
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
راولپنڈی میں ایک اہم مشاورتی نشست کے دوران عاصم منیر نے اہلِ تشیع برادری کے جید علمائے کرام سے ملاقات کی، جس میں قومی سلامتی، داخلی استحکام اور سماجی ہم آہنگی جیسے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
قومی اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی پر زور
ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے علمائے کرام کے کردار کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ:
ملک میں اتحاد، رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے
مذہبی رہنما معاشرے میں مثبت سوچ اور برداشت کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں
فرقہ وارانہ بیانیوں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا قومی ذمہ داری ہے
انہوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ بیرونی عناصر کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات اور عدم استحکام کی کوششوں کا مقابلہ مشترکہ حکمت عملی سے کیا جانا چاہیے۔
دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف
اجلاس میں سکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے آپریشن غضب للحق کا حوالہ دیا اور واضح کیا کہ:
پاکستان اپنی سرزمین یا کسی بھی پڑوسی ملک کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا
افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی کارروائیاں ناقابلِ قبول ہیں
دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری رہیں گے
انہوں نے افغان طالبان پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔
انتہا پسندی اور مذہبی جذبات کے غلط استعمال کی مخالفت
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کیا کہ:
مذہب کے نام پر تشدد یا نفرت کو ہوا دینا کسی صورت قابل قبول نہیں
کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کو جواز بنا کر پاکستان میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
انتہا پسندی کے خلاف بیانیہ مضبوط بنانے میں علمائے کرام کا کردار انتہائی اہم ہے
انہوں نے کہا کہ قومی مفاد کے لیے تمام مکاتب فکر کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔
علاقائی صورتحال اور پاکستان کی سفارتی کوششیں
اجلاس کے دوران فیلڈ مارشل نے شرکاء کو خطے میں جاری کشیدگی اور اس کے اثرات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ:
پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال سفارتکاری کر رہا ہے
امن، استحکام اور توازن برقرار رکھنا حکومت اور ریاستی اداروں کی اولین ترجیح ہے
علمائے کرام کا ردعمل
اجلاس میں شریک اہلِ تشیع علمائے کرام نے:
ملک میں امن و استحکام کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا
مذہب کے نام پر ہونے والے تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کی
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی قیادت کو چاہیے کہ وہ عوام میں برداشت، اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام عام کرے۔
نتیجہ
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک کو داخلی و خارجی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں مذہبی قیادت اور ریاستی اداروں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے اتحاد، برداشت اور دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان نہ صرف سکیورٹی بلکہ سماجی استحکام کو بھی یکساں اہمیت دے رہا ہے۔



