
ایران کا دوٹوک اعلان: ہتھیار ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ’مکمل فتح‘ تک جنگ جاری رکھنے کا عزم
ایرانی مسلح افواج پوری قوت، عزم اور تیاری کے ساتھ میدان میں موجود ہیں اور ملک کے دفاع میں کسی بھی دباؤ یا دھمکی کو خاطر میں نہیں لائیں گی
تہران: ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت نے واضح اور سخت مؤقف اپناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ موجودہ کشیدہ صورتحال میں نہ تو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کیا جائے گا اور نہ ہی ہتھیار ڈالنے کا کوئی امکان ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر حد تک جائے گا اور جنگ کو "مکمل فتح” تک جاری رکھا جائے گا۔
یہ بیان ایران کی اعلیٰ فوجی کمان کے ترجمان علی عبداللہ العبادی نے منگل کے روز جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج پوری قوت، عزم اور تیاری کے ساتھ میدان میں موجود ہیں اور ملک کے دفاع میں کسی بھی دباؤ یا دھمکی کو خاطر میں نہیں لائیں گی۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا،
"طاقتور ایرانی مسلح افواج ملک کی خودمختاری کا پختہ دفاع کریں گی اور اس راستے پر حتمی فتح تک قائم رہیں گی۔”
ایرانی حکام کے اس سخت مؤقف کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں Iran، United States اور Israel کے درمیان تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار ہیں۔ حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی راستے فی الحال پس منظر میں چلے گئے ہیں اور عسکری حکمت عملی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
علی عبداللہ العبادی نہ صرف فوجی ترجمان ہیں بلکہ وہ خاتم الانبیا مرکزی ہیڈ کواٹرز کے سربراہ بھی ہیں، جو جنگ کے دوران ایران کا مرکزی آپریشنل کمانڈ سینٹر سمجھا جاتا ہے۔ یہ ادارہ مختلف فوجی یونٹس کے درمیان رابطہ، حکمت عملی کی تشکیل اور میدان جنگ میں کارروائیوں کی نگرانی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات نہ صرف داخلی سطح پر عوامی حوصلہ بلند کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک واضح پیغام ہوتے ہیں کہ ایران کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بیانات ممکنہ طور پر مخالف قوتوں کو خبردار کرنے کا بھی ذریعہ بنتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران نے اپنے مؤقف میں سختی دکھائی ہے، تاہم اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ خطے میں پہلے ہی کئی تنازعات جاری ہیں، اور کسی بھی بڑے تصادم کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر توانائی کی منڈیوں، عالمی تجارت اور سلامتی کے معاملات پر۔
دوسری جانب عالمی برادری مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ کشیدگی کو کم کیا جائے اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ تاہم ایران کی حالیہ پوزیشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال وہ کسی قسم کی مفاہمت کے لیے تیار نہیں اور اپنی عسکری حکمت عملی پر قائم ہے۔
بیان کے اختتام پر ایرانی فوجی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کی دفاعی صلاحیتیں مضبوط ہیں اور وہ ہر ممکن خطرے کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ "فتح تک جدوجہد” کو اپنی حکمت عملی کا مرکزی نقطہ قرار دیا گیا ہے۔



