بین الاقوامیتازہ ترین

ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس

سعودی حکام نے یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ اس اجلاس میں شرکت کے لیے کون کون سے ممالک کو دعوت دی گئی ہے یا اس میں مجموعی طور پر کتنے وزرائے خارجہ حصہ لیں گے۔

روئٹرز، اے پی، اور اے ایف پی کے ساتھ

مشرق وسطیٰ میں قریب تین ہفتوں سے جاری موجودہ جنگ سے پیدا شدہ صورت حال کے تناظر میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بدھ 18 مارچ کو کئی عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک مشاورتی اجلاس ہو رہا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے بتایا، ”بدھ 18 مارچ کی شام ہونے والے اس بین الاقوامی اجلاس میں خطے میں استحکام اور سلامتی کی صورت حال کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہونے والی رابطہ کاری اور مشاورت کی جائیں گی۔‘‘

سعودی حکام نے یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ اس اجلاس میں شرکت کے لیے کون کون سے ممالک کو دعوت دی گئی ہے یا اس میں مجموعی طور پر کتنے وزرائے خارجہ حصہ لیں گے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان
سعودی ولی عہد محمد بن سلمانتصویر: Leon Neal/Getty/AP/picture alliance

سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر ایرانی حملے

امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے 28 فروری ہفتے کے دن ایران پر بڑے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی اور ابھی تک جاری جنگ میں ایران کی طرف سے سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک میں امریکی عسکری اہداف اور اقتصادی مفادات پر جنگی ڈرونز اور میزائلوں سے مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں۔

ان ایرانی حملوں میں اب تک خلیجی عرب ممالک میں مجموعی طور پر کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی دوران سعودی عرب کی طرف سے آج بدھ کے روز بتایا گیا کہ اس کی مسلح افواج نے دو ایسے جنگی ڈرونز مار گرائے ہیں، جن کے ذریعے دارالحکومت ریاض میں بظاہر سفارتی علاقے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

سعودی عرب میں راس تنورہ کے مقام پر ایک آئل ریفائنری پر ایک ایرانی ڈرون حملے کے بعد وہاں لگنے والی آگ، دو مارچ کو ایران جنگ کے ابتدائی دنوں میں لی گئی ایک سیٹلائٹ تصویر
سعودی عرب میں راس تنورہ کے مقام پر ایک آئل ریفائنری پر ایک ایرانی ڈرون حملے کے بعد وہاں لگنے والی آگ، دو مارچ کو ایران جنگ کے ابتدائی دنوں میں لی گئی ایک سیٹلائٹ تصویرتصویر: Vantor/AP Photo/picture alliance

سعودی وزارت دفاع کی طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں بتایا گیا، ”دو ایسے مسلح ڈرونز اس وقت مار گرائے گئے، جب وہ ریاض میں غیر ملکی سفارت خانوں والے علاقے کی طرف پرواز کر رہے تھے۔‘‘

اس سے قبل سعودی وزارت دفاع نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس نے کئی ایسے ڈرونز مار گرائے، جن کے ذریعے ملک کے مشرقی صوبے میں اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، جبکہ ریاض سے جنوب مشرق کی طرف واقع پرنس سلطان نامی اس سعودی ایئر فورس بیس کے قریب بھی ایک راکٹ کو مار گرایا گیا، جہاں کافی تعداد میں امریکی فوجی تعینات ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button