
ڈی پی اے کے ساتھ
مارتاں رایان کو دسمبر 2023 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کا ٹرائل گزشتہ سال جنوری میں شروع ہوا تھا۔ اس وقت فرانس کی جانب سے آذربائیجان کے دیرینہ حریف آرمینیا کی حمایت کرنے پر پیرس اور باکو کی حکومتوں کے مابین تعلقات میں کافی کشیدگی پائی جاتی تھی۔
آذربائیجان کی ایک عدالت نے مارتاں رایان کو آذربائیجان کے خلاف جاسوسی کا مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سال قید کی سزا سنائی ہے جبکہ استغاثہ نے عدالت سے رایان کے لیے 11 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔

پراسیکیوٹرز کا الزام تھا کہ رایان نے باکو میں فرانسیسی سفارت خانے سے مبینہ طور پر کام کرنے والے فرانسیسی سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ تعاون کیا اور آذربائیجان کے ترکی، ایران اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔ اس کے علاوہ ان پر روس اور چین سے وابستہ کمپنیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا بھی الزام لگایا گیا۔
اسی مقدمے میں آذربائیجان کے ایک شہری آزاد ممدلی کو بھی سنگین غداری کا مجرم قرار دیتے ہوئے 12 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ حکام کے مطابق رایان نے ممدلی کو بھرتی کیا تھا اور اس کی فرانسیسی انٹیلی جنس اہلکاروں سے ملاقات کرائی تھی، جنہوں نے مبینہ طور پر اسے ماسکو کی ایک یونیورسٹی میں پڑھنے والے آذربائیجانی اور روسی شہریوں کو ریکروٹ کرنے کا کام سونپا تھا۔
عدالت میں اپنے بیان میں رایان نے خود پر لگے جاسوسی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سفارتی اہلکاروں سے رابطے ہرگز دانستہ نہیں تھے۔
انہوں نے کہا، ”میں خود کو صرف اس بات کا قصوروار سمجھتا ہوں کہ مجھے بعض سفارت خانے کے اہلکاروں سے رابطہ نہیں کرنا چاہیے تھا یا ان کے بارے میں معلومات متعلقہ حکام کو دینی چاہیے تھیں۔ میں جاسوس نہیں ہوں۔‘‘
مارتاں رایان کے وکیل کے مطابق ان کے موکل کے پاس فرانس کے علاوہ برطانوی شہریت بھی ہے۔ فرانس نے ان کے خلاف الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رایان کا فرانسیسی انٹیلی جنس سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں سفارتی کشیدگی کے دوران نشانہ بنایا گیا۔
گزشتہ موسم خزاں کے بعد سے فرانس اور آذربائیجان کے تعلقات میں بہتری کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔ اس سے قبل باکو نے پیرس پر آرمینیا کی حمایت کا الزام لگایا تھا جبکہ فرانس نے آذربائیجان پر سمندر پار فرانسیسی علاقوں میں بدامنی پھیلانے کا الزام عائد کیا تھا۔
رواں ماہ کے آغاز میں فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں اور آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت بھی ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے اور تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی کوشش جاری ہے، تاہم مارتاں رایان کا معاملہ اب بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم نکتہ ہے۔



