پاکستاناہم خبریں

پاکستان کا افغانستان پر حملوں میں ’عبوری وقفے‘ کا اعلان

عطا تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد حکومت نے یہ فیصلہ اپنی طرف سے ''اچھی سوچ کے عملی اظہار اور اسلامی روایات کو مدنظر‘‘ رکھتے ہوئے کیا ہے۔

اے پی اور اے ایف پی کے ساتھ

پاکستان نے افغانستان پر اپنے حملوں میں کئی دوست ممالک کی درخواست پر ’عبوری وقفے‘ کا اعلان کر دیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ عید الفطر کے اسلامی تہوار کے پیش نظر سعودی عرب، قطر اور ترکی کی درخواست پر کیا گیا۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے بدھ 18 مارچ کو ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ ملکی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ہمسایہ ملک افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ ‘عبوری طور پر روک دینے‘ کا فیصلہ اسی ہفتے منائے جانے والے عید الفطر کے مذہبی تہوار کے پیش نظر کیا اور اس کے لیے اسلام آباد سے سعودی عرب، قطر اور ترکی جیسے دوست ممالک کی طرف سے درخواست کی گئی تھی۔

وفاقی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہا، ”اس عبوری وقفے پر عمل درآمد کا آغاز مقامی وقت کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 12 بجے ہو جائے گا اور یہ محدود وقفہ پیر کی نصف شب تک جاری رہے گا۔‘‘

عطا تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد حکومت نے یہ فیصلہ اپنی طرف سے ”اچھی سوچ کے عملی اظہار اور اسلامی روایات کو مدنظر‘‘ رکھتے ہوئے کیا ہے۔

پاکستانی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ
پاکستانی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑتصویر: Newscom World/IMAGO

تاہم ساتھ ہی پاکستانی وزیر داخلہ نے تنبیہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا، ”پاکستان میں سرحد پار سے کیے جانے والے کسی بھی نئے حملے، کسی ڈرون حملے یا ملکی سرزمین پر کسی بھی دوسرے دہشت گردانہ واقعے کی صورت میں یہ وقفہ فوراﹰ ختم ہو جائے گا اور پاکستانی آپریشنز پھر اپنی پوری شدت سے بحال ہو جائیں گے۔‘‘

پاکستان اور افغانستان کے مابین موجودہ فوجی کشیدگی کو اب کئی ہفتے ہو چکے ہیں اور اس دوران اطراف کے مابین نہ صرف کئی سرحدی مقامات پر خونریز مسلح جھڑپیں ہو چکی ہیں بلکہ پاکستان کی طرف سے افغانستان میں کابل سمیت مختلف شہروں میں ایسے اہداف کو بھی متعدد مرتبہ فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے، جو اسلام آباد میں حکام کے مطابق ہندوکش کی اس ریاست میں دہشت گردی کے ایسے مراکز اور دہشت گردوں کے ایسے ٹھکانے تھے، جہاں سے پاکستان میں مسلح حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔

پاکستان کے مطابق کابل میں اس فضائی حملے کی جگہ (تصویر) ہتھیاروں اور مسلح ڈرونز کی ذخیرہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی تھی
پاکستان کے مطابق کابل میں اس فضائی حملے کی جگہ ہتھیاروں اور مسلح ڈرونز کی ذخیرہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی تھیتصویر: Wakil Kohsar/AFP/Getty Images

دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین خونریز کشیدگی میں رواں ہفتے کا آغاز خاص طور پر ہلاکت خیز ثابت ہوا، جب ایک پاکستانی فضائی حملے میں کابل میں منشیات کے عادی افراد کی ایک علاج گاہ کو نشانہ بنایا گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس حملے میں 143 افراد ہلاک ہوئے۔

پاکستان کے مطابق کابل میں اس حملے کی جگہ ہتھیاروں اور مسلح ڈرونز کی ذخیرہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button