
ڈارک نیٹ پر بچوں کا جنسی استحصال، نیٹ ورک ناکام بنا دیا گیا
اس جرائم پیشہ نیٹ ورک کا مشتبہ سرغنہ ایک ایسا 35 سالہ چینی شہری ہے، جو چین ہی میں کہیں رہتا ہے اور جس کی گرفتاری کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔
اے پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
باویریا میں صوبائی وزارت انصاف، جرائم کی چھان بین کرنے والے وفاقی جرمن ادارے کی صوبائی برانچ اور باویریا کے شہر بامبرگ میں وفاقی دفتر استغاثہ کی مقامی شاخ کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ اس جرائم پیشہ نیٹ ورک کا مشتبہ سرغنہ ایک ایسا 35 سالہ چینی شہری ہے، جو چین ہی میں کہیں رہتا ہے اور جس کی گرفتاری کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔
600 مشتبہ ملزمان میں سے 440 کی شناخت
میونخ میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تفتیشی ماہرین نے ڈارک نیٹ پر اس نیٹ ورک کے زیر استعمال سائٹ کے 373,000 آن لائن صفحات کو آف لائن کر دیا ہے اور اب انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا۔

اس کریمینل نیٹ ورک کا پتا چلا کر اسے ناکام اور پھر ختم کر دینے میں تفتیشی ماہرین کو چار سال سے زائد کا عرصہ لگا۔ باویریا میں تفتیشی ماہرین کے بقول یہ نیٹ ورک بچوں کے شدید نوعیت کے جنسی استحصال اور بچوں پر جنسی تشدد کی ویڈیوز اور تصاویر اپنے پلیٹ فارم پر بطور اشتہار شائع کرتا تھا اور پھر ایسے مواد کے خریدار اپنے گاہکوں سے یہ کہہ کر رقوم وصول کرتا تھا کہ انہیں بدلے میں ایسی اصلی تصاویر اور ویڈیوز بھیجی جائیں گی۔
جرمن حکام کے مطابق ‘پیڈوفائل‘ ذہنیت کے حامل خریداروں کو یہ تصاویر بھیجی نہیں جاتی تھیں، بلکہ فراڈ کر کے ان سے رقوم وصول کر لی جاتی تھیں۔ تاہم اس پورے عمل میں بچوں کا جنسی استحصال اور ان پر تشدد اس لیے حقیقی ہوتا تھا کہ یہ تصاویر حققیتاﹰ ایسے ہی استحصال او تشدد کی عکاس ہوتی تھیں۔
بتایا گیا ہے کہ اس سارے مجرمانہ عمل میں شامل قریب 600 میں سے 440 مشتبہ ملزمان کو شناخت کر لیا گیا ہے۔

باویریا کے وزیر انصاف کا موقف
اس بارے میں جرمن صوبے باویریا کے وزیر انصاف گیورگ آئزن رائش نے کہا، ”خریداروں کو ایسی تصاویر آخرکار مہیا نہیں کی جاتی تھیں۔ لیکن ڈارک نیٹ پر ایسی آن لائن شاپس اپنے خریداروں کے لیے بچوں کے جنسی استحصال والے تصویری مواد کے ذریعے تشہیر تو کرتی تھیں۔‘‘
آئزن رائش کے الفاظ میں، ”ہمیں ایک بات بالکل نہیں بھولنا چاہیے: ایسی ہر تصویر اور ایسی ہر ویڈیو کے پیچھے ایک معصوم بچے کی ناقابل تصور اذیت ہوتی ہے۔‘‘
ساتھ ہی صوبائی وزیر انصاف نے کہا کہ یہ بات بھی ”ڈرا دینے والی‘‘ ہے کہ ایسے استحصالی اور پرتشدد تصویری مواد یا ویڈیوز کی مجرمانہ ذہنیت کے حامل بالغ انسانوں میں بین الاقوامی سطح پر پائی جانے والی طلب کتنی زیادہ ہو چکی ہے۔

یوروپول کی مدد سے بین الاقوامی چھان بین
ڈارک نیٹ پر اس جرائم ہیشہ نیٹ ورک کے خلاف جو آپریشن کیا گیا، اس میں 600 مشتبہ صارفین کے خلاف تفتیش کی گئی۔ ان افراد نے اس نیٹ ورک کو ایسی تصویروں اور ویڈیوز کے لیے فروری 2020ء اور جولائی 2025ء کے درمیانی عرصے میں مالی ادائیگیاں کی تھیں۔
اس پورے تفتیشی عمل میں جرمن حکام نے یورپی پولیس ادارے یوروپول کے ساتھ مل کر جو چھان بین کی، اس میں کم از کم بھی 23 ممالک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل رہے۔
جرمنی میں اس دوران نو وفاقی صوبوں میں 14 مشتبہ افراد کے خلاف قانونی تلاشیوں کا عمل مکمل کیا گیا۔

یہ نو وفاقی صوبے باویریا، برلن، ہیمبرگ، ہیسے، لوئر سیکسنی، نارتھ وائن ویسٹ فیلیا، سیکسنی، شلیسوگ ہولشٹائن اور تھیورنگیا تھے۔



