
رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز

سفارتی چینلز کیوں خاموش ہیں؟
ماضی میں قطر پاکستان اور طالبان کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ دوحہ میں ہونے والی بات چیت کے ذریعے بعض مواقع پر کشیدگی کو کم کرنے میں مدد بھی ملی تھی۔ تاہم موجودہ صورتحال میں قطر کا کردار نمایاں نظر نہیں آ رہا۔
مختلف ممالک میں پاکستانی سفیر کی ذمہ داریاں ادا کرنے والے عبدالباسط کے مطابق چین نے کسی حد تک کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا بحران بڑھتا جا رہا ہے۔
گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس تنازعے کو طویل عرصے تک جاری رکھنا کسی کے مفاد میں نہیں، "افغانستان کو عسکری لحاظ سے کمزور سمجھنا ایک بڑی غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ افغان گروہ غیر روایتی جنگ کے ماہر ہیں اور ایسے تنازعات طویل عرصے تک جاری رہ سکتے ہیں۔”
عبدالباسط کے مطابق اس طرح کی صورتحال میں بیک ڈور سفارت کاری انتہائی اہم ہو جاتی ہے، تاہم بظاہر اس وقت ایسے رابطوں کی مؤثریت محدود دکھائی دیتی ہے۔
عبدالباسط کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف افغانستان تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق اس بار پاکستان نے ایسا مؤقف اور طرز عمل اختیار کیا ہے جسے کابل قبول کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔
وہ کہتے ہیں، "ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان افغانستان کو ڈکٹیٹ کرنا چاہتا ہے، لیکن یہ شاید ممکن نہ ہو۔ افغان ڈکٹیشن نہیں لیں گے اور اس سے تنازعہ مزید بڑھ سکتا ہے۔”
پاکستان کی افغان پالیسی میں تبدیلی کے آثار
موجودہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی طویل سفارتی اور سکیورٹی تاریخ بھی زیرِ بحث آ رہی ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے وعدہ خلافی نے حالات کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سکیورٹی امور کی ماہر ماریا سلطان کہتی ہیں کہ پاکستان کی افغانستان سے متعلق پالیسی طویل عرصے تک اس تصور پر مبنی رہی کہ ایک پرامن افغانستان ہی پاکستان کے لیے استحکام کی ضمانت ہے۔
ان کے مطابق اسلام آباد نے ماضی میں طالبان قیادت کے ساتھ قریبی سیاسی اور سکیورٹی روابط برقرار رکھے، خصوصاً اس وقت جب 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے۔

تاہم ماریا سلطان کے مطابق اس تعاون کی ایک بنیادی شرط یہ تھی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو گی۔ ان کے بقول، "امریکی انخلا کے بعد پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ تعداد سالانہ تقریباً پانچ سو حملوں تک پہنچ گئی۔”
ان کے مطابق یہی صورتحال اسلام آباد کو اپنی کئی دہائیوں پر محیط افغان پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر رہی ہے اور پاکستان اب زمینی حقائق کے مطابق نئی سکیورٹی حکمت عملی ترتیب دے رہا ہے۔
کیا رابطے مکمل طور پر منقطع ہو چکے ہیں؟
ماہرین کے مطابق موجودہ کشیدگی کے باوجود یہ امکان مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ دونوں ممالک کے درمیان بیک ڈور رابطے اب بھی موجود ہوں۔ تاہم ان رابطوں کی عدم موجودگی یا کمزوری کا تاثر خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو بڑھا رہا ہے۔
سابق سفیر عبدالباسط کے مطابق اس تنازعے کو جلد از جلد سفارتی ذرائع سے حل کرنا ضروری ہے۔ ان کے بقول اگر اس مسئلے کو سیاسی اور سفارتی سطح پر حل نہ کیا گیا تو یہ تنازعہ طویل ہو سکتا ہے۔
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ حالیہ کارروائیاں افغانستان میں موجود ان شدت پسند گروہوں کے خلاف کی جا رہی ہیں جو پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ دوسری جانب افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں اور ان کارروائیوں کو جارحیت قرار دیتے ہیں۔



