پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

پاکستانی عوام کا افغان طالبان کے پروپیگنڈے کو مسترد، دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے مؤقف کی بھرپور حمایت

پاکستانی شہریوں نے حالیہ کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے اندر اسلحہ کے ڈیپو کو نشانہ بنانا ایک دفاعی اقدام تھا

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کے غیور عوام نے پاک فوج کے خلاف افغان طالبان رجیم کی جانب سے پھیلائے جانے والے گمراہ کن پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے قومی سلامتی کے مؤقف کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خاتمے یا ان کی حوالگی کا مطالبہ نہ صرف جائز بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین طویل عرصے سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جہاں مختلف شدت پسند گروہ محفوظ پناہ گاہیں بنا کر پاکستانی عوام اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں۔ عوام نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ افغان طالبان کی سرپرستی میں سرگرم عناصر، جنہیں بعض حلقے "فتنہ الخوارج” سے تعبیر کرتے ہیں، پاکستان میں مساجد، بازاروں اور عوامی مقامات پر حملے کر کے معصوم جانوں کا ضیاع کر رہے ہیں۔
پاکستانی شہریوں نے حالیہ کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے اندر اسلحہ کے ڈیپو کو نشانہ بنانا ایک دفاعی اقدام تھا، کیونکہ یہی اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی خودمختار ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے تحفظ اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
عوام نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے افغان طالبان کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں یا پھر ایسے عناصر کو پاکستان کے حوالے کریں۔ بصورت دیگر، پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے یکطرفہ کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ شہریوں کے مطابق، اگر افغان طالبان اس سلسلے میں تعاون نہیں کرتے تو پاک فوج کی جانب سے مؤثر کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
مزید برآں، عوامی حلقوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ دہشت گردی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہوتی اور اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے افغان طالبان پر زور دیا کہ وہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کریں اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کریں جو دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
شہریوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان ایک مضبوط اور خودمختار ریاست ہے، جو ایٹمی صلاحیت رکھتی ہے اور اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کمزور سمجھنا ایک بڑی غلط فہمی ہے، اور ملک کے دفاع کے لیے پوری قوم متحد ہے۔
دوسری جانب، عوام نے افغانستان کی داخلی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ وہاں بے روزگاری، بدامنی اور غیر یقینی حالات نے عام لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق، افغان عوام خود بھی موجودہ حکمرانی سے مطمئن نظر نہیں آتے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
آخر میں، پاکستانی عوام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک کے خلاف ہر قسم کی سازش اور پروپیگنڈے کو ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد، مضبوط دفاع اور بروقت اقدامات ہی پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا واحد راستہ ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button