کاروباراہم خبریں

پاکستان میں ہائی آکٹین ایندھن مہنگا: حکومت کا 200 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان، نئی قیمت 533.88 روپے مقرر

لیوی میں 200 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

حکومتِ پاکستان نے پرتعیش گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین ایندھن کی قیمت میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے 200 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد اس ایندھن کی نئی قیمت 533 روپے 88 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

پیر کی صبح ایوانِ وزیراعظم کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ ملک میں جاری توانائی بحران اور عالمی حالات کے تناظر میں کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت وزیراعظم نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی، جس میں توانائی کی موجودہ صورت حال اور اس کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

لیوی میں نمایاں اضافہ

حکومتی بیان کے مطابق ہائی آکٹین پر عائد لیوی، جو اس سے قبل 100 روپے فی لیٹر تھی، اسے بڑھا کر 300 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔ اس طرح لیوی میں 200 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بنیادی طور پر متمول طبقے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، کیونکہ ہائی آکٹین ایندھن زیادہ تر لگژری اور اسپورٹس گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے۔

ہائی آکٹین کیا ہے؟

ہائی آکٹین ایک اعلیٰ معیار کا پیٹرول ہوتا ہے جو زیادہ کمپریشن ریشو والے انجنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ایندھن کی خاصیت یہ ہے کہ یہ زیادہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے انجن کی کارکردگی بہتر رہتی ہے اور گاڑی زیادہ موثر انداز میں چلتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا استعمال عموماً مہنگی اور ہائی پرفارمنس گاڑیوں میں کیا جاتا ہے۔

عالمی حالات اور توانائی بحران

حکومت نے اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والا توانائی بحران قرار دیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی عالمی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔

خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کو محدود کر دیا ہے، کیونکہ یہ گزرگاہ دنیا میں تیل کی تجارت کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں۔

پاکستان پر اثرات

پاکستان، جو اپنی توانائی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے، اس بحران سے شدید متاثر ہوا ہے۔ چند روز قبل ہی حکومت نے عام پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا، جس سے عوامی سطح پر مہنگائی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

کفایت شعاری اقدامات

حکومت نے توانائی کے استعمال کو کم کرنے کے لیے کفایت شعاری مہم بھی شروع کی ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہفتے میں تین روز کی تعطیل اور سرکاری و نجی اداروں میں گھر سے کام (ورک فرام ہوم) کی سہولت متعارف کروائی گئی ہے تاکہ ایندھن اور بجلی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔

مالی فوائد اور عوامی ریلیف

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہائی آکٹین پر لیوی میں اضافے سے حکومت کو ماہانہ تقریباً 9 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل ہوگی۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ اس رقم کو عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی اور توانائی بحران نے عام شہری کو متاثر کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اقدام بظاہر امیر طبقے کو نشانہ بناتا ہے، تاہم اس کے بالواسطہ اثرات معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی پڑ سکتے ہیں، جن پر آئندہ دنوں میں گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہوگی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button