یورپتازہ ترین

جرمنی میں پہلی بار یورپ سے باہر پیدا ہونے والے بشپ کی تقرری

وہ خود اس تقرری کو ایک مضبوط پیغام قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اس بات کی علامت ہے کہ یورپی پس منظر نہ رکھنے والا شخص بھی جرمنی میں کلیسائی قیادت کا حصہ بن سکتا ہے۔

کرسٹوف اشٹرک

جرمنی کے کیتھولک چرچ کے لیے یہ ایک تاریخی قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اب تک ملک میں بشپ بننے والے مذہبی رہنما عموماً روایتی جرمن سماجی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔

وہ خود اس تقرری کو ایک مضبوط پیغام قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اس بات کی علامت ہے کہ یورپی پس منظر نہ رکھنے والا شخص بھی جرمنی میں کلیسائی قیادت کا حصہ بن سکتا ہے۔

نومبر 2025 میں اپنی تقرری کے اعلان کے بعد سے وہ اکثر تارکین وطن کا پس منظر رکھنے والے لوگوں سے ایک ہی جملہ سنتے رہے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں: ”آخرکار۔‘‘ ان کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ اب انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ وہ بھی جرمنی کے کیتھولک چرچ کا حصہ ہیں۔

مائنز کے بشپ پیٹر کوہل گراف نے نومبر 2025 میں پوٹا کال کا تعارف کراتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تقرری موجودہ دور کے لیے ایک اہم اور واضح اشارہ ہے
مائنز کے بشپ پیٹر کوہل گراف نے نومبر 2025 میں پوٹا کال کا تعارف کراتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تقرری موجودہ دور کے لیے ایک اہم اور واضح اشارہ ہےتصویر: Andreas Arnold/dpa/picture alliance

اس وقت 48 سالہ بشپ پوٹاکال دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جرمنی میں مقیم ہیں۔ اس دوران انہوں نے کیتھولک چرچ میں مختلف ذمہ داریاں انجام دیں۔ یکم مارچ تک وہ مائنز ڈائیوسیس میں عملے کے امور کے نگران تھے۔ اب بطور معاون بشپ وہ کلیسیاؤں کے دورے کریں گے، نوجوانوں سے متعلق مذہبی تقریبات اور رسومات کی نگرانی کریں گے اور چرچ کی نمائندگی بھی کریں گے۔

جرمنی کے کیتھولک چرچ کے لیے یہ ایک تاریخی قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اب تک ملک میں بشپ بننے والے کیتھولک مذہبی رہنما عموماً روایتی جرمن سماجی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔ پوٹاکال جرمنی میں ایسے پہلے بشپ ہیں، جو یورپ سے باہر پیدا ہوئے۔

جرمنی میں کیتھولک چرچ کے پیروکاروں کی صورت حال اس سے مختلف ہے۔ جرمن بشپس کانفرنس کے مطابق ملک میں تقریباً 34 لاکھ کیتھولک باشندے ایسے ہیں، جن کے پاس کم از کم ایک غیر ملکی بھی شہریت ہے، جبکہ کیتھولک مسیحیوں کی مجموعی تعداد تقریباً دو کروڑ بنتی ہے۔

کئی ڈائیوسیس کے اندازوں کے مطابق بڑی تعداد میں ایسے پیروکار بھی ہیں، جو اپنے گھروں میں جرمن کے علاوہ دوسری زبان بولتے ہیں۔ کولون کے آرچ ڈائیوسیس کے مطابق یہ شرح تقریباً بیس فیصد ہے جبکہ فُلڈا اور مائنز میں یہ تقریباً پچیس فیصد بتائی جاتی ہے۔ لمبرگ میں یہ شرح تقریباً پینتیس فیصد ہے۔

جرمنی میں نوجوانوں کی جانب سے پادری بننے کے رجحان میں کمی کے باعث چرچ بیرون ملک سے بھی مذہبی رہنماؤں کو مدعو کر رہا ہے۔ سینکڑوں پادری بھارت اور افریقی ممالک سے آ چکے ہیں۔ حال ہی میں بھارتی راہباؤں کے ایک گروپ نے میونسٹر کے ڈائیوسیس میں ایک نیا خانقاہی مرکز بھی قائم کیا۔

پوٹاکال کا کہنا ہے کہ کارملائیٹ سلسلے کی بھارتی شاخ دراصل جرمن کارملائیٹ راہبوں نے قائم کی تھی۔ اب وہ اور ان کے ساتھی اسی روایت کے تحت جرمنی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ جرمنی کو ایک طرح سے ”مشن کا ملک‘‘بھی قرار دیتے ہیں۔

پوٹاکال کو مائنز کے علاقے میں لوگ عام طور پر ”فادر جوشی‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ وہ کئی برسوں سے جرمن شہریت رکھتے ہیں اور معاشرتی ماحول سے بھی واقف ہیں۔

نئے بشپ اپنی رہائش تبدیل نہیں کریں گے۔ وہ بدستور مائنز کی کارملائیٹ خانقاہ میں ہی رہیں گے جہاں وہ کئی برسوں سے مقیم ہیں
نئے بشپ اپنی رہائش تبدیل نہیں کریں گے۔ وہ بدستور مائنز کی کارملائیٹ خانقاہ میں ہی رہیں گے جہاں وہ کئی برسوں سے مقیم ہیںتصویر: Uwe Anspach/dpa/picture alliance

ان کے مطابق ایسے وقت پر جب معاشرے میں تقسیم بڑھ رہی ہے اور تارکین وطن کا پس منظر رکھنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، ان کی تقرری ایک مضبوط پیغام ہے۔ ان کے بقول چرچ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ تنوع اہم ہے اور جرمنی بھی ایک ایسا معاشرہ ہے جسے تارکین وطن اور ہجرت نے تشکیل دیا ہے۔

مائنز کے بشپ پیٹر کوہل گراف نے نومبر 2025 میں ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تقرری موجودہ دور کے لیے ایک اہم اور واضح اشارہ ہے۔ ان کے مطابق کیتھولک چرچ ایک عالمی چرچ ہے اور اس میں کوئی اجنبی نہیں ہوتا۔

اسی تناظر میں دنیا بھر میں کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے بھی مئی 2025 میں اپنے منتخب ہونے کے بعد مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کئی بشپ مقرر کیے ہیں۔

پوٹاکال کے مطابق جرمنی کے کلیساؤں کو تارکین وطن کے تجربے سے ایک اہم سبق سیکھنا چاہیے اور وہ ہے لچک۔ ان کے بقول جرمنی میں کسی چرچ کے اجتماع یا تقریب کی تیاری چھ ماہ پہلے شروع ہو جاتی ہے اور ہر چیز باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ہوتی ہے۔

بھارت میں ایسا نہیں ہوتا۔ وہاں معاملات زیادہ سادگی اور خدا پر بھروسے کے ساتھ انجام دیے جاتے ہیں۔ وہ ان کلیسیائی میلوں کو بھی یاد کرتے ہیں، جہاں مختلف قومیتوں کے کھانے پیش کیے جاتے تھے۔ ایک اسٹال پر پولینڈ کا کھانا ہوتا تھا اور دوسرے پر بھارتی کھانے۔

ان کے مطابق اب جرمنی کے دیہی علاقوں میں بھی چرچ کی بین الاقوامی شناخت واضح نظر آتی ہے اور کلیسائی زندگی میں انضمام سے متعلق مسئلہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چرچ کے ماحول میں انہیں کبھی خود کو الگ تھلگ محسوس نہیں ہوا۔ تاہم روزمرہ زندگی میں کبھی کبھار دکانوں یا دیگر مقامات پر انہیں کچھ اجنبیت کا احساس ضرور ہوا۔

بھارت میں  اپنے تجربات کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ وہاں لوگ صرف ایک خیمے میں عبادت کا موقع ملنے پر بھی شکر گزار ہوتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ قربان گاہ کتنی سیڑھیوں پر ہونا چاہیے یا وہ لکڑی کی ہو یا پتھر کی۔

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو
کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیوتصویر: Filippo Monteforte/AFP

ان کے مطابق ایسے سوالات عموماً جرمنی میں ہی اٹھتے ہیں۔ جہاں لوگ اگلے دن کے کھانے کے بارے میں بھی یقین سے نہیں کہہ سکتے، وہاں یہ تفصیلات اہم نہیں ہوتیں۔ وہ کہتے ہیں ایمان کا مطلب ظاہری چیزیں نہیں بلکہ ایک برادری کی طرح مل کر رہنا اور خدا کی عبادت کرنا ہے۔

ان کا بشپ کا عصا بھی قیمتی دھات کے بجائے لکڑی کا بنا ہوا ہے۔ اسی طرح ان کی صلیب اور انگوٹھی میں بھی لکڑی استعمال کی گئی ہے۔

نئے بشپ اپنی رہائش تبدیل نہیں کریں گے۔ وہ بدستور مائنز کی کارملائیٹ خانقاہ میں ہی رہیں گے جہاں وہ کئی برسوں سے مقیم ہیں۔ ان کے مطابق خانقاہ ہی ان کا گھر اور خاندان ہے۔ اس وقت وہاں آٹھ راہب مل کر رہتے اور عبادت کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ خود کو کسی بشپ کی بڑی رہائش گاہ میں اکیلے رہتے ہوئے تصور بھی نہیں کر سکتے۔ خانقاہ ہی وہ جگہ ہے جہاں وہ خود کو اپنے گھر میں موجودگی جیسا محسوس کرتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button