کالمزناصف اعوان

حکومت عوام کے دل جیتنے میں کامیاب ؟……..ناصف اعوان

لوگوں کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بیرونی سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری آٹے میں نمک برابر کر رہے ہیں ان کے اپنے مسائل ںوں گے شاید وہ یہ بھی سوچتے ہوں گے

حزبِ اختلاف اگر مضبوط ہو تو حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ عوامی بہتری و فلاح کے کام زیادہ سے زیادہ کرے تاکہ وہ لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے اور آئندہ عام انتخابات میں سر خرو ہو سکے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ موجودہ حکومت مذکورہ نقطہ نظر کے تحت ہی ایسے عوامی فلاحی منصوبے شروع کر رہی ہے جس سے لوگوں میں اس کے لئے نرم گوشہ پیدا ہونے کا قوی امکان ہے ۔یہ بھی درست ہے کہ وہ ٹیکسوں میں بھی اضافہ کر رہی ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ وہ ٹیکس عوام پر ہی خرچ ہو رہے ہیں ۔ اس حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ بڑی حد تک جو ٹیکس لگائے جا رہے ہیں ان کا استعمال عوام کی بہبود پر ہو رہا ہے اگرچہ بعض لوگ حکومتی طرز عمل سے ناخوش بھی ہیں مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اس وقت ضرور محسوس کر رہے ہیں مگر آنے والے دنوں میں وہ دیکھیں گے کہ حکومت نے جو کچھ کیا ان کے لئے درست تھا لہذا انہیں مضطرب نہیں ہونا چاہیے اور صورت حال کا بغور جائزہ لینا چاہیے کیونکہ حکومت کی خواہش اور کوشش ہے کہ وہ حزب اختلاف کی مقبولیت کو کم کرے اور وہ زبانی کلامی نہیں عوام کی خدمت کرکے ہی ہو سکتی ہے لہذا وہ اس راستے پر رواں ہے ۔
لوگوں کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بیرونی سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری آٹے میں نمک برابر کر رہے ہیں ان کے اپنے مسائل ںوں گے شاید وہ یہ بھی سوچتے ہوں گے کہ موجودہ حکومت کو عوام کی بھر پور حمایت حاصل نہیں لہذا وہ کیوں یہاں اپنا یسا لگائیں جبکہ انہیں سوچنا چاہیے کہ کسی منصوبہ اور پروگرام کا تحفظ ریاست کرتی ہے حکومت نہیں لہذا گزارش ہے کہ سرمایہ کار بلا خوف و جھجک یہاں پیداواری منصوبوں کا آغاز کریں انہیں جلد علم ہو جائے گا کہ وہ خسارے میں نہیں فائدے میں ہیں ۔ جب تک کوئی بہت بڑی سرمایہ کاری نہیں ہوتی حکومت اپنے تئیں چھوٹے چھوٹے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جس سے عوام کو سہولتیں مل رہی ہیں یعنی اگر حکومت ایک طرف سے پیسا اکٹھا کر رہی ہے تو دوسری جانب وہ اس کو ملکی ترقی پر صرف کر رہی ہے ۔
انتظامی معاملات میں بھی اس کے اقدامات قابل تحسین ہیں کیونکہ ایسے ایسے پہلو ابھر کر سامنے آئے ہیں کہ ہمارے لئے حیران کن ہیں خصوصاً پنجاب حکومت نے سماج کی نفسیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے عام آدمی کی زندگی کو آسان اور خوشگوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس پر باقاعدہ عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب معاشرے کو قانون کے عین مطابق زندگی بسر کرنے کے لئے کہا جاتا ہے تو اسے تھوڑا عجیب اور کچھ مشکل لگتا ہے اس طرح قانون نافذ کروانے والے اداروں کو بھی بعض مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے پھر اس کے اندر بھی کچھ کالی بھیڑیں موجود ہوتی ہیں جو اپنی عادات نہیں بدلتیں اور رسوائی کا سبب بنتی ہیں۔ جیسا کہ پیرا فورس ہے جس نے شروع میں ناجائز تجاوزات کو سختی سے روکا ۔ دکانوں کے آگے جو سٹال اور ریڑھیاں لگی ہوئی تھیں ان کو ہٹوا دیا گیا مگر اب وہ پہلے والی پوزیشن پر آگئی ہیں۔ انہیں یہ بھی اختیار تھا کہ وہ سرکاری قیمتوں کے تحت اشیائے ضروریہ فروخت کروائیں مگر دکاندار ریڑھی بان اور خوانچہ والا دوبارہ من مرضی کر رہا ہے ۔ پرائس کنٹرول والے مجسٹریٹ بقول حکومتی ترجمان گھر بیٹھے کارروائیاں ڈال رہے ہیں لہذا ان سے جواب طلبی کی جا رہی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت نیک نیت بھی ہو تو اس کے آگے سرکاری اہلکار دلچسپی نہ رکھتے ہوں تو کچھ نہیں ہو سکتا ایسے لوگوں کو بھی قانون کے شکنجے میں لانا چاہیے انہوں نے اب تک کسی بھی حکومت کو آزادی کے ساتھ کام نہیں کرنے دیا اور کوشش کی کہ وہ ناکام ہو جائے لہذا ایسے عناصرِ کی تطہیر ہونی چاہیے یہ کسی طور بھی کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے۔
بہرحال پنجاب حکومت کے مجموعی پروگرامز میں سے یہ جو چھپڑ بحالی پروگرام ہے وہ قابل غور ہے کہ کئی دہائیوں بعد کسی ایک حکومت کو یہ خیال آیا ہے ۔ اس کی تعریف کرنی چاہیے کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر کچھ لوگوں نے چھپڑ کے کسی حصہ کو مٹی سے پُر کرکے وہاں عمارت کھڑی کرلی۔یا پھر بڑی بڑی حویلی بنا لی۔ اب حکومت نے انہیں مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ گھروں کا استعمال شدہ پانی اس میں جمع ہو اس میں مچھلیاں چھوڑی جائیں اور ڈھوڑ ڈنگڑ بھی اس میں نہائیں۔ یہ گندہ پانی اب ندی نالوں کو آلودہ نہیں کر سکے گا لہذا اس پر پنجاب حکومت کو شاباش دینی چاہیے مگر جن لوگوں نے مکانات بنائے ہیں وہ اسے برا بھلا کہہ رہے ہیں جو جائز نہیں انہیں علم نہیں تھا کہ سرکار کی زمین پر قبضہ کرنا سراسر غلط ہوتا ہے لہذا اس نے اپنے چھپڑ واپس لینا چاہے ہیں تو اعتراض کیوں ؟ یہاں ہم یہ عرض کر دیں کہ کسی بھی گاؤں کو استثناء نہیں ملنا چاہیے کیونکہ بعض دیہاتوں میں رہنے والے بااثر افراد یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے گاؤں میں کوئی کارروائی نہیں ہو گی اس حوالے سے حکومت پنجاب کو واضح طور سے موقف اپنانا چاہیے اور اس تاثر کو زائل کرنا چاہیے ۔اس طرح سی سی ڈی کا محکمہ تشکیل دیا گیا ہے جس نے بدمعاشوں غنڈوں اور اشتہاریوں پر لرزہ طاری کر دیا ہے وہ تھر تھر کانپ رہے ہیں کچھ تو مقابلوں میں پار بھی ہو رہے ہیں یوں کمزوروں اور غریبوں نے سکھ کا سانس لیا ہے ۔ بے روزگار نوجوانوں کو وظائف دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے روزگار کے ذرائع بھی پیدا کیے جا رہے ہیں یوں ایک بہتر مستقبل کی طرف بڑھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے ہوا یہ ہے کہ جو لوگ پی ٹی آئی کو آخری امید سمجھ رہے تھے ان میں سے بعض کے زہن تبدیل ہو رہے ہیں کیونکہ موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومت نے اپنی پالیسیوں اور فلاحی منصوبوں کی بنا پر ان کے دل جیت لیے ہیں کیونکہ عوام کی اکثریت اپنے مستقبل کو روشن دیکھنا چاہتی ہے اسے انصاف ملے تعلیم اور صحت مفت ملیں انہیں اس سے غرض ہے لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی حد تک ایسا ہوتا ہوا واضح دکھائی دے رہا ہے مگر کسانوں کے بارے میں بھی کوئی منصوبہ بندی کی جانی چاہیے کیونکہ وہ مشکل میں ہیں ان کو گزرے دن بہت یاد آتے ہیں لہذا ان کی طرف بھی متوجہ ہوا جائے ۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button