوئی کی خواہش پیدا ہو سکتی ہے، جس کے لیے اسلام آباد کو تیار رہنا ہے، اور دوسری جانب افغانستان سے ملحقہ سرحد پر بھی سلامتی کے بڑے مسائل کا واضح خطرہ تو ہے ہی۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button