کاروبارتازہ ترین

جغرافیائی سیاسی عدم استحکام پاکستان کی برآمدی مسابقت کیلئے خطرہ

ملک کی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً 80 فیصد، ایل این جی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، وفاقی چیمبر

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ خلیج میں جغرافیائی سیاسی عدم استحکام پاکستان کی برآمدی مسابقت کیلئے خطرہ ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک کی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً 80 فیصد اور ایل این جی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے اور (اس راستے میں) کسی بھی طویل تعطل سے لامحالہ زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ بڑھے گا اور بڑے پیمانے پر مہنگائی جنم لے گی۔

عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ایران تنازع شروع ہونے کے بعد سے عالمی شپنگ مارکیٹیں شدید افراتفری اور بحران کا شکار ہوگئی ہیں۔

وفاقی چیمبر کے صدر نے کہا کہ تزویراتی لحاظ سے اہم بحری گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت ٹھپ ہونے اور شپنگ کمپنیوں کی جانب سے بھاری سرچارجز عائد کیے جانے کے باعث پاکستان کیلئے ادائیگیوں کے توازن کے بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

عاطف اکرام شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ لاجسٹکس پر پڑنے والے مالیاتی اثرات فوری اور انتہائی شدید ہیں، بڑے بحری راستوں پر کنٹینر مال برداری کے نرخ آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شپنگ لائنیں ہنگامی وار رسک سرچارجز متعارف کروارہی ہیں جو فی معیاری کنٹینر کے لیے 1,500 سے 3,500 امریکی ڈالر تک ہیں۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے خبردار کیا کہ یہ لاجسٹک رکاوٹیں ملک کے بڑے برآمدی شعبوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہیں، کیونکہ بحری جہازوں کے راستے تبدیل ہونے کی وجہ سے ہماری اہم مارکیٹوں، یعنی یورپی یونین اور امریکہ تک سامان پہنچنے کے وقت میں 15 سے 20 دن کے اضافے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر سپلائی چین میں یہ رکاوٹیں برقرار رہیں تو صرف ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل کا شعبہ ہی اس ماہ اپنی برآمدات میں 10 سے 20 فیصد تک کمی کا شکار ہوسکتا ہے اور ہم موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنے تجارتی خسارے میں اضافے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

عاطف اکرام نے وضاحت کی کہ اس بحران کے اثرات مقامی معیشت میں ابھی سے محسوس کیے جارہے ہیں کیونکہ کراچی پورٹ ٹرمینلز پر بحری جہازوں کی روانگی میں تاخیر اور کارگو کی منتقلی (ٹرانس شپمنٹ) میں التوا کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عالمی شپنگ کمپنیوں نے پاکستان سے خلیجی ممالک جانے والے مال (کارگو) کی بکنگ معطل کردی ہے۔

اسی دوران ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ مقامی صنعت کاروں کیلئے اس بحران کو مزید سنگین بنانے والی وجہ مقامی سطح پر ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ 55 روپے فی لٹر کا بڑا اضافہ ہے جس نے ملک کے اندرونی نقل و حمل کے اخراجات میں تخمیناً 15 سے 25 فیصد تک اضافہ کردیا ہے۔

صنعتی نمائندوں کا موقف ہے کہ اندرونِ ملک مال برداری کے لیے رائج 30 روزہ فکسڈ معاہدے اب قابلِ عمل نہیں رہے جس کی وجہ سے برآمد کنندگان ایندھن کی قیمتوں میں ہفتہ وار اتار چڑھاؤ کے سامنے انتہائی غیر محفوظ ہوگئے ہیں۔

ایف پی سی سی آئی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ہنگامی منصوبہ تیار کرے، جس میں علاقائی شراکت داروں کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے طریقہ کار کا جائزہ لینا اور ایندھن کی فراہمی کے متبادل ذرائع کو محفوظ بنانا شامل ہو تاکہ مقامی مارکیٹ کو عالمی معاشی بحران کے بدترین اثرات سے بچایا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button