
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،سیکورٹی فورسز کے ساتھ
خیبر سیکٹر سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں پاک افواج نے ایک بار پھر اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن نہایت منظم حکمتِ عملی کے تحت انجام دیا گیا جس کا مقصد سرحد پار سے ہونے والی ممکنہ دراندازی اور دہشت گرد سرگرمیوں کا خاتمہ تھا۔
ذرائع کے مطابق پاک فوج نے جدید اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائلز کا استعمال کرتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد فوجی پوسٹوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن کی پوزیشنز مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، جبکہ بھاری جانی و مالی نقصان کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں مستند انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن میں دشمن کی نقل و حرکت اور ٹھکانوں کی درست نشاندہی کی گئی تھی۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس قسم کی کارروائیاں نہ صرف پاکستان کی سرحدی سلامتی کو یقینی بناتی ہیں بلکہ دہشت گرد عناصر کے حوصلے بھی پست کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید ہتھیاروں اور بروقت کارروائی کی بدولت پاک افواج نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ "آپریشن غضب للحق” تاحال جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس کے تمام اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو جاتے۔ اس آپریشن کا بنیادی مقصد ملک دشمن عناصر کا خاتمہ، سرحدی علاقوں میں امن کا قیام، اور مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
حکام کے مطابق پاک افواج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور ملک کی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ عوامی حلقوں میں بھی ان کامیاب کارروائیوں کو سراہا جا رہا ہے اور پاک فوج کے عزم اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں، اور پاکستان کی جانب سے جاری یہ کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف ایک واضح اور دوٹوک پیغام ہیں کہ ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔



