پاکستاناہم خبریں

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر پاکستان کا دو ٹوک مؤقف، فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی بھرپور حمایت

ہ گزشتہ دو برسوں میں خصوصاً غزہ میں 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے

اقوام متحدہ:
سلامتی کونسل میں قرارداد 2334 کے تحت مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بریفنگ کے موقع پر سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال دن بہ دن زیادہ غیر مستحکم ہوتی جا رہی ہے جبکہ تنازعات میں اضافے کے باعث بڑے تصادم کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
24 مارچ 2026 کو اپنے بیان میں انہوں نے بریفنگ دینے والے اقوام متحدہ کے عہدیداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ خطے کے مختلف بحرانوں کے اپنے اسباب ہیں لیکن مسئلہ فلسطین ہی عرب۔اسرائیل تنازعہ کے مرکز میں موجود ہے جو خطے میں عدم استحکام کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور پائیدار امن کے امکانات کو کمزور کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں میں خصوصاً غزہ میں 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں بھی تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں آبادکاروں کے تشدد نے خطرناک حد اختیار کر لی ہے اور یہ اب الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ فلسطینی آبادی کے خلاف منظم حملوں کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قابض قوت ہونے کے ناطے اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے تمون قصبے میں ایک فلسطینی خاندان پر فائرنگ کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک عام سڑک پر عید کے لیے کپڑے خریدنے جانے والے خاندان کو نشانہ بنایا گیا جس میں والدین اور دو کمسن بچے شہید ہو گئے جبکہ دیگر دو بچے زخمی ہوئے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ عالمی برادری نے امن کے لیے کوششیں جاری رکھی ہیں۔ گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے نیویارک اعلامیے کی توثیق اور امریکی قیادت میں ہونے والی کوششوں نے امن عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ہونے والی کوششوں کو عرب اور اسلامی ممالک کی حمایت بھی حاصل رہی۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد پر مکمل اور نیک نیتی کے ساتھ عملدرآمد ضروری ہے جس میں جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور فلسطینی اتھارٹی کے کردار کو یقینی بنانا شامل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آبادکاری کی توسیع فوری طور پر روکی جائے اور مقبوضہ علاقوں کی آبادیاتی یا قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی تمام کوششیں ختم کی جائیں۔
پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعمیر نو کا عمل فوری شروع کیا جائے اور اس بات کی ضمانت دی جائے کہ فلسطینی علاقوں کا نہ الحاق کیا جائے گا، نہ جبری بے دخلی ہوگی اور نہ ہی انہیں تقسیم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں اور شہریوں کے خلاف تشدد میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔
اپنے بیان کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی غیر متزلزل ہے اور پاکستان حقِ خود ارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑا ہے اور تمام فریقین کو مزید کشیدگی سے گریز کرتے ہوئے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button