
ایران کی امریکہ کو دھمکی: بحیرہ احمر میں امریکی طیارہ بردار جہاز “جرالڈ فورڈ” نشانے پر ہونے کا اعلان
ایران کی فوجی قیادت خطے میں ہونے والی ہر پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے جواب کے لیے تیار ہے۔
ایجنسیاں
تہران — ایران کی مسلح افواج نے بحیرہ احمر میں موجود امریکی فوجی موجودگی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز USS Gerald R. Ford اور اس کے معاون مراکز ایرانی افواج کے ممکنہ نشانے پر ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ایرانی فوجی ہیڈکوارٹر کا بیان
ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ مرکز Khatam al-Anbiya Central Headquarters کے ترجمان نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے بحیرہ احمر میں فوجی طاقت کی نمائش ایران کے لیے خطرہ سمجھی جا رہی ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ترجمان نے کہا:
"بحیرہ احمر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جرالڈ فورڈ کی موجودگی ایران کے خلاف ایک واضح خطرہ ہے، اور اسی وجہ سے یہ جہاز اور اس کے لاجسٹک و امدادی مراکز ایرانی مسلح افواج کے نشانے پر ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی فوجی قیادت خطے میں ہونے والی ہر پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے جواب کے لیے تیار ہے۔
بحیرہ احمر میں بڑھتی کشیدگی
بحیرہ احمر مشرق وسطیٰ اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اس علاقے میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی گزشتہ کئی مہینوں سے علاقائی کشیدگی کو بڑھا رہی ہے۔
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز USS Gerald R. Ford کو دنیا کے جدید ترین اور طاقتور جنگی بحری جہازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ جہاز جدید طیاروں، میزائل سسٹمز اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور اسے امریکی بحریہ کی اہم اسٹرائیک فورس کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
ایران کا دفاعی مؤقف
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی مسلح افواج کسی بھی بیرونی جارحیت یا خطرے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایران کئی بار اس بات پر زور دے چکا ہے کہ خطے میں بیرونی طاقتوں کی فوجی موجودگی عدم استحکام کو بڑھا رہی ہے۔
Islamic Revolutionary Guard Corps اور ایران کی دیگر دفاعی فورسز نے حالیہ برسوں میں میزائل پروگرام، بحری دفاعی نظام اور ڈرون ٹیکنالوجی کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے، جسے ایران اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی
امریکہ اور Iran کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں اور حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ میں مختلف تنازعات کے باعث یہ کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے عدم استحکام کو فروغ دے رہا ہے، جبکہ تہران ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ صرف اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
عالمی خدشات
ماہرین کے مطابق بحیرہ احمر اور خلیج کے خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس سمندری راستے سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان گزرتا ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سفارتی مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے اقدامات انتہائی ضروری ہیں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔



