کالمزناصف اعوان

ایران کو تر نوالا سمجھا گیا ؟……ناصف اعوان

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کی بہت تباہی ہو چکی ہے اس کی اہم ترین شخصیات کو شہید کر دیا گیا ہے اس کے انفرا سٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا بنایا جا رہا ہے

کل تک زندگی جس انداز سے گزر رہی تھی اب وہ انداز زیست بدل چکا ہے ۔ شعور پہلے محدود تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ترقی پا چکا ہے ۔بیداری کی لہریں دل و دماغ کو بار بار ٹہوکے لگا رہی ہیں لہذا عقل کا تقاضا ہے کہ بدلتے وقت کے ساتھ آگے بڑھا جائے مگر نہیں کچھ لوگ ایسا نہیں چاہتے وہ اپنے مخصوص طرز عمل کو قائم دائم رکھنا چاہتے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل نے غزہ فتح کرکے یہ سوچ لیا کہ گریٹر اسرائیل کی راہ میں کوئی ملک روڑے نہیں اٹکائے گا جو سامنے آئے گا بھی اسے مٹا دیا جائے گا خلیجی ممالک تو کوئی اکڑ فوں نہیں دکھا سکتے تھے نہیں دکھا سکتے ہیں۔ مگرایران کو سمجھا گیا کہ وہ ایک روز ضرور ان کو آنکھیں دکھائے گا لہذا انہوں نے اسے جارحیت کا نشانہ بنا ڈالا۔ اس پر اس لئے بھی چڑھائی کی گئی کہ وہ اکیلا ہے اور جدید ٹیکنالوجی سے محروم ہے لہذا وہ تر نوالا ثابت ہوگا مگر منظر اس کے برعکس نمودار ہو گیا ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کی بہت تباہی ہو چکی ہے اس کی اہم ترین شخصیات کو شہید کر دیا گیا ہے اس کے انفرا سٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا بنایا جا رہا ہے کہ ابھی جنگ جاری ہے مگر انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ وہ ان کے لئے تباہ کن ثابت ہو گا یعنی ایران نے ان کی اینٹ سے بجا کر رکھ دی ہے خلیجی ملکوں میں امریکی اڈے تہس نہس کر دئیے گئے ہیں وہاں تعینات فوجی اب واپسی کے سفر پر روانہ ہیں ۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جتنی بڑی طاقتیں ہیں انہیں اپنے ذہن میں یہ بات ڈال لینی چاہیے کہ اب خلیل خاں کے فاختہ اڑانے کا وقت بیت گیا لہذا انہیں جدید اسلحہ سے نہیں دماغی قوت سے کوئی بھی مسلہ حل کرنا ہو گا پھر توسیع پسندی کا خواب دیکھنا بند کرنا ہو گا کیونکہ مزاحمت تقویت پا چکی ہے اور جن ملکوں کو فتح کرنے کا خیال ہے انہیں ان کے قرب و جوار کے ممالک ہر طرح کی مدد فراہم کر رہے ہیں ۔
ایران کو ہی دیکھ لیجیے اسے جدید ٹیکنالوجی سے لیس بڑی طاقتوں نے کیا ہے اب اس کے پاس انتہائی خطرناک سامان حرب و ضرب ہے جنہیں دیکھ کر بندہ حیران رہ جاتا ہے ۔ کیا امریکا یا اسرائیل کو اس امر کا اندازہ نہیں تھا ۔ ان کی معلومات محدود کیسے ہو گئیں؟
بہرحال اس جنگ نے عربوں کا جھاکا ختم کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ سر اٹھانے لگے ہیں کیونکہ انہیں یہ علم نہیں تھا کہ چین روس اور شمالی کوریا جدید ہتھیار بنا چکے ہیں کہا جارہا ہے کہ ایسے بھی ہتھیار ان کے پاس ہیں جو کسی دوسرے سامراجی ملک کے پاس نہیں لہٰذا اسرائیل کے اندر غزہ ایسا منظر دیکھا جا رہا ہے اور لوگ جنگ بند کرنے کی التجائیں کر رہے ہیں مگر وہ بھول رہے ہیں کہ جب فلسطینی بچوں بڑوں کے چیتھڑے اڑائے جارہے تھے اور بچ رہنے والوں تک خوراک نہیں پہنچنے دی جا رہی تھی تو وہ کیوں خاموش تھے انہیں اپنی حکومت سے احتجاج کرنا چاہیے تھا مگر کسی دوسرے کے دکھ کو اس وقت ہی محسوس کیا جاتا جب خود کو دکھ تکلیف پہنچے ۔ اس کے باوجود ہماری رائے یہ ہے کہ جنگ روک دینی چاہیے کون جیتا کون ہارا یہ نہیں سوچنا چاہیے ۔انسان بڑے مصائب سے دوچار ہیں بھوک بیماری اور آزردگی نے انہیں بدحال کر رکھا ہے ۔جتنی توانائیاں اسلحہ و بارود اکٹھا کرنے میں صرف کی جا رہی ہیں انہیں فلاح وبہبود کے لئے خرچ کیا جائے اندازہ کیجئیے کہ کس قسم کی جنگی ایجادات ہو رہی ہیں ایک دوسرے کو تباہ و برباد کرنے کے لئے۔ ایٹم بم ہائیڈروجن بم اور نیپام بم بنائے جا رہے ہیں ۔آج کے مہذب معاشروں کو سوچنا چاہیے کہ کبھی جنگوں سے بھی تنازعات یا مسائل حل ہوئے ہیں ۔ مزاکرات سے ہی معاملات طے ہوئے لہذا ظلم و جبر کی روش اختیار کرنے سے اجتناب برتا جائے ۔ ایران اسرائیل اور امریکا جنگ میں کھرب ہا ضائع کر چکے ہیں اور وہ سلسلہ ہنوز جاری ہے جس کا انسانیت کو ذرہ بھر فائدہ نہیں ۔ اس جنگ میں البتہ امریکا کو یہ سبق ضرور ملا ہے کہ وہ جو ہر کسی کو سینہ زوری کی دھمکی دیتا تھا اس کا پول کھل گیا ہے کہ اب طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے ۔چین روس شمالی کوریا اور ایران نے امریکا اور اسرائیل وغیرہ کو روک کر اور جوابی وار کرکے تگنی کا ناچ نچایا ہے لہذا اب عرب ممالک کو فیصلہ کر لینا چاہیے کہ انہوں نے آئندہ کس کے پلڑے میں جانا ہے کیونکہ صاف ظاہر ہے کہ سپر پاور چین روس ہیں وہ ہر اعتبار سے امریکا سے آگے ہیں لہذا خلیجی ملکوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ اب تک اسرائیل اور امریکا کے آگے کھڑے نہیں ہو سکے کہ ان کے پاس جدید ترین جنگی سامان ہے مگر ایران نے اس کی ٹیکنالوجی کو اڑا کر رکھ دیا ہے یعنی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ہے ہے لہذا عالمی منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے ۔دنیا کو ایک بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ چین روس اور شمالی کوریا سے کوئی بڑے سے بڑا اتحاد بھی ٹکرانے کی جرات نہیں کر سکتا کہ وہ معاشی اور دفاعی لحاظ سے حیران کن حد تک طاقتور ہیں لہذا امریکا ایسے ملک کو امن کی راہ پے چلنا ہو گا اس کی معیشت ڈوب رہی ہے ۔ پنگے بازی میں پڑ کر اس نے دیکھ لیا ہے اب تک جس ملک میں بھی وہ جارح بن کر داخل ہوا اسے شکست فاش ہوئی۔
بہر کیف امریکا کی جو خواہش تھی کہ ایران میں وہ اپنی کٹھ پتلی حکومت بنا کر اس خطے پر حکمرانی کرے گا اور یہاں سے قدرتی وسائل سمیٹ کر اپنے ملک لے جائے گا اور یہ ثابت کرے گا کہ وہی بڑی طاقت ہے لہذا اس کی بات کو ہر صورت مانا جائے مگر اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکی ۔ہو بھی کیسے سکتی ہے کہ اس خطے میں دو بڑی طاقتیں موجود ہیں جو کسی صورت اس کو برداشت نہیں کر سکتیں لہذا انہوں نے اس کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے ۔ امریکا تو آبنائے ہرمز میں سے کوئی بحری جہاز گزارنے کی پوزیشن میں نہیں اسی لئے پاکستان کو کہا ہے کہ وہ کچھ کرے ۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی کو چھوڑے اور مزاکرات کی میز پر آئے وہ جو چاہتا ہے ویسا نہیں ہو گا ۔دنیا وہ نہیں رہی جو بیس تیس برس پہلے تھی وہ اس کی چالوں کو اس کی پالیسیوں کو جان چکی ہے۔ اس نے ہمیشہ اپنا مفاد سامنے رکھا اور دوسروں کو دھوکا دیا لہذا اب وہ ہر طرح سے نقصان اٹھا رہا ہے اسی لئے اس کے عوام سڑکوں پر آگئے ہیں اور اسے پنگا لینے سے روک رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہمیں جنگ نہیں امن چاہیے یوں صورت حال بتدریج تبدیل ہو رہی ہے جسے روکا نہیں جاسکتا !

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button