پاکستاناہم خبریں

باجوڑ میں سرحد پار مارٹر حملہ، ایک ہی خاندان کے چار بھائی جاں بحق، بچہ زخمی

مقامی ذرائع اور حکام کے مطابق سرحد پار سے کیے گئے توپ خانے اور مارٹر فائر کے نتیجے میں ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا گیا جس کے باعث گھر میں موجود افراد ملبے تلے دب گئے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،سرکاری ذرائع کے ساتھ

خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں سرحد پار سے ہونے والی مبینہ شیلنگ کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق جبکہ ایک کمسن بچہ شدید زخمی ہو گیا۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ 15 مارچ 2026 کو سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے ضلع کے سرحدی علاقے خیبر پختونخوا کے گاؤں تبستا لیتائی میں پیش آیا۔

مقامی ذرائع اور حکام کے مطابق سرحد پار سے کیے گئے توپ خانے اور مارٹر فائر کے نتیجے میں ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا گیا جس کے باعث گھر میں موجود افراد ملبے تلے دب گئے۔

ایک ہی خاندان کے چار بھائی جاں بحق

واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت ساجد، ایاز، ریاض اور معاذ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق چاروں افراد آپس میں حقیقی بھائی تھے اور حملے کے وقت اپنے گھر میں موجود تھے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق حملے کے نتیجے میں گھر کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو گیا جس کے باعث جانی نقصان ہوا۔ اس واقعے میں ایک پانچ سالہ بچہ بھی شدید زخمی ہوا جسے فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا۔

شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا الزام

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ سرحد پار سے کیا گیا اور اس میں شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ کارروائی افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت کی جانب سے کی گئی جس میں مارٹر اور توپ خانے کا استعمال کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں بلکہ سرحدی علاقوں میں رہنے والی عام آبادی کے لیے شدید خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کرتے ہیں۔

مقامی آبادی کا شدید ردعمل

واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں اور قبائلی عمائدین نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا ایک بزدلانہ اور غیر انسانی عمل ہے۔

مقامی افراد کے مطابق سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہری پہلے ہی سیکیورٹی خدشات کا سامنا کر رہے ہیں اور اس طرح کے واقعات سے ان کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔

بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار

سیکیورٹی ماہرین اور حکام کا کہنا ہے کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین اور جنگی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے حملے انسانی اقدار اور بنیادی حقوق کے منافی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں بسنے والے عام شہری کسی بھی تنازع کا حصہ نہیں ہوتے، اس لیے انہیں نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔

جوابی کارروائی کا عندیہ

حکام کے مطابق اس واقعے کے بعد صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف مناسب ردعمل دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملکی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

سرحدی کشیدگی میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ واقعہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی کے تناظر میں پیش آیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں سرحدی علاقوں میں جھڑپوں اور کشیدگی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ تنازعات کو کم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع بھی فعال رکھے جائیں۔

انسانی المیہ

باجوڑ کے اس واقعے نے ایک بار پھر سرحدی علاقوں میں رہنے والے عام شہریوں کی مشکلات کو اجاگر کیا ہے۔ ایک ہی خاندان کے چار بھائیوں کی ہلاکت نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے اور مقامی آبادی اس سانحے پر شدید دکھ اور غصے کا اظہار کر رہی ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سرحدی کشیدگی کا سب سے زیادہ اثر عام شہریوں پر پڑتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ بے گناہ لوگوں کی جانیں محفوظ رہ سکیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button