پاکستاناہم خبریں

ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو قانونی حیثیت مل گئی، مگر زمینی حقیقت مختلف: نادرا کی ہدایات پر عمل درآمد ایک چیلنج

کئی کیسز میں شہریوں کی فراہم کردہ شناختی کاپیوں کو غیر قانونی سرگرمیوں، جعلی اکاؤنٹس یا دیگر فراڈ میں استعمال کیا گیا ہے،

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس اف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پاکستان میں شہریوں کی شناخت کے لیے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) کی فوٹو کاپی طلب کرنا ایک عام روایت بن چکی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہی سادہ سی لگنے والی ضرورت شہریوں کے لیے بڑے مالی اور قانونی خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔ حال ہی میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو قانونی طور پر فزیکل شناختی کارڈ کے برابر حیثیت دے دی ہے، لیکن اس کے باوجود ملک بھر میں اس پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

فوٹو کاپی: سہولت یا خطرہ؟

پاکستان میں سرکاری دفاتر، بینکوں، ٹیلی کام کمپنیوں اور دیگر نجی اداروں میں کسی بھی سروس کے حصول کے لیے اکثر شہریوں سے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی طلب کی جاتی ہے۔ بظاہر یہ ایک معمول کی کارروائی ہوتی ہے، مگر یہی کاپیاں اگر غلط ہاتھوں میں چلی جائیں تو جعلسازی، مالی دھوکہ دہی اور شناخت کے غلط استعمال جیسے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق کئی کیسز میں شہریوں کی فراہم کردہ شناختی کاپیوں کو غیر قانونی سرگرمیوں، جعلی اکاؤنٹس یا دیگر فراڈ میں استعمال کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متاثرہ افراد کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

ڈیجیٹل شناخت کو قانونی درجہ

نادرا نے حالیہ اصلاحات کے تحت ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو باضابطہ طور پر قانونی حیثیت دے دی ہے۔ ادارے کے مطابق Pak ID ایپ کے ذریعے دستیاب ڈیجیٹل شناختی اسناد اب فزیکل شناختی دستاویزات کے برابر سمجھی جائیں گی۔

نادرا کا کہنا ہے کہ نادرا آرڈیننس 2000 اور ڈیجیٹل شناختی قواعد 2025 کے تحت جاری کردہ ڈیجیٹل شناختی کارڈز کو وہی قانونی تحفظ حاصل ہے جو روایتی شناختی کارڈ کو حاصل ہوتا ہے۔ ریگولیشن 9 اور 10 کے مطابق تمام سرکاری و نجی ادارے ان دستاویزات کو بطور مستند شناخت قبول کرنے کے پابند ہیں۔

زمینی حقیقت: مزاحمت اور لاعلمی

اگرچہ یہ اقدام شہریوں کے لیے سہولت اور ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے، لیکن عملی طور پر کئی ادارے اب بھی ڈیجیٹل شناخت کو قبول کرنے سے گریزاں ہیں۔

متعدد شہریوں نے شکایت کی ہے کہ انہوں نے ڈیجیٹل شناختی کارڈ کے ذریعے اپنے امور نمٹانے کی کوشش کی، مگر بینکوں اور دیگر اداروں نے اسے تسلیم نہیں کیا اور فزیکل کارڈ یا اس کی فوٹو کاپی طلب کی۔ بعض دکاندار اور چھوٹے کاروباری مراکز بھی اس نئی پالیسی سے یا تو لاعلم ہیں یا اسے اپنانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

نادرا کا مؤقف

نادرا کے حکام کے مطابق ادارے کا مقصد پاکستان میں شناختی نظام کو جدید، محفوظ اور ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنا ہے تاکہ شہریوں کا ذاتی ڈیٹا زیادہ محفوظ بنایا جا سکے۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ غیر ضروری فوٹو کاپیوں کے خاتمے سے نہ صرف کاغذی کارروائی کم ہوگی بلکہ شہریوں کی معلومات کے غلط استعمال کی روک تھام بھی ممکن ہوگی۔

نادرا نے تمام سرکاری محکموں، مالیاتی اداروں اور سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو لازمی طور پر قبول کریں۔ ساتھ ہی شہریوں کو بھی تاکید کی گئی ہے کہ اگر کسی جگہ ان کی ڈیجیٹل شناخت کو تسلیم نہ کیا جائے تو وہ نادرا کے شکایتی نظام میں رپورٹ درج کرائیں۔

عمل درآمد کا مسئلہ

اہم سوال یہ ہے کہ کیا نادرا خود اس پالیسی پر عمل درآمد کروا سکتا ہے؟ حکام کے مطابق نادرا پالیسی سازی اور نظام کی فراہمی تک محدود ہے اور براہ راست مختلف اداروں پر عمل درآمد کروانے کا اختیار نہیں رکھتا۔

اس حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو آگاہ کیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر متعلقہ ادارے جیسے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ماہرین کی رائے

سائبر سکیورٹی ماہر اور ایف آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر عمار جعفری کے مطابق شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی دینا ایک پرانا اور غیر محفوظ طریقہ کار ہے، جس کے ساتھ مختلف نوعیت کے فراڈ جڑے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی شہری کی شناختی دستاویز کا غلط استعمال ہو جائے تو اسے نہ صرف مالی نقصان بلکہ قانونی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں مقیم سائبر سکیورٹی ماہر محمد اسد الرحمن کے مطابق پاکستان میں اکثر پالیسیوں کا مسئلہ ان کے نفاذ میں کمزوری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو گورننس، رسک اور کمپلائنس کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ صرف پالیسی بنانی چاہیے بلکہ اس کے مؤثر نفاذ کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔

ڈیجیٹل شناخت کی اہمیت

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ڈیجیٹل شناخت کا نظام تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور پاکستان کے لیے بھی یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف شہریوں کو سہولت ملے گی بلکہ ڈیٹا سکیورٹی کے معیار کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔

تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ عوامی آگاہی میں اضافہ کیا جائے، اداروں کی تربیت کی جائے اور قانون پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ ڈیجیٹل پاکستان کا خواب حقیقت بن سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button