بین الاقوامیتازہ ترین

علی لاریجانی کی تہران کے انقلاب اسکوائر پر نماز جنازہ، ہزاروں افراد کی شرکت

ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ علی لاریجانی کی اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے بعد خطے میں پھیلی کشیدگی میں اضافہ مزید اضافہ ہوگیا۔

تہران :
علی لاریجانی کی تہران کے انقلاب اسکوائر پر نماز جنازہ، ہزاروں افراد کی شرکت

علی لاریجانی کی تہران کے انقلاب اسکوائر پر نماز جنازہ، ہزاروں افراد کی شرکت (X/@alilarijani_ir)

 ایران کے سینئر ترین سیکیورٹی عہدیدار اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی اردشیر لاریجانی کی نمازِ جنازہ اور تدفین عمل میں آئی، اس موقع پر بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ ایرانی دارالحکومت تہران کے انقلاب اسکوائر پر علی لاریجانی اور بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کے علاوہ بحریہ کے درجنوں اہلکاروں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ اس دوران شرکاء کی جانب سے اللّٰہ اکبر کے نعرے لگائے گئے۔

علی ریجانی گزشتہ روز اسرائیلی فضائی حملے میں اپنے بیٹے سمیت جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ اسی طرح بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی بھی تہران پر اسرائیلی حملے میں نشانہ بنے۔ ایرانی حکام کے مطابق جب لاریجانی اپنے بیٹے مرتضیٰ کے ہمراہ پردی کے علاقے میں اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے گئے ہوئے تھے، اس وقت حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں ان کے بیٹے کے بھی جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے لاریجانی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی اس کارروائی کا اعلان کیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق یہ حملہ ایران کی اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت کو نشانہ بنانے کی ایک بڑی مہم کا حصہ ہے۔ ادھر ایران میں سکیورٹی اداروں نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے تقریباً 100 افراد کو جاسوسی کے الزامات میں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائیاں بسیج اور پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں نے انجام دیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ علی لاریجانی کا قتل ایران کے سیاسی نظام کو کمزور نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا بڑا دعویٰ: ایرانی انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب ہلاک، خطے میں کشیدگی مزید شدید

67 سالہ علی لاریجانی ایران کی سیاست اور خارجہ پالیسی میں ایک کلیدی شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ انہیں جوہری مذاکرات اور سفارتی امور میں مہارت حاصل تھی اور وہ ایران کے سپریم لیڈر کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد وہ ملک کے انتظامی امور میں نمایاں کردار ادا کر رہے تھے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button