
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز، وزارت اطلاعات و نشریات کے ساتھ
پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے نام نہاد نائب ترجمان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دعویٰ حقیقت کے منافی ہے اور اس کا مقصد اپنے ہی عوام کو گمراہ کرنا ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ واقعے میں سرحد پار سے کی گئی شیلنگ کے نتیجے میں پاکستان کے قبائلی ضلع باجوڑ میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارت اطلاعات کے جاری کردہ فیکٹ چیک بیان میں کہا گیا ہے کہ 15 مارچ 2026 کو سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے علاقے سالارازی کے گاؤں تبستا لیٹائی میں سرحد پار سے توپ خانے اور مارٹر کے ذریعے فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک گھر براہ راست نشانہ بنا۔
چار شہری شہید، کمسن بچہ زخمی
حکام کے مطابق اس حملے میں چار معصوم شہری جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک پانچ سالہ بچہ شدید زخمی ہوا۔ مقامی ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور آپس میں حقیقی بھائی تھے۔
ریسکیو ٹیموں نے واقعے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمی بچے کو قریبی طبی مرکز منتقل کیا جبکہ متاثرہ گھر کے ملبے کو ہٹا کر دیگر ممکنہ متاثرین کی تلاش بھی کی گئی۔
افغان طالبان کے الزامات مسترد
وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان حکومت کے ترجمان کی جانب سے پاکستان پر لگایا گیا الزام دراصل حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہے۔ حکام نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے اس طرح کے بیانات اپنے اقدامات سے توجہ ہٹانے کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس طرح کے اقدامات خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
قندھار میں کارروائی صرف دہشت گرد ٹھکانوں تک محدود
بیان میں واضح کیا گیا کہ 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب پاکستان کی مسلح افواج نے افغانستان کے شہر قندھار میں صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا۔
حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا ہدف صرف وہ مقامات تھے جہاں دہشت گرد تنظیموں کے انفراسٹرکچر اور تکنیکی سازوسامان موجود تھے۔ وزارت اطلاعات نے کہا کہ ان حملوں کے بصری شواہد اور ویڈیوز پہلے ہی عوام کے ساتھ شیئر کیے جا چکے ہیں جن میں واضح طور پر مخصوص اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
شفافیت کا دعویٰ
وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج اپنے آپریشنز اور کارروائیوں کے بارے میں شفاف انداز میں معلومات فراہم کرتی رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کے بارے میں عوام کو بروقت اور درست معلومات فراہم کرنا حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کیے گئے حملے صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف ہوتے ہیں اور ان میں شہری آبادی کو نقصان پہنچانے سے بچنے کے لیے تمام ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔
جعلی تصاویر اور پروپیگنڈا
حکام نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان حکومت کے بعض سرکاری چینلز ماضی میں بھی گمراہ کن مواد، پرانی ویڈیوز اور حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر کا استعمال کر کے پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
بیان کے مطابق اس طرح کے اقدامات نہ صرف غلط معلومات کے پھیلاؤ کا باعث بنتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
خطے میں کشیدگی کا پس منظر
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف واقعات اور الزامات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید حساس ہو گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں اطلاعاتی جنگ اور پروپیگنڈا بھی شدت اختیار کر لیتا ہے، جس میں مختلف فریق اپنے مؤقف کو مضبوط بنانے کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔
نتیجہ
وزارت اطلاعات کے فیکٹ چیک بیان کے مطابق باجوڑ میں ہونے والا واقعہ سرحد پار شیلنگ کا نتیجہ تھا جس میں معصوم شہری جان سے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور شہریوں کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غلط معلومات اور پروپیگنڈا کے باوجود حقیقت کو سامنے لانا ضروری ہے تاکہ عوام اور عالمی برادری کو درست صورتحال سے آگاہ رکھا جا سکے۔




