
افغان وزیر داخلہ کا کابل پر پاکستانی حملے کے بدلے کا عزم
پاکستانی فضائی حملے میں 143 افراد مارے گئے تھے، جن میں اکثریت منشیات کے استعمال کی وجہ سے زیر علاج مریضوں کی تھی۔
اے پی اور اے ایف پی کے ساتھ
اس حملے کے بعد کابل میں طالبان کی حکومت کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اس میں 400 کے قریب افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہوئے۔ کل منگل کو کابل حکومت کے ان اعداد و شمار کی اسلام آباد میں پاکستانی حکومت نے تردید کرتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا تھا۔
اس بارے میں اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے امدادی مشن کی طرف سے بدھ کی صبح بتایا گیا تھا کہ اس پاکستانی فضائی حملے میں 143 افراد مارے گئے تھے، جن میں اکثریت منشیات کے استعمال کی وجہ سے زیر علاج مریضوں کی تھی۔

سراج الدین حقانی کا بیان
پاکستان اور افغانستان کے مابین موجودہ فوجی کشیدگی کو اب کئی ہفتے ہو چکے ہیں اور اس دوران اطراف کے مابین نہ صرف کئی سرحدی مقامات پر خونریز مسلح جھڑپیں ہو چکی ہیں بلکہ پاکستان کی طرف سے افغانستان میں کابل سمیت مختلف شہروں میں ایسے اہداف کو بھی متعدد مرتبہ فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے، جو اسلام آباد میں حکام کے مطابق ہندوکش کی اس ریاست میں دہشت گردی کے ایسے مراکز اور دہشت گردوں کے ایسے ٹھکانے تھے، جہاں سے پاکستان میں مسلح حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔
دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین خونریز کشیدگی میں رواں ہفتے کا آغاز خاص طور پر ہلاکت خیز ثابت ہوا، جب کابل میں ایک ڈرگ کلینک کو نشانہ بنایا گیا۔
اس پس منظر میں افغان طالبان کی حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے بدھ کے روز کہا کہ پاکستان کی طرف سے اس تازہ ترین اور ”سینکڑوں افراد کی ہلاکت کی وجہ بننے والے فضائی حملے‘‘ کا بدلہ لیا جائے گا۔

حقانی نے کابل میں اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سے متعدد کی اجتماعی تدفین کے موقع پر کہا، ”ہم بدلہ لیں گے۔ ہم نہ تو کمزور ہیں اور نہ ہی لاچار۔‘‘
افغان وزیر داخلہ نے کہا کہ جنہوں نے یہ فضائی حملہ کیا ہے، وہ ”مجرم‘‘ ہیں۔ ساتھ ہی سراج الدین حقانی نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”آپ اپنے جرائم کے نتائج بھی دیکھ لیں گے۔‘‘
دیگر رپورٹوں کے مطابق حقانی نے مزید کہا، ”ہم جنگ نہیں چاہتے۔ ہم مسائل کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔‘‘
کابل فضائی حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سے متعدد کو اسی شہر میں اجتماعی طور پر دفنا دیا گیا جبکہ بہت سے دیگر ہلاک شدگان کی لاشیں تدفین کے لیے مختلف افغان صوبوں میں ان کے آبائی علاقوں میں بھجوا دی گئیں۔


