پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

بلوچستان: پوست کی فصل کے خلاف آپریشن سے واپسی پر ایف سی کی گاڑی پر بم حملہ، 5 اہلکار شہید

سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملہ آوروں کا سراغ لگایا جا سکے۔

کوئٹہ — صوبہ بلوچستان کے ضلع ڈکی ڈسٹرکٹ میں پیر کے روز ایک مہلک بم دھماکے میں Frontier Corps کے پانچ اہلکار جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔ یہ حملہ اس وقت پیش آیا جب سیکیورٹی فورسز پوست کی غیر قانونی کاشت کے خلاف مشترکہ آپریشن مکمل کر کے واپس آ رہی تھیں۔

دھماکے کی تفصیلات

پولیس اور ضلعی حکام کے مطابق واقعہ کوئٹہ سے تقریباً 320 کلومیٹر دور پیش آیا۔ سیکیورٹی قافلے میں Frontier Corps، Anti-Narcotics Force Pakistan اور پولیس کے اہلکار شامل تھے، جو پوست کی کاشت کے خلاف کارروائی کے بعد واپس جا رہے تھے۔

پولیس کے مطابق دکی سے تقریباً 70 کلومیٹر دور کلی بختیار آباد کے مقام پر فرنٹیئر کور کی گاڑی ایک ندی عبور کر رہی تھی کہ اسی دوران سڑک کنارے نصب بارودی مواد زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

جانی نقصان

دکی کے ڈی ایس پی آصف خجک نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں فرنٹیئر کور کے پانچ اہلکار موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک اہلکار شدید زخمی ہوا، جسے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملہ آوروں کا سراغ لگایا جا سکے۔

بلوچستان میں پوست کی بڑھتی کاشت

حکام کے مطابق حالیہ برسوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پوست کی غیر قانونی کاشت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اگست 2025 میں صوبے کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا تھا کہ سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران تقریباً 36 ہزار ایکڑ رقبے پر کاشت کی گئی پوست کو تلف کیا گیا۔

ضلع دکی کو بلوچستان میں پوست کی کاشت کے بڑے مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔ حکومت نے یہاں کے درجنوں زمینداروں کو مشکوک سرگرمیوں کے باعث فورتھ شیڈول میں بھی شامل کیا ہے تاکہ ان کی سرگرمیوں پر کڑی نگرانی رکھی جا سکے۔

سیٹلائٹ رپورٹ میں انکشافات

جغرافیائی ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی Alcis نے اگست 2025 میں اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے بتایا تھا کہ دکی کے بعض علاقوں میں کل زرعی رقبے کا تقریباً 70 فیصد حصہ صرف پوست کی کاشت پر مشتمل ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف منشیات کی غیر قانونی تجارت کو بڑھا رہی ہے بلکہ اس سے سیکیورٹی کے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔

منشیات اور عسکریت پسندی کا تعلق

بلوچستان کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پوست کی کاشت اور منشیات کی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی عسکریت پسند گروہوں تک پہنچ رہی ہے۔

صوبائی حکومت کے مطابق یہی مالی وسائل مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں اور ریاستی اداروں پر حملوں کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے حال ہی میں ایک تقریب کے دوران بتایا تھا کہ 31 جنوری کو ضلع  نوشاقی میں ہونے والے حملے میں دہشت گردوں نے پوست کی کاشت سے حاصل ہونے والے مالی وسائل استعمال کیے تھے۔

واشک میں حالیہ کارروائیاں

حمزہ شفقات نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر 7 مارچ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ضلع واشک ڈسٹرکٹ میں مارچ کے دوران تقریباً 700 ایکڑ رقبے پر پھیلی منشیات کی غیر قانونی کاشت کو تلف کیا گیا۔

ان کے مطابق اس کارروائی کے ردعمل میں مبینہ طور پر "فتنہ الہندوستان” کی حمایت یافتہ ڈرگ مافیا نے مقامی ایس پی کے گھر پر حملہ کر کے اسے نذر آتش کر دیا۔

اس سے قبل 28 جنوری کو بھی واشک میں پوست کے خلاف آپریشن کے دوران ڈپٹی کمشنر اور ایف سی اہلکاروں پر حملہ کیا گیا تھا، جس میں ایک اہلکار زخمی ہو گیا تھا۔ بعد ازاں سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں تین حملہ آور مارے گئے جبکہ بڑی مقدار میں منشیات کی فصل کو تباہ کر دیا گیا۔

بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز

ماہرین کے مطابق بلوچستان میں پوست کی کاشت، منشیات کی اسمگلنگ اور عسکریت پسند سرگرمیوں کے درمیان گہرا تعلق سامنے آ رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف جاری آپریشنز کے باعث سیکیورٹی فورسز اور سرکاری اہلکاروں کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔

حکام کے مطابق صوبائی حکومت اور سیکیورٹی ادارے منشیات کی کاشت اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ نہ صرف منشیات کے نیٹ ورک کو ختم کیا جا سکے بلکہ دہشت گردی کی مالی معاونت کو بھی روکا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button