
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
بھارت کے معروف جریدے "دی وائر” نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی سفارت کاری نے بھارت کی خارجہ پالیسی کو ہر سطح پر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جریدے کے مطابق پاکستان نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے بڑے دعووں اور خارجہ پالیسی کو عملی سفارت کاری کے ذریعے بے نقاب کر دیا ہے۔ اس رپورٹ میں بھارت کی خارجہ پالیسی کی کمزوریوں اور پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کو نمایاں کیا گیا ہے، جس نے عالمی سطح پر بھارت کو تنہا کرنے کی بھارتی حکمت عملی کو شکست دی ہے۔
پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اہمیت
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی اہمیت اور اثر و رسوخ کو دوبارہ مستحکم کیا ہے۔ واشنگٹن نے اسلام آباد کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر تسلیم کیا ہے، جو بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے برعکس، بھارت کی حکمت عملی، جس میں پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی گئی تھی، بری طرح ناکام ہوئی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بناتے ہوئے ایک مضبوط سفارتی توازن قائم رکھا ہے، جبکہ بھارت کی خارجہ پالیسی نے امریکہ کی تابع داری کو بڑھا دیا ہے۔ دی وائر کے مطابق بھارت کی حکمت عملی نے اسے نہ صرف عالمی سطح پر تنہا کیا ہے بلکہ اس کی اسٹریٹجک خودمختاری اور علاقائی اثر و رسوخ میں بھی کمی آئی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بھارت کی قربت
دی وائر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھارت کی حکومت کو اسرائیل اور امریکہ کا حد سے زیادہ تابع سمجھتی ہے، جو اس کی اسٹریٹجک خودمختاری کو کمزور کرتا ہے۔ پاکستان نے اپنی حکمت عملی کے ذریعے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کیا ہے اور ایک اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ اس کے برعکس، بھارت کی پالیسی نے اسے صرف اسلحہ خریدنے والے ایک ملک کے طور پر پیش کیا ہے، اور امریکہ نے اسے صرف فوجی خریدار کے طور پر دیکھا ہے۔
رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سفارت کاری نے اسے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ ایک متوازن اور مؤثر تعلقات قائم کرنے میں مدد دی، جبکہ بھارت کی خارجہ پالیسی نے اسے صرف امریکہ کی تابعداری میں محدود کر دیا۔ اس سے بھارت کا عالمی سطح پر اثر و رسوخ کم ہوا ہے، اور پاکستان نے ایک کامیاب سفارتی حکمت عملی کے ذریعے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ عالمی سیاست میں توازن اور حکمت عملی کی اہمیت زیادہ ہے۔
پاکستان اور مغربی ایشیا کے ممالک کا اشتراک
دی وائر کے مطابق پاکستان، مصر اور ترکی کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات میں کامیابی حاصل کر چکا ہے، جس سے بھارت کو مغربی ایشیا کے قیادت سے باہر کر دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس نے اسٹریٹجک شراکت داریوں کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اپنے اثر و رسوخ میں بھی اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری نے مغربی ایشیا میں بھارت کی حیثیت کو کمزور کر دیا ہے، جبکہ پاکستان نے اس خطے میں مصر، ترکی اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں اہم پیشرفت کی ہے۔ اس کے برعکس، بھارت کی حکومت مغربی ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں ناکام رہی ہے، اور پاکستان نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس خطے میں اپنی اہمیت کو دوبارہ مستحکم کیا ہے۔
چاہ بہار منصوبہ اور پاکستان کی سفارتی کامیابیاں
دی وائر نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ بھارت نے چاہ بہار میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی، جسے اب خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری نے نہ صرف بھارت کے اس منصوبے کو مشکلات میں ڈالا ہے بلکہ پاکستان کو اس خطے میں ایک اہم سفارتی حیثیت دے دی ہے۔ چاہ بہار پورٹ پر بھارت کی سرمایہ کاری کو ایران کے ساتھ پاکستان کی بڑھتی ہوئی شراکت داری کی وجہ سے بڑا دھچکا لگا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے کامیاب سفارتی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ایران اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کیا ہے، جس سے بھارت کی اقتصادی اور اسٹریٹجک پوزیشن میں کمی آئی ہے۔ پاکستان نے علاقائی استحکام کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنے کردار کو مستحکم کیا، اور اس کے برعکس بھارت صرف اسلحہ خریدنے والے ملک کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔
مودی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی
دی وائر نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت عالمی سطح پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جریدے نے لکھا کہ جس ملک کو پہلے غیر اہم سمجھا جاتا تھا، وہ آج عالمی امن اور استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی نے اسے دنیا بھر میں ایک کامیاب اور بااعتماد کھلاڑی کے طور پر پیش کیا ہے، اور اس کے عالمی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کو عالمی مفادات کے مطابق ڈھالتے ہوئے، عالمی سیاست میں ایک نیا توازن قائم کیا ہے، جبکہ بھارت اپنی خارجہ پالیسی میں صرف امریکہ اور اسرائیل کی تابعداری تک محدود رہ گیا ہے۔
اختتام
"دی وائر” کی رپورٹ نے بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی اور پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کو اجاگر کیا ہے۔ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے، جبکہ بھارت اپنی خارجہ پالیسی میں تنہائی اور محدودیت کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ رپورٹ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی کامیاب سفارت کاری اور حکمت عملی نے بھارت کے دعوؤں کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے، اور پاکستان نے اپنے عالمی اثر و رسوخ کو مستحکم کرتے ہوئے بھارت کی خارجہ پالیسی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔



