
ایران کے خلاف معرکہ عسکری طور پر جیت چکے، بزدل نیٹو اتحادیوں نے دھوکا دیا: ٹرمپ
ایران میں قیادت زندہ نہیں بچی جس سے بات چیت کی جائے:امریکی صدر
امریکا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران میں جاری معرکہ عسکری طور پر جیت چکے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ٹروتھ سوشل” پر اپنے ایک پیغام میں امریکی صدر نے نیٹو اتحادیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم یہ کبھی نہیں بھولیں گے کہ نیٹو اتحادیوں نے ایران کے معاملے پر مدد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد ازاں اپنے ایک بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں اب ایسے کوئی قائدین باقی نہیں بچے جن سے بات چیت کی جا سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک آبنائے ہرمز میں مدد فراہم کرنے سے گریز کر رہے ہیں لیکن تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر واویلا مچاتے ہیں۔ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ میں تعاون نہ کرنے پر نیٹو کے رکن ممالک کو "بزدل” قرار دیا۔
امریکی صدر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ "امریکہ کے بغیر نیٹو محض ایک کھوکھلی طاقت ہے۔ یہ ممالک ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کی جنگ میں شامل ہونا نہیں چاہتے تھے اور اب جب کہ یہ معرکہ ان کے لیے انتہائی کم خطرات کے ساتھ عسکری طور پر حل ہو چکا ہے، تو وہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رونا رو رہے ہیں، حالانکہ وہ آبنائے ہرمز کھولنے میں مدد کرنے سے انکاری ہیں جو کہ ایک سادہ سی عسکری مشق ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی واحد وجہ یہی ہے، ان کے لیے یہ کام کرنا نہایت آسان اور کم پر خطر ہے لیکن وہ بزدل ہیں اور ہم ان کا یہ رویہ یاد رکھیں گے”۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ ریمارکس وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ہال میں امریکی نیول اکیڈمی کی فٹ بال ٹیم کو "کمانڈر ان چیف ٹرافی” دینے کی تقریب کے دوران سامنے آئے۔
اس سے قبل ویب سائٹ "ایکسیوس” نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران پر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے ایرانی جزیرے "خارگ” کا کنٹرول سنبھالنے یا اس کے محاصرے کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔
اخبار "وال اسٹریٹ جنرل” نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے اوپر اپنی عسکری کارروائیوں میں تیزی پیدا کر دی ہے اور جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے مزید جنگی جہاز بھیجے جا سکتے ہیں۔ واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ پینٹاگون کے منصوبے کے تحت ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنانے کے لیے حملہ آور طیارے اور اپاچی ہیلی کاپٹر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ کارروائیاں مال بردار جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تمہید کے طور پر کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کی خام تیل اور ایل این جی کی کل تجارت کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، وہاں جہاز رانی متاثر ہونے سے عالمی سطح پر سپلائی میں کمی اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جو گذشتہ دو سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ امریکہ میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں سیاسی قیادت کے لیے شدید تشویش کا باعث ہیں کیونکہ اس سے افراط زر بڑھنے کا خطرہ ہے جو کم آمدنی والے خاندانوں پر بوجھ بنتا ہے۔ گذشتہ منگل کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن کو خلیج میں بحری تجارت کے لیے انشورنس فراہم کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ امریکی بحریہ ضرورت پڑنے پر جلد از جلد تیل بردار جہازوں کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالے گی۔



