کالمزسید عاطف ندیم

خاموش مذاکرات، اچانک جنگ اور عالمی سیاست کا پیچیدہ منظرنامہ……..سید عاطف ندیم

ایک غلط لفظ یا مبہم جملہ پورے معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، جبکہ ایک درست جملہ برسوں کی کشیدگی ختم کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے

حالیہ ایران۔امریکہ کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی سیاست کی اس حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ جنگ اور امن کے فیصلے اکثر بظاہر معمولی مگر انتہائی حساس سفارتی عمل کے نتیجے میں طے ہوتے ہیں۔ سفارت کاری کی دنیا میں بسا اوقات وہ عناصر سب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں جنہیں عام نظر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہے۔ مذاکراتی میز کی ترتیب، نشستوں کا زاویہ، اور حتیٰ کہ پانی کے گلاسوں کا فاصلہ بھی سفارتی ماحول پر اثرانداز ہوتا ہے۔ یہی باریکیاں بڑی سیاسی پیش رفت یا تعطل کا باعث بن سکتی ہیں۔
ایک صحافی کے طور پر وسطی ایشیا کے ممالک خصوصاً سی آئی ایس ریاستوں کے سفیروں اور حکومتی شخصیات کے ساتھ قریبی روابط نے یہ واضح کیا کہ بین الاقوامی تعلقات میں اصل فیصلے اکثر بند کمروں میں ہوتے ہیں، جہاں الفاظ کو نہایت احتیاط سے منتخب کیا جاتا ہے اور ہر جملہ گھنٹوں بلکہ دنوں کی بحث کے بعد تشکیل پاتا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران براہ راست مذاکرات ممکن نہیں تھے، اس لیے ثالثی سفارت کاری کا سہارا لیا گیا۔ عمان کے دارالحکومت مسقط اور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا جیسے سفارتی مراکز اس عمل کے اہم مقامات بنے۔ یہاں پس پردہ پیغامات ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک پہنچائے جاتے رہے۔
ان مذاکرات کے دوران کئی حساس امور زیر بحث آئے، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے اس حوالے سے غیر معمولی سفارتی لچک کا مظاہرہ کیا۔ اس میں افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو صفر تک محدود کرنے، موجودہ مواد کو کم ترین سطح تک لانے اور اسے ناقابل واپسی ایندھن میں تبدیل کرنے جیسے اقدامات شامل تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ مکمل بین الاقوامی نگرانی قبول کرنے کی آمادگی بھی ظاہر کی گئی، جو کسی بھی سفارتی پیش رفت کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔
سفارتی عمل کی پیچیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک اہم جملہ طے کرنے میں گیارہ دن لگ گئے۔ یہ جملہ تھا:
“کبھی، ہرگز نہیں۔”
سفارت کاری میں الفاظ کی طاقت غیر معمولی ہوتی ہے۔ ایک غلط لفظ یا مبہم جملہ پورے معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، جبکہ ایک درست جملہ برسوں کی کشیدگی ختم کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اسی لیے سفارتی مذاکرات میں ہر لفظ کو تول کر استعمال کیا جاتا ہے۔
فروری کے آخر میں مذاکراتی ماحول نسبتاً مثبت نظر آ رہا تھا۔ مختلف بیانات میں کہا گیا کہ معاہدہ "دسترس میں” ہے۔ واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا گیا۔ اس صورتحال سے یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ طویل کشیدگی کے بعد کوئی قابل عمل سفارتی حل سامنے آ سکتا ہے۔
لیکن یہ امید زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ چند ہی دنوں میں حالات نے غیر متوقع موڑ لے لیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی رفتار پر عدم اطمینان ظاہر کیا اور اچانک فوجی کارروائیوں کا اعلان کر دیا۔ اس طرح وہ عمل جو مہینوں کی سفارتی محنت سے آگے بڑھ رہا تھا، چند گھنٹوں میں بدل گیا۔
یہ صورتحال ایک اہم حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ سفارتی مذاکرات اور جنگی فیصلوں کے درمیان فاصلہ اکثر حیران کن حد تک کم ہوتا ہے۔ ایک طرف مذاکراتی میز پر جملوں کی تشکیل میں دنوں لگ رہے تھے، جبکہ دوسری طرف عسکری کارروائیوں کے منصوبے چند گھنٹوں میں تیار ہو رہے تھے۔
یہ تضاد عالمی سیاست کی ایک بنیادی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے:جنگ کا فیصلہ تیز اور نمایاں ہوتا ہے۔امن کی تیاری سست اور خاموش ہوتی ہے۔
اس کشیدگی کے عالمی معیشت پر فوری اثرات بھی دیکھنے میں آئے۔ عالمی منڈیوں نے روایتی ردعمل دیتے ہوئے دفاعی صنعتوں کی کمپنیوں کے حصص میں اضافہ دکھایا۔ جرمنی اور دیگر ممالک کی دفاعی کمپنیوں کے اسٹاک اوپر چلے گئے۔
یہ رجحان اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ کی معیشت فوری مالی فوائد پیدا کرتی ہے، جبکہ امن کی معیشت طویل المدتی اور نسبتاً خاموش اثرات رکھتی ہے۔
سفارت کاری کا بنیادی سوال یہ ہے کہ تمام صورتحال کے تناظر میں ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے:
کیا عالمی طاقتیں سفارت کاری کو اتنا وقت دیتی ہیں جتنا وہ تقاضا کرتی ہے؟
اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں پہنچتے ہیں تو سیاسی دباؤ، داخلی سیاست یا اسٹریٹجک خدشات کے باعث اچانک فیصلے کر لیے جاتے ہیں۔ اس طرح وہ سفارتی عمل جو کسی بڑے معاہدے کی بنیاد بن سکتا تھا، ادھورا رہ جاتا ہے۔
نتیجہ
حالیہ ایران۔امریکہ کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ سفارت کاری ایک انتہائی باریک اور صبر آزما عمل ہے۔ یہ بند کمروں میں خاموشی سے آگے بڑھتا ہے اور اس کی کامیابی کے لیے وقت، تحمل اور مستقل مزاجی ضروری ہوتی ہے۔
جنگ سرخیوں میں جگہ بناتی ہے، مگر تاریخ اکثر ان خاموش کمروں کے فیصلوں سے تشکیل پاتی ہے جہاں سفارت کار گھنٹوں کی بحث کے بعد ایک جملہ طے کرتے ہیں۔
شاید اصل مسئلہ یہ نہیں کہ مذاکرات ناکام تھے، بلکہ یہ ہے کہ انہیں مکمل ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا۔ اور یوں ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے آئی کہ مذاکراتی میز پر پانی کے گلاس درست فاصلے پر رکھ دینا کافی نہیں ہوتا—اگر میز ہی الٹ دی جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button