
پاکستان میں سوشل میڈیا ریگولیشن کا نیا دور: SMPRA کا قیام، حکومت اور ناقدین آمنے سامنے
یہ اتھارٹی صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ اور ڈیجیٹل مواد کو قانونی دائرے میں لانے کی ذمہ دار بھی ہوگی
ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کےساتھ
پاکستان کی وفاقی حکومت نے ڈیجیٹل دنیا کو منظم کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (SMPRA) قائم کر دی ہے۔ اس اقدام کو ملک میں ڈیجیٹل گورننس کے ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس پر شدید بحث بھی جاری ہے۔
اتھارٹی کا قیام اور تقرریاں
حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق:
ایاز شوکت کو SMPRA کا پہلا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے
دیگر ارکان میں سہیل اقبال، عدنان خان، محمد سلمان ظفر، فہد ملک اور محمد سعد علی شامل ہیں
چیئرمین اور ممبران کی مدت تعیناتی پانچ سال رکھی گئی ہے
یہ تقرریاں وزارت داخلہ و انسدادِ منشیات پاکستان کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے تحت عمل میں آئی ہیں۔
SMPRA کیا ہے اور اس کے اختیارات کیا ہوں گے؟
سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (SMPRA) کو ایک مرکزی ریگولیٹری ادارے کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے، جس کا دائرہ کار پاکستان میں کام کرنے والے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک پھیلا ہوگا۔
اس کے اہم اختیارات میں شامل ہیں:
تمام مقامی و بین الاقوامی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی لازمی رجسٹریشن
غیر قانونی یا "قابلِ اعتراض” مواد کی نگرانی
کسی بھی مواد کو 24 گھنٹوں کے اندر ہٹانے کا حکم
قوانین کی خلاف ورزی پر پلیٹ فارم کو جزوی یا مکمل بلاک کرنا
مزید برآں، یہ اتھارٹی صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ اور ڈیجیٹل مواد کو قانونی دائرے میں لانے کی ذمہ دار بھی ہوگی۔
ادارہ جاتی ڈھانچہ
SMPRA کے ڈھانچے میں شامل ہوں گے:
ایک چیئرمین
پانچ نجی ارکان
تین سرکاری نمائندے
اس کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں قائم کیا جائے گا جبکہ ضرورت کے مطابق صوبائی دارالحکومتوں میں دفاتر بھی کھولے جا سکیں گے۔
ابتدائی مرحلے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اس ادارے کو تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔
شکایتی نظام اور ٹریبونلز
قانون کے تحت دو اہم ادارے بھی قائم کیے جائیں گے:
سوشل میڈیا کمپلینٹ کونسل
سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹریبونل
یہ ادارے:
صارفین کی شکایات سنیں گے
فیصلے 90 دن کے اندر کرنے کی کوشش کریں گے
اپیلوں کے لیے باقاعدہ فورم فراہم کریں گے
سخت سزائیں اور کمپنیوں کے لیے ذمہ داریاں
نئے قانون کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں اور صارفین پر سخت ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں:
تحقیقاتی اداروں کو مطلوبہ ڈیٹا 24 گھنٹوں میں فراہم کرنا ہوگا
ہنگامی حالات میں یہ وقت کم ہو کر 6 گھنٹے رہ جائے گا
فیک نیوز پھیلانے پر:
3 سال تک قید
20 لاکھ روپے تک جرمانہ
کمپنیوں پر 50 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے
حکومتی مؤقف: عوام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدام
حکومت کا کہنا ہے کہ SMPRA کا قیام وقت کی اہم ضرورت تھا۔ حکام کے مطابق:
آن لائن جرائم میں اضافہ ہو رہا تھا
ہراسانی، فراڈ اور نفرت انگیز مواد عام ہو چکا تھا
صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے واضح نظام موجود نہیں تھا
حکومت کے مطابق یہ قانون ڈیجیٹل اسپیس کو محفوظ بنانے اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے میں مدد دے گا۔
تنقید اور خدشات
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ناقدین اس قانون پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق:
پاکستان کا ترمیم شدہ سائبر کرائم قانون نہ تو عوام کو حقیقی خطرات سے بچاتا ہے اور نہ ہی بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرتا ہے۔
ناقدین کے اہم خدشات میں شامل ہیں:
آزادیٔ اظہار پر ممکنہ قدغن
"قابلِ اعتراض مواد” کی مبہم تعریف
حکومتی اختیارات میں غیر معمولی اضافہ
سیاسی یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کا خدشہ
ڈیجیٹل گورننس کا نیا مرحلہ یا کنٹرول کا نظام؟
ماہرین کے مطابق SMPRA کا قیام پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے، لیکن اس کے اثرات کا انحصار اس کے عملی نفاذ پر ہوگا۔
اگر یہ اتھارٹی شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے کام کرتی ہے تو یہ:
آن لائن ماحول کو محفوظ بنا سکتی ہے
ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دے سکتی ہے
لیکن اگر اختیارات کا غلط استعمال ہوا تو:
آزادیٔ اظہار متاثر ہو سکتی ہے
سوشل میڈیا پر سنسرشپ بڑھ سکتی ہے
نتیجہ
SMPRA کا قیام ایک ایسا قدم ہے جس نے پاکستان میں ڈیجیٹل آزادی اور ریاستی کنٹرول کے درمیان توازن پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ اتھارٹی واقعی عوام کے تحفظ کا ذریعہ بنتی ہے یا آزادیٔ اظہار کے لیے ایک چیلنج ثابت ہوتی ہے۔


