
اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز کے ساتھ
ایشین فٹبال کنفیڈریشن (AFC) کے سیکرٹری جنرل ونڈسر جان نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ٹیم کی پیر کی رات روانگی کا انتظام ایرانی سفارت خانے نے کیا ہے۔ ان کے مطابق فی الحال ٹیم کو عمان لے جایا جا رہا ہے، تاہم انہیں مکمل سفری منصوبے کا علم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اے ایف سی اور فیفا دونوں ایرانی فٹبال فیڈریشن کے ساتھ رابطے میں رہیں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کھلاڑی خواتین ایران میں محفوظ رہیں۔

پناہ کی درخواستیں اور فیصلے میں تبدیلی
ایرانی ٹیم 10 مارچ کو آسٹریلیا میں ویمنز ایشین کپ سے باہر ہونے کے بعد سڈنی سے کوالالمپور پہنچی تھی۔ اس وقت چھ کھلاڑیوں اور ایک سپورٹ اسٹاف ممبر نے آسٹریلیا میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دیتے ہوئے ٹیم کے ساتھ واپس جانے سے انکار کر دیا تھا۔
بعد ازاں چار کھلاڑی اور ایک اسٹاف ممبر کوالالمپور میں ٹیم کے ساتھ دوبارہ شامل ہو گئیں، جن میں سے ایک کھلاڑی پیر کے روز پہنچی۔ ان کے فیصلے بدلنے کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آئی تاہم آسٹریلیا میں مقیم ایرانی کمیونٹی کا کہنا ہے کہ ان پر تہران کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا تھا۔
ونڈسر جان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی تنظیم کو کھلاڑیوں کی جانب سے ایران واپس جانے کے بارے میں کوئی براہ راست شکایت موصول نہیں ہوئی حالانکہ میڈیا میں یہ خبریں آئی تھیں کہ ٹیم کے قومی ترانہ نہ گانے پر ان کے خاندانوں کو ایران میں خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
قومی ترانے کے دوران خاموشی کو بعض حلقوں نے مزاحمت کی علامت جبکہ بعض نے سوگ کے اظہار کے طور پر بیان کیا تاہم ٹیم نے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی۔ بعد میں ایک میچ کے آغاز پر ٹیم نے ترانہ گایا تھا۔
دو کھلاڑی اب بھی آسٹریلیا میں
اب بھی دو ایرانی کھلاڑی آسٹریلیا میں موجود ہیں اور انہیں حکومت کی جانب سے ایک خفیہ اور محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ آسٹریلیا کے نائب وزیر برائے امیگریشن میٹ تھیسل تھویٹ نے کہا کہ یہ صورتحال ”انتہائی پیچیدہ‘‘ ہے۔ ان کے مطابق پناہ لینے یا واپس جانے کا فیصلہ ایک ذاتی معاملہ ہے اور حکومت دونوں صورتوں میں کھلاڑیوں کی مدد جاری رکھے گی۔
پروپیگنڈا جنگ کا پہلو
سڈنی کی میکوری یونیورسٹی کی سیاسیات کی ماہر کائلی مور گلبرٹ کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں کھلاڑیوں کی فلاح سے زیادہ پروپیگنڈا جنگ اہم ہو گئی ہے۔
ان کے مطابق اگر کھلاڑی خاموشی سے پناہ کی درخواست دیتیں تو ممکن تھا کہ ایرانی حکام ماضی کی طرح اسے نظر انداز کر دیتے، جیسا کہ بعض دیگر ایرانی کھلاڑیوں کے معاملات میں ہوا۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ٹیم کی واپسی کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ مبینہ امریکی اور آسٹریلوی سیاسی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں اور کہا کہ کھلاڑی”اپنے خاندان اور وطن کی گرمجوش آغوش میں واپس آ رہی ہیں۔‘‘



