
اے پی اور اے ایف پی کے ساتھ
وفاقی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہا، ”اس عبوری وقفے پر عمل درآمد کا آغاز مقامی وقت کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 12 بجے ہو جائے گا اور یہ محدود وقفہ پیر کی نصف شب تک جاری رہے گا۔‘‘
عطا تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد حکومت نے یہ فیصلہ اپنی طرف سے ”اچھی سوچ کے عملی اظہار اور اسلامی روایات کو مدنظر‘‘ رکھتے ہوئے کیا ہے۔

تاہم ساتھ ہی پاکستانی وزیر داخلہ نے تنبیہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا، ”پاکستان میں سرحد پار سے کیے جانے والے کسی بھی نئے حملے، کسی ڈرون حملے یا ملکی سرزمین پر کسی بھی دوسرے دہشت گردانہ واقعے کی صورت میں یہ وقفہ فوراﹰ ختم ہو جائے گا اور پاکستانی آپریشنز پھر اپنی پوری شدت سے بحال ہو جائیں گے۔‘‘
پاکستان اور افغانستان کے مابین موجودہ فوجی کشیدگی کو اب کئی ہفتے ہو چکے ہیں اور اس دوران اطراف کے مابین نہ صرف کئی سرحدی مقامات پر خونریز مسلح جھڑپیں ہو چکی ہیں بلکہ پاکستان کی طرف سے افغانستان میں کابل سمیت مختلف شہروں میں ایسے اہداف کو بھی متعدد مرتبہ فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے، جو اسلام آباد میں حکام کے مطابق ہندوکش کی اس ریاست میں دہشت گردی کے ایسے مراکز اور دہشت گردوں کے ایسے ٹھکانے تھے، جہاں سے پاکستان میں مسلح حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔

دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین خونریز کشیدگی میں رواں ہفتے کا آغاز خاص طور پر ہلاکت خیز ثابت ہوا، جب ایک پاکستانی فضائی حملے میں کابل میں منشیات کے عادی افراد کی ایک علاج گاہ کو نشانہ بنایا گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس حملے میں 143 افراد ہلاک ہوئے۔
پاکستان کے مطابق کابل میں اس حملے کی جگہ ہتھیاروں اور مسلح ڈرونز کی ذخیرہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔


