پاکستاناہم خبریں

فیکٹ چیک: وانا میں افغان طالبان کے حملے کے دعوے کی حقیقت سامنے آ گئی

سرکاری ذرائع کے مطابق اس واقعے کے دوران نہ تو کسی فوجی تنصیب کو نقصان پہنچا اور نہ ہی کسی قسم کا انفراسٹرکچر متاثر ہوا

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز، سرکاری ذرائع کے ساتھ

پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں مبینہ حملے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کیا گیا حملے کا دعویٰ حقیقت کے منافی اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔

فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی نام نہاد وزارت دفاع کے ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ Ministry of Defense of Afghanistan سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ وانا میں ایک کامیاب حملہ کیا گیا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل صورتحال اس سے بالکل مختلف ہے۔

ڈرون کو نرم مار اقدامات کے ذریعے تباہ کیا گیا

حکام کے مطابق جنوبی وزیرستان میں ایک ابتدائی نوعیت کے ڈرون کی نشاندہی کی گئی جسے سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نرم مار (Soft Kill) اقدامات کے ذریعے تباہ کر دیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ڈرون کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا اور وہ اپنے کسی ممکنہ ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اس واقعے کے دوران نہ تو کسی فوجی تنصیب کو نقصان پہنچا اور نہ ہی کسی قسم کا انفراسٹرکچر متاثر ہوا۔ سیکیورٹی حکام نے فوری طور پر علاقے کو کلیئر کر کے صورتحال کو مکمل طور پر قابو میں کر لیا۔

وانا کا حساس سرحدی پس منظر

جنوبی وزیرستان کا شہر Wana قبائلی ضلع South Waziristan کا اہم مرکز ہے اور یہ علاقہ ماضی میں سیکیورٹی کے حوالے سے حساس سمجھا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز یہاں دہشت گردی کے خلاف متعدد آپریشنز کر چکی ہیں اور سرحدی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات میں فوری ردعمل اور جدید دفاعی اقدامات کے ذریعے خطرات کو ناکام بنانا پاکستان کی سرحدی سلامتی کے نظام کی مؤثریت کو ظاہر کرتا ہے۔

پروپیگنڈا مہم اور جھوٹے دعووں کا سلسلہ

وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے یہ دعویٰ ان کے اس مسلسل طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے جس میں وہ بغیر تصدیق کے کامیابی کے دعوے کرتے ہیں۔ حکام نے یاد دلایا کہ حالیہ دنوں میں بھی اسی طرح کے جھوٹے دعوے سامنے آئے تھے جن میں پاکستان ایئر فورس کے ایک طیارے کو مار گرانے اور پائلٹوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

تاہم سرکاری ذرائع نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات دراصل پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہوتے ہیں جن کا مقصد عوام میں خوف اور غلط فہمی پیدا کرنا ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پر گمراہ کن معلومات کا پھیلاؤ

ماہرین کے مطابق موجودہ دور میں سوشل میڈیا جنگی اور سفارتی بیانیے کا ایک اہم میدان بن چکا ہے جہاں غلط معلومات تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔ اسی لیے حکام نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین کرنے سے گریز کریں اور صرف مستند سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔

وزارت اطلاعات نے کہا کہ گمراہ کن اطلاعات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فیکٹ چیکنگ کا نظام مزید مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو بروقت درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔

پاکستان کا مؤقف

پاکستانی حکام کے مطابق ملک کی سیکیورٹی فورسز سرحدی علاقوں میں مکمل طور پر چوکس ہیں اور کسی بھی قسم کے خطرے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

فیکٹ چیک رپورٹ کے اختتام پر وزارت اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ سچائی ہمیشہ سامنے آتی ہے اور جھوٹے دعوے دیرپا نہیں ہوتے۔ حکام کے مطابق حق ہمیشہ باطل پر غالب رہتا ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button