تازہ ترینمشرق وسطیٰ

ایرانی قانون سازوں نے آبنائے ہرمز سے جہاز رانی پر ٹول ٹیکس کی تجویز دے دی

جنگ شروع ہونے کے بعد سے کلیدی آبنائے کے ذریعے تجارتی امور تقریباً معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔

ایران
جمعرات کو مقامی میڈیا نے اطلاع دی کہ ایرانی قانون سازوں نے تجارتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز سے گذرنے والے بحری جہازوں پر ٹول اور ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
حکام نے کہا ہے کہ آبی گذرگاہ کے راستے جہاز رانی کے حالات جنگ شروع ہونے سے پہلے کے معمول پر واپس نہیں آئیں گے جو 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیل حملوں سے شروع ہوئی۔
اسنا نیوز ایجنسی نے تہران کی قانون ساز سمیہ رفیعی کے حوالے سے بتایا، "ہم پارلیمنٹ میں ایک منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت اگر آبنائے ہرمز کو تجارتی مال برداری، توانائی اور خوراک کی حفاظت کے لیے محفوظ راستے کے طور پر استعمال کیا جائے تو ممالک اسلامی جمہوریہ کو ٹول اور ٹیکس ادا کریں گے۔”
انہوں نے کہا، "اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے کی حفاظت مضبوطی، اختیار اور شان و شوکت سے کرے گا اور اس کے بدلے میں ممالک کو ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔”
جنگ شروع ہونے کے بعد سے کلیدی آبنائے کے ذریعے تجارتی امور تقریباً معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔
ایرانی افواج نے متعدد بحری جہازوں پر یہ کہتے ہوئے حملہ کیا ہے کہ وہ آبی گذرگاہ سے گذرنے کے حوالے سے "انتباہات” پر عمل کرنے میں ناکام رہے۔
پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر غالباف نے منگل کو کہا کہ سمندری ٹریفک "جنگ سے پہلے کے حالات پر بحال نہیں ہو گی۔”
حالیہ دنوں میں ایران نے ان ممالک کے بعض جہازوں کو گذرنے کی اجازت دی ہے جنہیں وہ دوستانہ سمجھتا ہے جبکہ خبردار کیا ہے کہ وہ ان ممالک کے جہاز روک دے گا جو اس کے خلاف "جارحیت” میں شامل ہوئے ہیں۔
میری ٹائم انٹیلی جنس فرم ونڈورڈ نے منگل کے روز ایک تجزیے میں کہا کہ کم از کم پانچ بحری جہاز 15 اور 16 مارچ کو ایرانی پانیوں کے راستے آبنائے سے نکلے۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک پیغام میں یہ بھی کہا، "آبنائے ہرمز کو روک کر ضرور اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔”

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button