اہم خبریںمشرق وسطیٰ

اسرائیل اور امریکہ کا ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملہ: خطے میں کشیدگی میں اضافہ

اس حملے کے نتیجے میں تنصیبات میں آگ بھڑک اُٹھی، جس پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹنگ ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں

ڈی پی اے کے ساتھ

تہران: ایران — ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بدھ کے روز امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں ایران کے جنوبی صوبہ بوشہر میں واقع دنیا کے سب سے بڑے گیس فیلڈ، ساؤتھ پارس کی ایرانی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ گیس فیلڈ، جو قطر کے ساتھ مشترکہ ہے، ایران کی قدرتی گیس کی ضروریات کا تقریباً 70 فیصد فراہم کرتا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق، صوبہ بوشہر کے ڈپٹی گورنر احسان جہانیان نے بتایا کہ عسلویہ میں واقع ساؤتھ پارس سپیشل اکنامک انرجی زون میں گیس کی تنصیبات کو داغے گئے میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ میزائل اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے داغے گئے تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں تنصیبات میں آگ بھڑک اُٹھی، جس پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹنگ ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔

قطر کی مذمت

قطر، جو اس گیس فیلڈ کا ایک شریک ملک ہے، نے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا، ’’ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ سے منسلک تنصیبات کو اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنانا، جو دراصل قطر کے نارتھ فیلڈ کا تسلسل ہے، خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے دوران ایک خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا عالمی توانائی کے تحفظ، خطے کے عوام اور ماحولیات کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔‘‘ قطر کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس حملے کا نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی توانائی کے نظام پر دور رس اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔

ایران کے دیگر علاقوں پر حملے

ایرانی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے مختلف دیگر علاقوں، بشمول دارالحکومت تہران، پر بھی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کا نشانہ مغربی ایران کا صوبہ لورستان، شہر ہمدان اور جنوبی صوبہ فارس بنے۔ ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا کہ لورستان کے شہر درود میں ہونے والے امریکی-اسرائیلی حملے میں کم از کم 7 افراد ہلاک اور 56 زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہمدان اور فارس کے دیگر علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ایران کا ردعمل

ایران نے اس حملے کو اپنے معاشی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس جارحیت کا نوٹس لے اور اس کے خلاف فوری کارروائی کرے۔ ایران کے وزیرِ خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ ’’یہ حملہ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے توانائی کے تحفظ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔‘‘ ایرانی حکومت نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے یہ حملے دراصل ایران کے توانائی کے ذخائر اور اقتصادی نظام کو کمزور کرنے کی ایک سازش کا حصہ ہیں۔

اسرائیل اور امریکہ کا موقف

اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ان حملوں کے حوالے سے کوئی فوری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران کے جوہری پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کی بڑھتی ہوئی سیاسی و فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک نئی تیز کردہ حکمت عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

اسرائیل کا ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، اور اس مقصد کے لیے اسرائیل نے مختلف اوقات میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ امریکی حکام کا بھی یہی کہنا ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

اس حملے کے نتیجے میں خطے میں مزید کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ایران کی جانب سے اسرائیل اور امریکہ پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ اس کی اقتصادی ترقی کو روکنے کے لیے اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف کارروائی اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی حکمت عملی کو مستحکم کرنا ہو سکتا ہے۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی کافی زیادہ ہے، اور امریکہ کے ساتھ ایران کے تعلقات میں بھی سرد مہری ہے۔ اس کے باوجود، یہ حملے دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا محاذ کھولنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

عالمی ردعمل

عالمی سطح پر ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں کو ایک سنگین واقعہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ توانائی کے عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے حملے عالمی توانائی کی فراہمی کو متاثر کر سکتے ہیں، جس کا اثر نہ صرف خطے بلکہ عالمی مارکیٹ پر بھی پڑے گا۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے توانائی کے ذرائع کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

نتیجہ

اس حملے کے بعد ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا عالمی سطح پر توانائی کے تحفظ کے حوالے سے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ اس واقعے نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا دی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مسئلے کو جلد حل کرے تاکہ خطے میں مزید خونریزی اور اقتصادی نقصان سے بچا جا سکے۔ ایران کی حکومت نے اس حملے کا سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور عالمی برادری سے اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس دوران اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے اس پر کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حملے خطے میں آئندہ کی حکمت عملی کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button