سید عاطف ندیمکالمز

فساد فی الارض، فتنہ اور افغانستان……سید عاطف ندیم

یہ دونوں اصطلاحات نہ صرف مذہبی بلکہ سماجی اور قانونی سطح پر بھی گہری اہمیت رکھتی ہیں۔

دنیا بھر میں جب بھی بدامنی، دہشت گردی یا سماجی انتشار کی بات ہوتی ہے تو “فتنہ” اور “فساد” جیسے الفاظ بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں ان دونوں اصطلاحات کو نہایت سنجیدگی سے لیا گیا ہے، اور قرآن مجید میں واضح طور پر ایسے اعمال کی مذمت کرتے ہوئے ان کے مرتکبین کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے۔ حالیہ دنوں افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال اور وہاں کی حکومتی پالیسیوں پر بھی اسی تناظر میں بحث تیز ہو گئی ہے۔
قرآن مجید میں “فساد فی الارض” یعنی زمین میں بگاڑ اور بدامنی پھیلانا ایک سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سورۃ المائدہ (آیت 33) کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، جہاں ان لوگوں کے لیے سخت سزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے جو معاشرے میں بدامنی اور فساد کو فروغ دیتے ہیں۔
اسی طرح سورۃ البقرہ میں “فتنہ” کو قتل سے بھی بڑا جرم قرار دیا گیا ہے، جس سے اس کی شدت اور معاشرتی خطرے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اسلامی اسکالرز کے مطابق:
فتنہ: ایسا عمل جو معاشرے میں انتشار، گمراہی یا فکری و سماجی بگاڑ پیدا کرے
فساد: امن و امان کو تباہ کرنا، ظلم، دہشت گردی یا عوامی نقصان کا باعث بننا
یہ دونوں اصطلاحات نہ صرف مذہبی بلکہ سماجی اور قانونی سطح پر بھی گہری اہمیت رکھتی ہیں۔
قرآن مجید میں فساد پھیلانے والوں کے لیے سخت سزاؤں کا ذکر ضرور ہے، مگر ان سزاؤں کا اطلاق کسی فرد یا گروہ کی مرضی پر نہیں چھوڑا گیا۔ ماہرینِ فقہ اس بات پر متفق ہیں کہ:
سزا کا تعین جرم کی نوعیت اور ناقابلِ تردید ثبوت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے،کسی بھی فرد یا گروہ کو خود سے کسی کو “مفسد” قرار دینے یا سزا دینے کا اختیار نہیں،ایک منظم ریاستی اور عدالتی نظام، گواہی اور تحقیق کا مکمل عمل لازمی ہوتا ہے
یہ اصول اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ انصاف کے نام پر مزید ناانصافی یا فتنہ نہ پھیلے۔
اسلامی تعلیمات میں “فساد فی الارض” اور “فتنہ” نہایت اہم اور سنگین اصطلاحات ہیں۔ یہ دونوں الفاظ نہ صرف مذہبی تناظر میں استعمال ہوتے ہیں بلکہ معاشرتی، سیاسی اور عالمی سطح پر بھی ان کے اثرات نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں افغانستان ایک ایسا خطہ رہا ہے جہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگ، بدامنی، بیرونی مداخلت اور اندرونی انتشار نے ایک پیچیدہ صورتحال کو جنم دیا ہے۔ اس مضمون میں ہم فساد فی الارض اور فتنہ کے مفاہیم کو واضح کرتے ہوئے افغانستان کی تاریخی، سیاسی اور سماجی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیں گے، اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ یہ عوامل کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
“فساد فی الارض” کا مطلب زمین میں بگاڑ پیدا کرنا ہے۔ قرآن مجید میں اس اصطلاح کو مختلف مقامات پر استعمال کیا گیا ہے، جہاں یہ ظلم، ناانصافی، قتل و غارت، لوٹ مار، اور معاشرتی نظام کو تباہ کرنے جیسے اعمال کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسلام میں امن، عدل اور توازن کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، اور ہر وہ عمل جو اس توازن کو بگاڑے، فساد کے زمرے میں آتا ہے۔
افغانستان ایک قدیم تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے، جو مختلف ادوار میں مختلف سلطنتوں کا حصہ رہا۔ اس کی جغرافیائی حیثیت اسے ہمیشہ عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بناتی رہی ہے۔
سوویت یونین کا حملہ (1979)
1979 میں سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک طویل جنگ کا آغاز ہوا۔ اس جنگ میں مقامی مجاہدین نے بیرونی حمایت کے ساتھ سوویت افواج کا مقابلہ کیا۔ اس دور کو افغانستان میں جدید فتنہ و فساد کی ابتدا سمجھا جا سکتا ہے۔
خانہ جنگی کا دور
سوویت انخلا کے بعد افغانستان میں مختلف گروہوں کے درمیان اقتدار کی جنگ شروع ہو گئی۔ یہ دور شدید انتشار، قتل و غارت اور بدامنی کا تھا، جس نے ملک کے انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا۔
طالبان کا عروج
1990 کی دہائی میں طالبان ایک قوت کے طور پر ابھرے اور انہوں نے افغانستان کے بیشتر حصوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ انہوں نے امن قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کی سخت پالیسیوں اور عالمی سطح پر تنقید نے ایک نئی بحث کو جنم دیا۔
امریکہ کی مداخلت (2001)
2001 میں امریکہ نے افغانستان میں فوجی کارروائی کی، جس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ تھا۔ اس کے بعد افغانستان ایک طویل عرصے تک عالمی افواج کی موجودگی میں رہا۔
افغانستان میں فساد فی الارض کی صورتیں
افغانستان میں گزشتہ چار دہائیوں کے دوران مختلف اقسام کے فساد دیکھنے کو ملے:
1. جنگ اور خونریزی
مسلسل جنگوں نے لاکھوں جانیں لیں اور کروڑوں افراد کو بے گھر کیا۔ یہ انسانی تاریخ کے بڑے المیوں میں سے ایک ہے۔
2. معاشی تباہی
جنگ نے معیشت کو بری طرح متاثر کیا۔ غربت، بے روزگاری اور وسائل کی کمی نے عوام کو شدید مشکلات میں ڈال دیا۔
3. تعلیمی پسماندگی
تعلیم کے نظام کو شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں ایک پوری نسل علم سے محروم رہ گئی۔
4. خواتین کے حقوق
افغانستان میں خواتین کو مختلف ادوار میں مختلف سطحوں پر مشکلات کا سامنا رہا ہے، جو ایک اہم سماجی مسئلہ ہے۔
افغانستان میں فتنہ کئی شکلوں میں ظاہر ہوا:
1. بیرونی مداخلت
عالمی طاقتوں کی مداخلت نے ملک کے اندرونی معاملات کو پیچیدہ بنا دیا۔ ہر طاقت اپنے مفادات کے لیے کام کرتی رہی، جس سے حالات مزید خراب ہوئے۔
2. فرقہ واریت
مختلف گروہوں کے درمیان اختلافات نے معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا۔
3. معلوماتی جنگ
میڈیا اور پروپیگنڈا نے عوام کے ذہنوں پر اثر ڈالا، جس سے حقیقت اور افواہ میں فرق کرنا مشکل ہو گیا۔
فساد اور فتنہ ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ جب فتنہ پیدا ہوتا ہے تو لوگ تقسیم ہو جاتے ہیں، اور یہ تقسیم فساد کو جنم دیتی ہے۔ اسی طرح جب فساد بڑھتا ہے تو مزید فتنہ پیدا ہوتا ہے۔
افغانستان اس چکر کی ایک واضح مثال ہے، جہاں:
سیاسی عدم استحکام → فتنہ
فتنہ → خانہ جنگی
خانہ جنگی → مزید فساد
اسلام فساد اور فتنہ دونوں کے خلاف سخت موقف رکھتا ہے اور ان کے خاتمے کے لیے چند اصول فراہم کرتا ہے:
1. عدل و انصاف
ایک منصفانہ نظام ہی فساد کو ختم کر سکتا ہے۔
2. علم اور شعور
تعلیم اور آگاہی فتنہ کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار ہیں۔
3. اتحاد و اتفاق
مسلمانوں کو اختلافات سے بچ کر اتحاد قائم کرنا چاہیے۔
4. اخلاقی قیادت
ایسی قیادت جو دیانت دار اور انصاف پسند ہو، معاشرے کو درست سمت دے سکتی ہے۔
افغانستان کے مسائل کا حل آسان نہیں، لیکن کچھ اقدامات امید پیدا کر سکتے ہیں:
1. سیاسی استحکام
ایک مضبوط اور جامع حکومت ضروری ہے جو تمام گروہوں کو ساتھ لے کر چلے۔
2. معاشی ترقی
سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور وسائل کا بہتر استعمال ملک کو ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
3. تعلیم کا فروغ
تعلیم کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
4. عالمی تعاون
عالمی برادری کو مخلصانہ کردار ادا کرنا ہوگا، نہ کہ صرف اپنے مفادات کے لیے۔
حالیہ جغرافیائی و سیاسی تناظر میں افغانستان ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مختلف حلقوں کی جانب سے یہ الزامات سامنے آ رہے ہیں کہ وہاں کی حکمران طالبان حکومت بعض شدت پسند گروہوں کو پناہ دے رہی ہے۔
خاص طور پر “فتنہ الخوارج” اور “فتنہ الہندوستان” جیسے ناموں سے منسوب گروہوں کا ذکر کیا جا رہا ہے، جنہیں ناقدین دہشت گرد نیٹ ورکس سے تعبیر کرتے ہیں۔ تاہم، ان الزامات کی آزاد اور بین الاقوامی سطح پر حتمی تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
افغان طالبان حکومت بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ ان کے مطابق، افغانستان میں امن و استحکام قائم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔
اس کے باوجود، علاقائی ممالک اور عالمی برادری کے خدشات برقرار ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ زمینی حقائق اور سرکاری بیانات کے درمیان ممکنہ خلا موجود ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کوئی بھی ملک دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننا چاہیےعلاقائی امن کے لیے مشترکہ اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں
اگر یہ الزامات بظاہر درست ثابت ہیں اس لیئے یہ نہ صرف اسلامی اصولوں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور سفارتی ضوابط کی بھی خلاف ورزی ہے۔
یہ معاملہ صرف سیکیورٹی کا نہیں بلکہ بیانیے، معلومات اور اعتماد کا بھی ہے۔ ایک طرف مذہبی اصطلاحات کا استعمال ہو رہا ہے، تو دوسری طرف سیاسی اور تزویراتی مفادات بھی اس بحث کو متاثر کر رہے ہیں۔
دنیا بھر میں جب بھی بدامنی، دہشت گردی یا سماجی انتشار کی بات ہوتی ہے تو “فتنہ” اور “فساد” جیسے الفاظ بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔ یہ صرف لغوی اصطلاحات نہیں بلکہ اپنے اندر ایک گہرا مذہبی، اخلاقی اور تہذیبی وزن رکھتے ہیں خصوصاً اسلامی فکر میں۔ قرآن مجید ان اصطلاحات کو نہایت سنجیدگی سے لیتا ہے اور ایسے اعمال کی واضح مذمت کرتا ہے جو انسانی معاشرے کو عدم استحکام، ظلم اور انتشار کی طرف لے جائیں۔
نتیجہ
فساد فی الارض اور فتنہ ایسے مسائل ہیں جو نہ صرف مذہبی بلکہ انسانی سطح پر بھی تباہ کن اثرات رکھتے ہیں۔ افغانستان کی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب ایک معاشرہ مسلسل جنگ، بیرونی مداخلت اور اندرونی اختلافات کا شکار ہو جائے تو وہ کس طرح تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔
اسلامی تعلیمات ہمیں امن، عدل اور اتحاد کا درس دیتی ہیں، جو کسی بھی معاشرے کی تعمیر کے لیے ضروری ہیں۔ افغانستان سمیت دنیا کے تمام خطوں میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ ہم فساد اور فتنہ کے اسباب کو سمجھیں اور ان کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوشش کریں۔
یہ مضمون ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی ایک پرامن دنیا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں، تو ہمیں نہ صرف اپنے اعمال بلکہ اپنے نظریات کو بھی درست کرنا ہوگا، تاکہ ہم ایک بہتر اور مستحکم مستقبل کی بنیاد رکھ سکیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button