
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز اے ایف پی کے ساتھ
پاکستان اور افغانستان نے، جن کے مابین خونریز جھڑپیں حالیہ ہفتوں میں بہت زیادہ ہو چکی تھیں، گزشتہ بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ عید الفطر کے اسلامی تہوار کے پیش نظر چند روز کے لیے ایک دوسرے کے خلاف مسلح کارروائیاں روک دیں گے۔
اسحاق ڈار کا یوم پاکستان کے موقع پر پیغام
پاکستان میں آج 23 مارچ کو منائے جانے والے یوم پاکستان کی قومی تعطیل کے موقع پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ افغانستان کے ساتھ تنازعے میں پاکستان کا بنیادی موقف تبدیل نہیں ہوا۔

ڈار نے کہا، ”پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے مسئلے کے مکمل خاتمے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ پاکستان کی طرف سے افغانستان کے اندر کی جانے والی عسکری کارروائیاں اسی منزل کے حصول کے لیے کی جانے والی کوششیں ہیں۔‘‘
کل اتوار 22 مارچ کے روز کابل میں طالبان حکومت اور طبی کارکنوں نے بتایا تھا کہ افغانستان کے مشرقی سرحدی صوبے کنڑ میں مبنینہ طور پر پاکستان سے فائر کیا گیا ایک مارٹر شیل لگنے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔
دونوں ممالک کے مابین کئی ماہ سے جاری کشیدگی
پاکستان اور افغانستان کے مابین حالیہ کشیدگی کے دوران گزشتہ چند ماہ میں جو فوجی حملے ہوئے ہیں، ان کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے افغان طالبان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں ممنوعہ تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کو اپنے ہاں محفوظ ٹھکانے مہیا کر رکھے ہیں۔
کابل میں طالبان حکام اسلام آباد کے اس الزام کو بے بنیاد قرار دے کر اس کی تردید کرتے ہیں۔

اسلام آباد اور کابل کے مابین رمضان کے اسلامی مہینے کے اختتام اور عید الفطر کے مذہبی تہوار سے قبل ہونے والے عارضی فائر بندی سے پہلے گزشتہ پیر کو رات گئے پاکستان نے کابل میں ایک فضائی حملہ کیا تھا، جس میں افغان حکام کے مطابق منشیات کے عادی افراد کی طبی بحالی کے ایک مرکز میں زیر علاج 400 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔
بعد میں اقوام متحدہ کے ذرائع نے بتایا تھا کہ ان ہلاکتوں کی تعداد 143 تھی۔ دوسری طرف پاکستان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس فضائی حملے کا ہدف بننے والے مقام پر افغان حکام نے کئی طرح کے ہتھیار اور مسلح ڈرون ذخیرہ کر رکھے تھے، جن کو اس فضائی حملے میں تباہ کر دیا گیا۔
خلیجی ریاستوں اور چین کی ثالثی کوششیں
پاکستانی اور افغان فورسز کے مابین خونریز حملوں کے تبادلے کی موجودہ لہر فروری میں اس وقت شروع ہوئی تھی، جب دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین ثالثی کے لیے کی جانے والی خلیجی عرب ممالک اور چین کی کوششیں ناکام ہو گئی تھیں۔

خلیجی ریاستیں اب اس تنازعے پر اس لیے کوئی توجہ نہیں دی پا رہیں کہ انہیں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں تہران کی طرف سے اپنے ہاں کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث خود سلامتی کے کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔
اسی دوران آج یوم پاکستان کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان میں پاکستانی مسلح افواج کی طرف سے کی جانے والی کارروائیاں ”دہشت گردی کے خلاف ہمارے قومی عزم کی علامت‘‘ ہیں۔
ساتھ ہی شہباز شریف نے کہا، ”ہم کسی کو بھی اپنے ملک میں امن اور سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘



