
نیتا کولہاٹکر
ممبئی: ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں اور ایران کے جوابی حملوں کے دسویں روز دنیا بھر کی منڈیاں پیر کے روز منفی رجحان کے ساتھ کھلیں۔ اس کی بڑی وجہ خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اور تیز اضافہ ہے، جو 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا کر چند ہی منٹوں میں 120 ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ماہرین اسے بڑا ایک "جھٹکا” قرار دے رہے ہیں، جو آخری بار 1973 میں عرب اسرائیل جنگ کے دوران دیکھا گیا تھا۔
کوٹک سیکیورٹیز کے تحقیقاتی شعبے کے سربراہ انندیہ بنرجی نے ای ٹی وی بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ "اس بار صورتحال مختلف ہے۔” ان کے مطابق تیل کی منڈی میں ایسا "مقدار کا جھٹکا” 1970 کے بعد پہلی بار دیکھنے کو مل رہا ہے۔
اس سال کے آغاز میں خام تیل کی قیمت تقریباً 60 ڈالر فی بیرل تھی۔ 27 فروری کو یعنی امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے ایک دن پہلے تیل کی قیمت 71 ڈالر فی بیرل تھی۔
بعد میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی جس کے بعد 6 مارچ تک قیمت 77 ڈالر سے بڑھ کر 92 ڈالر ہو گئی۔ پیر کی صبح منڈی کھلی تو قیمت پہلے 92 ڈالر تھی، پھر اچانک 112 ڈالر تک پہنچی اور کچھ ہی دیر میں 120 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق 2022 میں روس۔یوکرین جنگ کے دوران جب تیل 125 ڈالر فی بیرل تک چلا گیا تھا، وہ صرف عارضی رکاوٹ تھی۔ انندیہ بنرجی نے کہا کہ اس وقت برآمدات کا نظام جلد ٹھیک ہو گیا تھا، لیکن اس بار صورتحال حقیقی خلل اور طویل مدت کی طرف جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "اس وقت زیادہ تر کمپنیاں اپنے ذخیرے سے تیل استعمال کر سکتی ہیں، مگر یہ ذخیرہ محدود ہوتا ہے اور جلد ختم بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق آنے والے ہفتے بہت اہم ہوں گے کیونکہ کمپنیاں اپنے ذخائر استعمال کرنا شروع کریں گی۔ اگر آبنائے ہرمز زیادہ عرصہ تک بند رہی تو ہر ہفتے اثر مزید شدید ہو سکتا ہے۔”
اس صورتحال کا فوری اثر عالمی اسٹاک مارکیٹوں پر بھی نظر آیا۔ سرمایہ کاروں کے ردعمل کے بعد جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں سرکٹ بریکر تک لگانا پڑا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف شروعات ہو سکتی ہے۔ تیل کے ساتھ ساتھ بھارت جو بھی چیزیں درآمد کرتا ہے، ان سب پر اس کا منفی اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ اس کا اثر ایک زنجیر کی طرح آگے بڑھتا ہے۔
کموڈیٹی ماہر وجے بھمبوانی کے مطابق بھارت کو درآمدی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جو چیزیں باہر سے آتی ہیں وہ سب مہنگی ہو جائیں گی۔ اس کے ساتھ روپے کی قدر مزید کم ہونے اور مالی لاگت بڑھنے کا بھی خدشہ ہے۔
خام تیل کی قیمت بڑھنے سے ایل این جی، کھاد، یوریا، پھل، اناج، سبزیاں اور دیگر درآمدی اشیاء بھی مہنگی ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ترقیاتی شعبے پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ ایلومینیم کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔




