
ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس
سعودی حکام نے یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ اس اجلاس میں شرکت کے لیے کون کون سے ممالک کو دعوت دی گئی ہے یا اس میں مجموعی طور پر کتنے وزرائے خارجہ حصہ لیں گے۔
روئٹرز، اے پی، اور اے ایف پی کے ساتھ
سعودی وزارت خارجہ نے بتایا، ”بدھ 18 مارچ کی شام ہونے والے اس بین الاقوامی اجلاس میں خطے میں استحکام اور سلامتی کی صورت حال کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہونے والی رابطہ کاری اور مشاورت کی جائیں گی۔‘‘
سعودی حکام نے یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ اس اجلاس میں شرکت کے لیے کون کون سے ممالک کو دعوت دی گئی ہے یا اس میں مجموعی طور پر کتنے وزرائے خارجہ حصہ لیں گے۔

سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر ایرانی حملے
امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے 28 فروری ہفتے کے دن ایران پر بڑے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی اور ابھی تک جاری جنگ میں ایران کی طرف سے سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک میں امریکی عسکری اہداف اور اقتصادی مفادات پر جنگی ڈرونز اور میزائلوں سے مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں۔
ان ایرانی حملوں میں اب تک خلیجی عرب ممالک میں مجموعی طور پر کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسی دوران سعودی عرب کی طرف سے آج بدھ کے روز بتایا گیا کہ اس کی مسلح افواج نے دو ایسے جنگی ڈرونز مار گرائے ہیں، جن کے ذریعے دارالحکومت ریاض میں بظاہر سفارتی علاقے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

سعودی وزارت دفاع کی طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں بتایا گیا، ”دو ایسے مسلح ڈرونز اس وقت مار گرائے گئے، جب وہ ریاض میں غیر ملکی سفارت خانوں والے علاقے کی طرف پرواز کر رہے تھے۔‘‘
اس سے قبل سعودی وزارت دفاع نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس نے کئی ایسے ڈرونز مار گرائے، جن کے ذریعے ملک کے مشرقی صوبے میں اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، جبکہ ریاض سے جنوب مشرق کی طرف واقع پرنس سلطان نامی اس سعودی ایئر فورس بیس کے قریب بھی ایک راکٹ کو مار گرایا گیا، جہاں کافی تعداد میں امریکی فوجی تعینات ہیں۔


