کالمزسید عاطف ندیم

پہلوی خاندان: ایران کا ماضی یا ممکنہ مستقبل؟…..سید عاطف ندیم

یہ کہنا مشکل ہے کہ پہلوی خاندان کبھی دوبارہ اقتدار میں آ سکے گا یا نہیں۔لیکن ایک بات واضح ہے کہ ایران کی سیاست ابھی بھی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ سے عالمی طاقتوں، نظریاتی کشمکش اور علاقائی رقابتوں کا مرکز رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں ایران اور مغربی دنیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تنازع، ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر رہی ہے کہ آیا ایران میں موجودہ نظام کے متبادل کے طور پر کوئی اور سیاسی راستہ سامنے آ سکتا ہے یا نہیں۔ انہی مباحث میں ایک نام بار بار سامنے آتا ہے: رضا شاہ پہلوی، جو ایران کے آخری بادشاہ کے بیٹے اور محمد رضا شاہ پہلوی کے ولی عہد رہے ہیں۔
کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اگر ایران میں سیاسی تبدیلی آتی ہے تو ممکن ہے کہ پہلوی خاندان دوبارہ کسی نہ کسی شکل میں اقتدار یا سیاسی اثر حاصل کرے۔ جبکہ دوسرے تجزیہ کار اس خیال کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایران کا سماجی اور سیاسی ڈھانچہ اب مکمل طور پر بدل چکا ہے۔
رضا شاہ کا عروج
پہلوی خاندان کی بنیاد رضا شاہ پہلوی نے رکھی۔ وہ اصل میں ایک فوجی افسر تھے جنہوں نے 1921 میں ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار حاصل کیا۔ 1925 میں انہوں نے قاجار سلطنت کا خاتمہ کر کے خود کو ایران کا بادشاہ قرار دیا۔
رضا شاہ نے ایران میں جدیدیت اور مرکزی ریاست کے قیام کے لیے مضبوط مرکزی حکومت کا قیام کیا،جدید فوج کی تشکیل دی،ریلوے اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کی،تعلیم کے جدید نظام کا آغاز کیا.ان کی اصلاحات نے ایران کو ایک روایتی معاشرے سے ایک جدید ریاست کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔
لیکن ان اصلاحات کے ساتھ ساتھ ان کی حکومت پر آمریت کے الزامات بھی لگتے رہے۔ مذہبی حلقوں اور قبائلی طاقتوں کو سختی سے دبایا گیا جس کی وجہ سے کئی طبقات حکومت سے ناراض ہو گئے۔
محمد رضا شاہ کا دور
1941 میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ اور سوویت یونین نے ایران پر حملہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں رضا شاہ کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور ان کے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی تخت پر بیٹھ گئے۔
محمد رضا شاہ کے دور میں ایران کئی سیاسی بحرانوں سے گزرا۔ سب سے بڑا بحران 1953 میں پیش آیا جب وزیراعظم محمد موسادق نے ایرانی تیل کو قومی ملکیت میں لینے کا فیصلہ کیا۔
اس اقدام کے بعد امریکہ اور برطانیہ نے خفیہ آپریشن کے ذریعے موسادق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس واقعے کو تاریخ میں 1953 Iranian coup d’état کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس واقعے کے بعد شاہ کو مکمل سیاسی طاقت حاصل ہو گئی اور ایران تیزی سے مغرب کا اتحادی بن گیا۔
وائٹ ریولوشن اور جدیدیت
1960 کی دہائی میں شاہ نے ایک بڑے اصلاحاتی پروگرام کا آغاز کیا جسے وائٹ ریوولوشن(White Revolution) کہا جاتا ہے۔اس پروگرام میں زرعی اصلاحات،خواتین کو ووٹ کا حق، تعلیم اور صحت کے نظام میں بہتری،صنعتی ترقی شامل تھے.یہ اصلاحات بظاہر جدیدیت کی علامت تھیں مگر ان کے کئی غیر متوقع نتائج بھی نکلے۔
مذہبی اور سیاسی مزاحمت
شاہ کی اصلاحات کو مذہبی رہنماؤں اور روایتی طبقوں کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔اس مخالفت کی قیادت ایک مذہبی عالم روح اللہ خیمنئی نے کی۔خمینی نے شاہ کی پالیسیوں کومغربی اثرات کا نتیجہ،اسلامی اقدار کے خلاف،آمریت کا نظام قرار دیا۔1964 میں خمینی کو ایران سے جلا وطن کر دیا گیا، لیکن ان کا اثر ختم نہیں ہوا۔
1979 کا ایرانی انقلاب
1970 کی دہائی کے آخر تک ایران میں سیاسی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔عوام سیاسی آزادیوں کی کمی،شاہی حکومت کی سختی،معاشی عدم مساوات،مغرب سے قریبی تعلقات کی وجہ سے ناراض تھے.1979 میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوئے جنہوں نے شاہی نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔یہی احتجاج آخرکار ایران ارتقا پر منتج ہوا۔
شاہ کا زوال اور جلاوطنی
جنوری 1979 میں شاہ ایران چھوڑ کر چلے گئے۔چند ہفتوں بعد خمینی ایران واپس آئے اور ایران میں ایک نئی اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔اسی سال ایران میں اسلا مک ریپبلک ریفرنڈم کے ذریعے بادشاہت کا خاتمہ کر کے اسلامی جمہوریہ قائم کر دی گئی۔
پہلوی خاندان کی جلاوطنی
انقلاب کے بعد پہلوی خاندان ملک چھوڑ کر جلاوطنی میں چلا گیا۔شاہ نے مختلف ممالک میں پناہ لی اور آخرکار 1980 میں مصر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ان کے بیٹے رضا پہلوی امریکہ میں مقیم ہو گئے اور تب سے وہ ایرانی اپوزیشن کے ایک علامتی رہنما کے طور پر سامنے آتے رہے ہیں۔
رضا پہلوی کا سیاسی کردار
رضا پہلوی خود کو ایران کے مستقبل کے لیے ایک جمہوری متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔وہ بادشاہت بحال نہیں کرنا چاہتےبلکہ ایک جمہوری نظام چاہتے ہیں جس کا فیصلہ ایرانی عوام کریں لیکن ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی حمایت محدود ہے۔
ایرانی اپوزیشن کی تقسیم
ایران کی اپوزیشن کئی حصوں میں تقسیم ہے:لبرل جمہوریت پسند،قوم پرست،بائیں بازو کے گروپ،بادشاہت پسندیہ تقسیم کسی متحدہ سیاسی متبادل کو مشکل بنا دیتی ہے۔
موجودہ ایرانی نظام
ایران میں اس وقت اسلامک ریپیبلک آف ایران کا نظام قائم ہے۔اس نظام میں اصل طاقت سپریم لیڈر کے پاس ہوتی ہے۔فی الحال یہ عہدہ علی خیمنئی کے پاس تھا۔
حالیہ احتجاجی تحریکیں
گزشتہ چند برسوں میں ایران میں کئی احتجاجی تحریکیں سامنے آئی ہیں۔خاص طور پر 2019 کے معاشی احتجاج،2022 کی خواتین کی تحریک،یہ تحریکیں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ ایرانی معاشرہ تبدیلی کی خواہش رکھتا ہے۔
کیا پہلوی خاندان واپس آ سکتا ہے؟
یہ سوال کئی عوامل پر منحصر ہے:
1. عوامی حمایت
فی الحال ایران کے اندر پہلوی خاندان کی حمایت کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔
2. سیاسی متبادل
اگر موجودہ نظام کمزور ہوتا ہے تو اپوزیشن کو ایک متحدہ قیادت کی ضرورت ہوگی۔
3. عالمی طاقتوں کا کردار
امریکہ اور یورپی ممالک کا موقف بھی اہم ہو سکتا ہے۔
بادشاہت کی بحالی کا امکان
بعض ایرانیوں کا خیال ہے کہ ایک آئینی بادشاہت ملک کو استحکام دے سکتی ہے۔لیکن اس خیال کی مخالفت بھی مضبوط ہے۔ایران کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ان میں سے اکثرانقلاب کے بعد پیدا ہوئےاور شاہی دور کو صرف تاریخ کے طور پر جانتے ہیں۔
نتیجہ
پہلوی خاندان ایران کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔انہوں نے:جدید ریاست کی بنیاد رکھی،مگر آمریت اور سیاسی جبر کے الزامات بھی سہے۔آج ایران ایک بالکل مختلف ملک ہے۔یہ کہنا مشکل ہے کہ پہلوی خاندان کبھی دوبارہ اقتدار میں آ سکے گا یا نہیں۔لیکن ایک بات واضح ہے کہ ایران کی سیاست ابھی بھی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے، اور مستقبل میں کئی غیر متوقع امکانات سامنے آ سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button