
رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کی پارلیمان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں 14 سال اور اس سے زائد عمر کے طلبہ کو تولیدی صحت سے آگاہی دینے کے لیے ایک اہم بل کی منظوری دے دی ہے۔ اس بل کو سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں ایوانوں سے منظور کر کے اب صدر مملکت کے پاس حتمی منظوری کے لیے بھیجا جا چکا ہے۔ یہ قانون صرف اسلام آباد میں تعلیمی اداروں پر نافذ ہوگا، تاہم اس بل کی کامیاب منظوری کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ یہ اقدام دیگر صوبوں میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔
قانون کی تفصیلات
یہ بل، جسے پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) سے تعلق رکھنے والی سینیٹر قرۃ العین مری نے پیش کیا تھا، 14 سال اور اس سے زائد عمر کے بچوں کے لیے تولیدی صحت کی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانے کا حکم دیتا ہے۔ اس کے تحت تعلیمی اداروں میں طلبہ کو تولیدی صحت کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا جائے گا، جس میں ان کی جسمانی، جذباتی، سماجی اور علمی ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔
قرۃ العین مری نے اس بل کی پیش کش کے وقت اس بات پر زور دیا کہ بچوں کو صحت، فلاح اور سماجی تعلقات کے حوالے سے آگاہی دینے سے ان کے مستقبل پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کا مقصد نوجوانوں کو اپنے جسمانی اور جذباتی حقوق اور ذاتی حفاظت کے حوالے سے شعور فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنے فیصلے بہتر طور پر کر سکیں اور دوسروں کے ساتھ باعزت تعلقات قائم کر سکیں۔
والدین کی اجازت کی ضرورت
اس بل میں ایک اہم پہلو یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ تعلیم دینے سے پہلے بچوں کے والدین یا قانونی سرپرستوں سے تحریری اجازت حاصل کی جائے گی۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ والدین اپنے بچوں کو اس تعلیم سے آگاہ کرنے پر رضامند ہوں، ایک واضح اور مربوط طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بل کی منظوری
یہ بل سب سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر قرۃ العین مری نے سینیٹ میں پیش کیا تھا، جہاں اس کو منظور کیا گیا۔ اس کے بعد اس بل کو پاکستان پیپلز پارٹی ہی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے قومی اسمبلی میں پیش کیا اور سادہ اکثریت سے منظور کروا لیا۔ اس بل کو اب صدر مملکت کے پاس حتمی منظوری کے لیے بھیجا جا چکا ہے اور ایک بار ان کی منظوری کے بعد یہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔
تولیدی صحت کی تعلیم کی اہمیت
سینیٹر قرۃ العین مری نے اس بل کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کی تجسس کو پورا کرنے کے لیے غیر مناسب ذرائع جیسے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا سہارا لیا جاتا ہے، جس سے وہ غلط معلومات اور متنازعہ مواد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچے جب اس نوعیت کی معلومات کے بارے میں اپنے اساتذہ سے نہیں پوچھتے تو ان کے ذہن میں کئی سوالات آتے ہیں، جنہیں پورا کرنے کے لیے وہ کہیں نہ کہیں غلط ہاتھوں میں جا سکتے ہیں۔
قرۃ العین مری کا کہنا تھا کہ ملک کے مختلف شہروں میں ایسے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں بچے اپنی تجسس کو پورا کرنے کے لیے ناپسندیدہ عناصر کے جال میں پھنس گئے۔ اسی لیے یہ ضروری ہو گیا تھا کہ ان کی تعلیم میں تولیدی صحت کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے تاکہ وہ متنازعہ ذرائع سے بچ سکیں۔
قانون سازی پر مذہبی جماعتوں کا ردعمل
اس بل کے بارے میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے اس پر احتجاج کی دھمکی دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی قانون سازی اسلامی تعلیمات اور ثقافت کے خلاف ہے۔ اسی طرح اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی کم عمری سے متعلق ایک اور قانون سازی کی مخالفت کی تھی۔
تاہم سینیٹر قرۃ العین مری نے اس بات کی وضاحت کی کہ اس بل کو پیش کرنے سے پہلے مذہبی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ سے مشاورت کی گئی تھی، اور اس میں ان کے تحفظات کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں بھی تولیدی صحت کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے اور اس موضوع پر دین اسلام میں بھی وضاحت موجود ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہر تعلیم سیدہ حرا امام نے اس قانون سازی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ثقافت اور روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی قانون سازی کی جانی چاہیے جو متنازعہ نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں تعلیمی اداروں میں بچوں کو ’گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ‘ کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے، اور والدین نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ تاہم، سیدہ حرا امام نے یہ بھی کہا کہ والدین کی جانب سے تولیدی صحت کی تعلیم دینے کے حوالے سے سخت ردعمل ممکن ہے، اس لیے حکومت کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
مستقبل کی توقعات
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر قرۃ العین مری نے امید ظاہر کی ہے کہ اس بل کا نفاذ متنازعہ نہیں بنے گا اور مذہبی جماعتوں سمیت تمام سیاسی حلقے اس پر عمل درآمد کے لیے میدان میں آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو تولیدی صحت کے بارے میں آگاہی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ نسلوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی جماعت کا مقصد یہ ہے کہ اس قانون کا اطلاق پورے ملک پر ہو اور تولیدی صحت کے بارے میں تعلیم کو تمام صوبوں کے تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے۔
اختتام
پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں اس قسم کی قانون سازی ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، جو نوجوانوں کو صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ضروری معلومات فراہم کرے گا۔ تاہم اس کا نفاذ مختلف چیلنجز اور رکاوٹوں کا سامنا بھی کر سکتا ہے، جنہیں حکومت کو سنجیدگی سے حل کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی ضروری ہے کہ تمام حلقے اس قانون کے حوالے سے مکمل آگاہی حاصل کریں اور اس پر مل جل کر عمل درآمد کریں تاکہ نوجوانوں کو ایک محفوظ اور صحت مند معاشرتی ماحول فراہم کیا جا سکے۔


