انٹرٹینمینٹتازہ ترین

جرمن اینی میٹڈ فلم Butty امریکہ میں T-130 کیسے بنی؟

دو جرمن  طلباء کی تخلیق ’’اینی میٹڈ شارٹ فلم Butty ‘‘ کو ایک امریکی طالب علم نے چوری کرکے T-130 کے نام سے فیسٹیولز میں جمع کرایا اور انعامات بھی جیتے۔

زلکے وُنش

ایک امریکی طالب علم نے جرمنی کے شعبہ فلم کے دو طالب علموں کی فلم چوری کی اور اس کے ساتھ ایوارڈز جیتے۔ جرمن طالبعلموں نے قانونی کارروائی کے بجائے، چوری شدہ ورژن کی مدد سے اسے ایک دستاویزی فلم میں تبدیل کر دیا۔

دو جرمن  طلباء کی تخلیق ’’اینی میٹڈ شارٹ فلم Butty ‘‘ کو ایک امریکی طالب علم نے چوری کرکے T-130 کے نام سے فیسٹیولز میں جمع کرایا اور انعامات بھی جیتے۔

برلن کی فلم فیکلٹی میں زیر تعلیم دو طلباء کے ساتھ ایک حیرت انگیز اور غیر معمولی واقعہ پیش آیا۔ مورٹز ہینیبرگ اور یولیس ڈروسٹ نے اپنے فائنل پروجیکٹ کے طور پر ایک مختصر اینی میٹڈ فلم تیار کی، جس میں ایک گھریلو روبوٹ دکھایا گیا، جو اپنی ذمہ داریاں درست طور پر انجام دینے میں ناکام رہتا ہے اور اسی وجہ سے اسے گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔ یہ نرم دل چھو لینے والی کہانی اُس وقت دیکھتے ہی دیکھتےوائرل ہو جاتی ہے جب دونوں طالب علم اپنی اینی میٹڈ فلم   Butty یوٹیوب پر پوسٹ کرتے ہیں۔ بہت زیادہ ویوز اور عوامی دلچسپی انہیں مختلف فلمی میلوں میں اپنی تخلیق پیش کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ لیکن جلد ہی انہیں ایک بڑے صدمے کا سامنا ہوتا ہے، انہیں بتایا جاتا ہے کہ بالکل اسی نوعیت کی ایک اور فلم پہلے ہی موجود ہے، مگر ایک مختلف نام سے۔

عثمان ریاض کی اینیمیٹڈ فلم دس سال کی محنت کا نتیجہ ہے

یہ کیسے ہوا؟

ہوا یہ کہ ایک امریکی طالب علم سیموئیل فیلنٹن نے فلم ڈاؤن لوڈ کی، اس میں معمولی تبدیلیاںن  کیں، اسے نیا ٹائٹل T-130 دیا اور اصل کریڈٹ حذف کر دیا۔ اپنے ورژن کے ساتھ، اس نے متعدد ایوارڈز جیتے اور امریکہ میں ایک مشہور شخصیت بن گیا۔

چوری کی اس ڈھٹائی پر حیران ہو کر مورٹز اور یولیس نے قانونی ماہرین سے رابطہ کیا، مگر انہیں بتایا گیا کہ عدالتی کارروائی نہ صرف پیچیدہ بلکہ بے حد مہنگی بھی ہوگی۔ چنانچہ دونوں نے خود ہی اس صورتحال کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا اور امریکہ جا کر فیلنٹن سے روبرو ہونے اور اسی موضوع پر ایک دستاویزی فلم بنانے کا منصوبہ بنایا۔

اس تصویر میں جرمن اسٹوڈنٹ اور اینی میٹڈ فلم  Butty کی تخلیق کرنے والے دونوں نوجوان ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت میں مصورف نظر آ رہے ہیں
مورٹز ہینیبرگ اور یولیس ڈروسٹ نے اپنے فائنل پروجیکٹ کے طور پر ایک مختصر اینی میٹڈ فلم Butty تیار کی تھیتصویر: MDR/Benedikt Hugendubel

مورٹز نے بتایا، ”ہم اس سے قبل بھی ڈاکیومینٹریز بنا چکے ہیں، اس لیے فوراً خیال آیا کہ یہ ازخود ایک زبردست کہانی ہے، کیوں نہ اس پر ہی فلم بنا دی جائے؟‘‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں کے اندر اُس  امریکی  کے لیے عجیب سا تجسس اور دلچسپی پیدا ہوگئی جس نے ان کی فلم چرائی تھی۔ یولیس کے بقول، ’’ہم نے اس کے وی۔لاگز دیکھے اور رفتہ رفتہ اس کی دنیا میں کھو گئے۔ ہمارے لیے تو وہ کسی مشہور شخصیت جیسا بن گیا تھا۔ ہم نے اس کے بارے میں بہت کچھ جان لیا تھا تاہم  اس سے ذاتی طور پر ملنے کی خواہش بھی ہمارے اندر پیدا ہوگئی تھی۔‘‘

غصے کی جگہ تجسس

غصے کی بجائے، مورٹز اور یولیس اس صورتحال سے حیران اور متجسس ہو گئے، جبکہ ان کے اہلِخانہ اور دوست شدید ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔ دونوں حقیقت جاننے کے لیے فیلنٹن سے ملنے مورگن ٹاؤن، ویسٹ ورجینیا پہنچے، جہاں ایک فلم ساز کی مدد سے انہوں نے اس کا اعتماد حاصل کیا۔ آمنے سامنے ملاقات میں فیلنٹن نے نہ کوئی جذبات دکھائے اور نہ ہی جھجک، بلکہ پرسکون انداز میں بتایا کہ اس نے فلم کو کیسے چھوٹا اور ’’بہتر‘‘ بنایا، اور یہ بھی کہ اس فلم کے لیے اُسے جو انعامی رقم ملی ہے وہ ان دونوں کے حوالے کر دے  گا۔ حیرت انگیز طور پر، ملاقات کے بعد وہ تینوں اکٹھے بیٹھے، کھانا کھایا اور یہاں تک کہ باسکٹ بال بھی کھیلا۔

اس تصویر میں مورٹز ہینیبرگ اور یولیس ڈروسٹ نیو یارک کی ایک معروف سڑک پر گھومتے پھرتے نظر آ رہے ہیں
مورٹز ہینیبرگ اور یولیس ڈروسٹ مورگن ٹاؤن نے ویسٹ ورجینیا جا کر امریکی طالب علم سیموئیل فیلنٹن سے ملاقات کیتصویر: MDR/Benedikt Hugendubel

مقدمہ کریں یا تخلیقی رہیں؟

ناظرین کے ردِعمل منقسم تھے، کچھ کے مطابق مورٹز اور یولیس کو چوری کرنے والے کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے تھی، جبکہ دوسروں نے ان کے پُرسکون اور تخلیقی رویّے کی تعریف کی۔ دونوں نے قانونی لڑائی کی بجائے انسانیت دکھانے کا فیصلہ کیا اور یہی سوچ کر اپنی ڈاکیومینٹری ”دی ٹیلنٹڈ مسٹر ایف‘‘ بنائی، کیونکہ ان کے مطابق فیلنٹن نے بھی ایک جھوٹی شناخت اختیار کر رکھی تھی۔

ہائی پروفائل سپورٹ

سیموئیل نے واقعی جیتی ہوئی ٹرافیز اور کچھ رقم  مورٹز ہینیبرگ اور یولیس ڈروسٹ کو واپس بھیج دی۔ تاہم فلم فیسٹولز نے اس متنازعہ  معاملے سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری لینے سے انکار کردیا۔ ایک منتظم نے صاف کہہ دیا کہ انعام دیا جا چکا ہے، اس کے بعد معاملہ فلم سازوں کو خود آپس میں ہی حل کرنا ہوگا۔

پاکستان میں اینیمیٹڈ فلم بنانا ایک مشکل کام ہے: عزیر ظہیر خان

یہ واقعہ ابھی امریکہ میں زیادہ معروف نہیں، مگردستاویزی فلم کی وہاں نمائش کے بعد صورتحال بدل سکتی ہے۔  اس اینی میٹڈ فلم کی بین الاقوامی لانچ کو پروڈکشن کمپنی کے سرمایہ کار رولانڈ ایمیرش سمیت کئی بڑی شخصیات کی حمایت حاصل ہوگی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تنازعے کے نتیجے میں دونوں جرمن نوجوان فلم سازوں کو فائدہ بھی پہنچا۔ ان کی اصل اینی میٹڈ فلم، جو اکتوبر 2025 میں جرمنی میں ریلیز ہونے والی ڈاکیومینٹری کے بعد دوبارہ اپ لوڈ کی گئی، اب یوٹیوب پر کہیں زیادہ توجہ حاصل کر رہی ہے، اور اس بار کریڈٹس میں سیموئیل فیلٹن کا نام بھی شامل ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button